خاموشی کی حکمت

✍️ مُحمّد سلیمان قریشی 
بسم الله الرحمن الرحيم
انسانی زندگی کا تمدنی ڈھانچہ جس اخلاقی اساس پر قائم ہے، اس میں "قوتِ گویائی" کو ایک بنیادی اہمیت حاصل ہے۔ لیکن یہ بات اچھی طرح سمجھ لینی چاہیے کہ اسلام جس بلند پایہ کردار کی تعمیر کرنا چاہتا ہے، اس میں جتنا وزن "تعمیری گفتگو" کا ہے، اس سے کہیں زیادہ اہمیت "حکیمانہ خاموشی" کی ہے۔ ایک ذمہ دار انسان کا شیوہ یہ نہیں ہے کہ وہ ہر جگہ اپنی زبان کے جوہر دکھائے، بلکہ اصل کمال یہ ہے کہ وہ یہ جانتا ہو کہ کن مقامات پر خاموشی اختیار کرنا عین تقاضائے بندگی ہے۔

علم کی ذمہ داری اور فکری دیانت
اسلامی نقطہ نظر سے گفتگو محض لفظوں کا مجموعہ نہیں بلکہ ایک ذمہ دارانہ فعل ہے۔ جب کسی شخص کے پاس کسی معاملے کی مکمل حقیقت موجود نہ ہوں یا اس کا علم ظن و تخمین پر مبنی ہو، تو اس کا لب کشائی کرنا معاشرے میں فتنہ و فساد کا پیش خیمہ بنتا ہے۔ قرآنِ مجید اس سلسلے میں ایک نہایت واضح ضابطہ پیش کرتا ہے: وَلَا تَقْفُ مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ ۚ إِنَّ السَّمْعَ وَالْبَصَرَ وَالْفُؤَادَ كُلُّ أُولَٰئِكَ كَانَ عَنْهُ مَسْئُولًا (الآية) اور اس بات کے پیچھے نہ لگ جس کا تجھے علم نہیں، بے شک کان، آنکھ اور دل، ان سب کے بارے میں (قیامت کے دن) سوال کیا جائے گا۔" (سورہ الاسراء: 36)
یہ آیت اس حقیقت کو بے نقاب کرتی ہے کہ انسان کا ہر قول اس کے ریکارڈ میں درج ہو رہا ہے اور اسے اپنی زبان کی بے راہ روی کا جواب دینا ہوگا۔

غصہ اور جذبات پر اخلاقی کنٹرول
انسانی زندگی میں بسا اوقات ایسے لمحات آتے ہیں جب غصہ اور اشتعال عقل کے توازن کو مختل کر دیتے ہیں۔ ایسے میں زبان سے نکلے ہوئے کلمات کسی تعمیری مقصد کے بجائے تخریب کا کام کرتے ہیں۔ نبی کریم ﷺ نے اس انسانی کمزوری کا علاج "سکوت" میں قرار دیا ہے۔ آپ ﷺ کا ارشادِ گرامی ہے: إِذَا غَضِبَ أَحَدُكُمْ فَلْيَسْكُتْ "جب تم میں سے کسی کو غصہ آئے تو اسے چاہیے کہ وہ خاموش ہو جائے۔" (مسند احمد: 2136)
یہ خاموشی کوئی بزدلی نہیں، بلکہ "نفس" پر اس اخلاقی برتری کا نام ہے جو ایک مومن کو غیر ذمہ دارانہ طرزِ عمل سے محفوظ رکھتی ہے۔

سماجی تعلقات کا تحفظ
معاشرت میں رشتوں کا قیام اور ان کا استحکام بڑی حد تک زبان کے درست استعمال پر منحصر ہے۔ جب گفتگو کا مقصد حق کی تلاش کے بجائے دوسرے کی تحقیر، اس کے اعتماد کو ٹھیس پہنچانا یا اپنی انا کی تسکین ہو، تو ایسی گفتگو اسلامی اخلاقیات کے سراسر منافی ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے ایمان کی اساسی شرط ہی یہ قرار دی ہے: مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ فَلْيَقُلْ خَيْرًا أَوْ لِيَصْمُتْ "جو اللہ اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتا ہے، اسے چاہیے کہ اچھی بات کہے یا خاموش رہے۔" (صحیح بخاری: 6018)
یہ ضابطہ واضح کرتا ہے کہ اگر آپ کے پاس کہنے کے لیے کوئی خیر کی بات نہیں ہے، تو خاموش رہنا ہی سلیم العقل ہونے کی دلیل ہے۔

تزکیۂ نفس اور خود ستائی سے اجتناب
سلف صالحین کے طرزِ عمل کا مطالعہ کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ وہ اپنی زبانوں پر پہرہ بٹھاتے تھے۔ حضرت ابوبکر صدیقؓ کا اپنی زبان کو پکڑ کر یہ کہنا کہ "یہی وہ چیز ہے جو مجھے ہلاکت کے راستوں پر ڈالتی ہے"، دراصل اس گہری ذمہ داری کا احساس تھا جو ایک خادمِ دین کے پیشِ نظر ہونی چاہیے۔ جب انسان دوسروں کی کمزوریوں کے وقت اپنی بڑائی بیان کرنے لگے یا صرف اپنی تعریف کروانے کے لیے بولے، تو وہ دراصل کبر کی بیماری میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ ایسے میں خاموشی نفس کی اصلاح کا بہترین ذریعہ ثابت ہوتی ہے۔
مذکورہ بالا تمام پہلوؤں کا جائزہ لینے سے یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ خاموشی کوئی منفی عمل نہیں بلکہ ایک مثبت "اخلاقی قوت" ہے۔ اس شعار کو اپنانے سے نہ صرف ہماری انفرادی زندگی میں وقار پیدا ہوتا ہے بلکہ اجتماعی زندگی بھی بہت سے فتنوں سے پاک ہو جاتی ہے۔ درحقیقت، جہاں زبان کی حدیں ختم ہوتی ہیں، وہیں سے خاموشی کی حکمت شروع ہوتی ہے، جو انسان کو ایک ذمہ دار اور باوقار رکنِ معاشرہ بناتی ہے۔

رَبِّ اشْرَحْ لِي صَدْرِي ۝ وَيَسِّرْ لِي أَمْرِي ۝ وَاحْلُلْ عُقْدَةً مِّن لِّسَانِي ۝ يَفْقَهُوا قَوْلِي