شہید کی کرامت

غزہ کی سرزمین آج پھر ایک ایسی داستان سنا رہی ہے جو ایمان کو تازہ اور دلوں کو جھنجھوڑ دینے والی ہے۔ شمالی غزہ کے علاقے جبالیا البلد سے تعلق رکھنے والے شہید محمد جمال سعد جو ڈیڑھ سال سے زائد عرصہ سے لاپتہ تھے، بالآخر غزہ کے علاقے سوق الشیخ رضوان میں ایک قبر سے نکالے گئے۔ حیرت انگیز طور پر جب ان کے جسدِ خاکی کو نکالا گیا تو دیکھا گیا کہ ان کے جسم میں کسی قسم کی تبدیلی واقع نہیں ہوئی تھی۔
یہ واقعہ ہمیں قرآن کریم کی اس حقیقت کی یاد دلاتا ہے کہ اللہ کی راہ میں جان قربان کرنے والے مردہ نہیں ہوتے بلکہ زندہ ہوتے ہیں، جیسا کہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
"اور جو لوگ اللہ کی راہ میں قتل کیے جائیں انہیں مردہ نہ کہو، بلکہ وہ زندہ ہیں لیکن تم شعور نہیں رکھتے۔" (البقرہ: 154)
شہداء کی زندگی اور ان کی کرامتیں تاریخِ اسلام کا روشن باب ہیں۔ میدانِ بدر سے لے کر آج کے مظلوم فلسطین تک، اللہ تعالیٰ نے اپنے برگزیدہ بندوں کو ایسے اعزازات سے نوازا ہے جو اہلِ ایمان کے لیے حوصلے اور یقین کا سبب بنتے ہیں۔ شہید محمد جمال سعد کا جسد مبارک محفوظ رہنا اس بات کی علامت ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے راستے میں قربانی دینے والوں کو ایک خاص مقام عطا فرماتا ہے۔
فلسطین کی سرزمین آج بھی قربانیوں سے سرخ ہے، لیکن انہی قربانیوں میں امت کے لیے امید کی کرن بھی موجود ہے۔ شہداء کے یہ واقعات ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ ظلم وقتی ہوتا ہے جبکہ حق اور قربانی ہمیشہ زندہ رہتی ہے۔
شہداء کی کرامت صرف غزہ تک ہی محدود نہیں ہیں ۔
شہید چاہے فلسطینی ہو یا عراقی ،افغانی ،ہو یا کوئ اور اتحادی افواج کے خلاف لڑا ہو،یاانڈین آرمی کے خلاف کشمیر کا ہو یا کسی اور جگہ سے ۔
شہید زندہ ہوتا ہے ،بشرطیکہ اس کی جنگ اسلام کے لے ہو٫ ناکہ اپنی خواہشات کے لے۔
اللہ تعالیٰ تمام شہداء کے درجات بلند فرمائے آمین