اے ابنِ آدم! موت تیرے کان میں گدگدی کر رہی ہے، کچھ کہہ رہی ہے سن!

خامہ بکف محمد پالن پوری
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اے انسان! کبھی اس کالے ناگ ( موبائل ) سے دور تنہائی میں بیٹھ کر اپنے دل کی آواز سن! موت تیرے کان کے بالکل قریب جھک کر سرگوشی کر رہی ہے، تجھے کچھ کہہ رہی ہے `أيامًا معدودات` بس گنتی کے چند دن۔ اتنے کم کہ انگلیوں پر رکھے جائیں تو شرما جائیں۔ تُو جن سالوں کو لمبا سمجھتا رہا وہ دراصل لمحوں کا قرض تھے۔ اور دیکھ! قرض کی واپسی کا دن خاموشی سے قریب آ رہا ہے۔۔۔۔۔
سوچ اے ابنِ آدم! کتنی صبحیں تھیں جو دعا کے بغیر گزر گئیں۔ کتنی راتیں تھیں جو اس کالے ناگ کی روشنی میں جل گئیں مگر سجدے کی روشنی نہ دیکھ سکیں۔ کتنے دل توڑے، کتنی زبانیں زخمی کیں، کتنی بار رب نے ڈھانپا، چھپایا اور تجھے مہلت دی اور تُو نے تو اسے معمول سمجھ لیا۔ اگر آج پردہ ہٹ جائے اور تیرا نام پکار لیا جائے تو کیا تُو تیار ہے؟ کیا تیرے پاس کوئی ایسا عمل ہے جسے سینے سے لگا کر کہہ سکے کہ یا رب! یہی لے آیا ہوں؟
میرے دوست! زندگی ریت کی گھڑی ہے اوپر سے نیچے گرتی ہوئی۔ تُو سمجھ رہا ہے وقت باقی ہے مگر اصل میں وقت تجھ سے باقی نہیں۔ سب کچھ یہیں رہ جانا ہے مکان، کپڑے، لوگ، تعریفیں، منصوبے۔صرف ایک چیز ساتھ جائے گی یعنی وہ لمحے جب تُو نے خلوص سے رب کو یاد کیا، جب تُو نے کسی کو معاف کیا، جب تُو نے چپکے سے نیکی کی۔ باقی سب ایسے بکھر جائے گا جیسے خواب آنکھ کھلتے ہی ٹوٹ جاتا ہے۔۔۔۔
اور سب سے بھاری لمحہ وہ ہوگا میرے دوست جب روح پلٹ کر دیکھے گی اور دل کہے گا کاش ایک دن اور مل جاتا۔ کاش میں نے زندگی کو کھیل نہ سمجھا ہوتا۔ کاش میں نے اپنے رب سے اتنی دوری نہ بنائی ہوتی۔ آنکھیں نم ہوں گی مگر واپسی کا راستہ بند ہوگا۔ اس احساس سے بڑا کوئی درد نہیں کہ موقع تھا اور میں نے کھو دیا۔
ابھی بھی سانس چل رہی ہے تیری۔ ابھی بھی دروازہ بند نہیں ہوا۔ ابھی بھی تُو پلٹ سکتا ہے۔ رب انتظار سے تھکتا نہیں۔ بس ایک سچی ندامت اور ایک سچا سجدہ اور برباد زندگی بھی معنی پا لیتی ہے۔۔۔۔
یاد رکھ! یہ جو أيامًا معدودات کہا وہ تجھے جگانے کے لئے کہا ہے نا کہ ڈرانے کے لئے تاکہ تُو رونے سے پہلے لوٹ آئے اور لوٹ کر ایسا جئے کہ جب بلایا جائے تو دل کانپے کے بجائے جھک جائے۔۔۔۔۔۔۔۔