غزہ: دجالی ٹارگٹ کلنگ کی لرزہ خیز کہانی
الجزیرہ کی ایک تہلکہ خیز تحقیقی رپورٹ نے غزہ میں ہونے والی ایک ٹارگٹ کلنگ کے وہ مناظر اور تفصیلات بے نقاب کر دی ہیں جو عموماً خفیہ جنگوں کے اندھیرے میں دفن رہتے ہیں۔ یہ دجالی انٹیلی جنس کی براہ راست نگرانی میں انجام دی گئی ایک مکمل آپریشنل کارروائی تھی۔
14 دسمبر کی صبح، اسرائیلی ہدایات پر کام کرنے والی ایک مقامی مسلح ملیشیا کے 2 افراد کو داخلی سیکورٹی کے نائب سربراہ احمد عبدالباری زمزم عرف ابو المجد کو قتل کرنے کا ٹاسک دیا گیا۔ ابو المجد وہ افسر تھے جو جنگ کے دوران اور بعد میں قابض فوج سے تعاون کرنے والی ملیشیاؤں کے خلاف فیصلہ کن کارروائیاں کر رہے تھے، ان کے نیٹ ورکس میں دراڑیں ڈال چکے تھے اور کئی عناصر کو ہتھیار ڈالنے پر مجبور کر چکے تھے۔ اسی بنا پر اسرائیلی انٹیلی جنس نے انہیں ’’ہائی ویلیو ٹارگٹ‘‘ قرار دیا۔
تحقیق کے مطابق حملہ آور، دجالی ایجنٹ شوقی ابو نصیرہ (سابق فلسطینی سیکورٹی افسر) سے منسلک ملیشیا کا حصہ تھے۔ دونوں کو غزہ کے پیلی لکیر کے پیچھے، اسرائیلی کنٹرول والے علاقوں میں منتقل کیا گیا جہاں انہیں براہِ راست اسرائیلی فوجی اڈے کسوفیم پر تربیت دی گئی۔ وہاں انہیں گلاک پستول، سائلنسر اور قریبی فاصلے سے ٹارگٹ کلنگ کی عملی مشق کرائی گئی۔
کارروائی کے دن پورا راستہ ڈرونز اور کواڈ کاپٹرز کی نگرانی میں تھا۔ حملہ آوروں کے لباس پر نصب کیمرہ اسرائیلی افسر کو لائیو ویڈیو فیڈ دے رہا تھا، جو لمحہ بہ لمحہ انہیں ہدایات دے رہا تھا کہ کہاں رکنا ہے، کب آگے بڑھنا ہے اور کب فائر کھولنا ہے۔ یعنی گولی ایجنٹ نے چلائی، مگر فیصلہ اسکرین کے پیچھے بیٹھے افسر نے کیا۔
ایک موقع پر اچانک صورتحال بدلنے سے آپریشن کے ناکام ہونے کا خدشہ پیدا ہوا، مگر بالآخر ابو المجد کو ان کی گاڑی کے قریب نشانہ بنا لیا گیا۔ فرار کے دوران اسرائیلی افسر سے رابطہ منقطع ہو گیا، جس کے بعد کیمرہ اٹھائے حملہ آور جو صرف ایک ماہ قبل بھرتی ہوا تھا گرفتار ہو گیا، جبکہ دوسرا اسرائیلی زیر کنٹرول علاقوں میں فرار ہونے میں کامیاب رہا۔
گرفتار ایجنٹ نے اعتراف کیا کہ اس کی ملیشیا میں تقریباً 50 مسلح افراد شامل ہیں، جن کے ذمے مزاحمتی سرنگوں کی نشاندہی، مطلوب افراد کی مخبری، اغوا اور اسرائیل کے حوالے کرنا، امدادی ٹرکوں کی لوٹ مار اور شہداء کی لاشوں کی بے حرمتی وغیرہ شامل تھی۔ یہ سب کام دجالی فوج اور ڈرونز کے تحفظ میں انجام دیئے جاتے رہے۔
رپورٹ کے مطابق غزہ میں جاری نسل کشی صرف بمباری تک محدود نہیں، بلکہ ایک گہری، پیچیدہ اور بے رحم انٹیلی جنس جنگ بھی ہے، جہاں ایجنٹ استعمال ہوتے ہیں، مقامی ملیشیائیں بنائی جاتی ہیں اور قتل ’’ریموٹ کنٹرول‘‘ سے کرائے جاتے ہیں۔
#Gaza #AlJazeera #Mossad #TargetedKilling #DroneWarfare #IntelligenceWar #غزہ #ابو_المجد #خفیہ_جنگ #جرائم #فلسطین #فلسطين #WarCrimes