*انسانیت سرحدوں سے ماورا ایک رشتہ*
دنیا کے نقشے پر ہزاروں سرحدیں کھینچی جا چکی ہیں، مختلف رنگوں سے ملکوں کو الگ الگ دکھایا گیا ہے، زبانوں نسلوں قومیتوں اور مذہبوں کے اختلاف نے انسانوں کے درمیان فاصلے پیدا کر دیے ہیں مگر ایک ایسی حقیقت ہے جو ان تمام سرحدوں سے بلند ہے جو ہر رنگ، نسل اور مذہب کو جوڑنے والی زنجیر ہے وہ ہے انسانیت جس کا معیار سب سے اعلی ہے، انسانیت دراصل اس روح کا نام ہے جو ہر دل میں ایک جیسی تڑپ پیدا کرتی ہے، جو کسی کے دکھ پر رنجیدہ اور کسی کی خوشی میں مسرور ہوتی ہے،انسانیت کسی خاص مذہب، نسل یا قوم کی میراث نہیں، بلکہ یہ ہر اس جگہ کا مسئلہ ہے جہاں انسان بستے ہیں،
جہاں کوئی بھوکا ہے، جہاں کوئی ظلم سہہ رہا ہے، جہاں کسی ماں کی آنکھوں میں اپنے بچے کے لیے آنسو ہیں وہاں انسانیت پکار اٹھتی ہے، چاہے وہ زمین کسی بھی ملک کی ہو.
لیکن افسوس آج اسی دنیا میں، جہاں انسانیت کے نعرے لگائے جاتے ہیں، وہاں انسانوں پر ظلم کے پہاڑ توڑے جا رہے ہیں، کچھ لوگ جو خود کو مہذب اور انسانیت کا ڈھنڈورا پیٹتے والا بتاتے ہیں درحقیقت حیوانیت کا لبادہ اوڑے ہوئے ہیں اور انسانیت سے ماوراء ہیں
یہ وہ لوگ ہیں جو مظلوموں کے خون سے اپنے ہاتھ رنگتے ہیں، مگر اقوام عالم کے سامنے امن و انصاف کے ٹھیکیدار بن کر آتے ہیں، ان کے چہروں پر انسانیت کے نقاب ہیں، مگر دلوں میں بربریت کی تاریکی چھپی ہے
یہی وہ دوغلا پن ہے جس نے انسانیت کو مجروح کر دیا ہے.
آج جب کوئی قوم جنگ کا شکار ہوتی ہے، جب معصوم بچوں کی لاشیں ملبے تلے سے برآمد ہوتی ہیں، تو انسانیت چیخ اٹھتی ہے، مگر دنیا کے بڑے طاقت ور ممالک خاموش تماشائی بنے رہتے ہیں،
یہی وہ خاموشی ہے جو انسانیت کی موت پر ماتم کرتی ہے،
اسلام نے انسانیت کے اسی پہلو کو اجاگر کیا ہے اور دنیا کو بتا دیا جس کے اندر انسانیت نہیں وہ انسانی شکل تو ہو سکتی، لیکن مسلمان نہیں بلکہ وہ، وہ قوم ہے جو جانوروں سے بھی بدتر ہے اللہ کریم فرماتا ہے قرآن میں
(وَلَقَدْ كَرَّمْنَا بَنِي آدَمَ)
اور بے شک ہم نے آدم کی اولاد کو عزت بخشی.
یعنی انسان ہونے کے ناطے ہر شخص قابلِ احترام ہے، خواہ وہ کسی بھی قوم، مذہب یا خطے سے تعلق رکھتا ہو
نبی کریم ﷺ نے فرمایا
(الخلق عیال اللہ، فأحبّ الخلق إلی اللہ أنفعهم لعیاله)
یعنی تمام مخلوق اللہ کا کنبہ ہے، اور اللہ کے نزدیک سب سے محبوب وہ ہے جو اس کے بندوں کے لیے سب سے زیادہ فائدہ مند ہو.
دنیا کو آج سب سے زیادہ جس چیز کی ضرورت ہے وہ یہی جذبۂ انسانیت ہے, ایسا جذبہ جو نفرتوں کے بیچ پل بنائے، جو ظلم کے مقابلے میں رحمت بن جائے، اور جو خودغرضی کے طوفان میں بھی محبت کی شمع جلائے، انسانیت دراصل وہ زبان ہے جو دلوں سے بولی جاتی ہے، اور وہ احساس ہے جو سرحدوں سے نہیں رُکتا، اگر ہم نے اس احساس کو زندہ رکھا تو دنیا امن و عدل کا گہوارہ بن سکتی ہے، اور اگر ہم نے اسے بھلا دیا تو ترقی کے باوجود انسانیت مٹ جائے گی.
اور انسانیت کا نعرہ لگانے والے مکار امریکہ، اسرائیل اور اسکے چیلے چپاٹے جنہوں نے بے انتہا ننہی ننہی جانو کو ملبے کا ڈھیر بنا دیا جنہوں بچوں بوڑھوں اور بے گناہ لوگوں کی جانیں لے لیں اور خود کو ٹیرارزم سے ہمکنار سمجھتے ہیں، لیکن یقینا میرا خدا وہ ہے جس نے تمہارے باپ دادوں فرعون نمرود شداد ابو جہل ابو لہب عتبہ شیبہ یزید پلید (لعنة الله تعالى عليهم أجمعين) کو عبرتناک بنایا وہ دن دور نہیں وہ تمہیں بھی ایسا ہی بنا دے گا انشاءاللہ، میرے رب کی نگاہوں سے تمہارے ظلم و جبر چھپ نہیں سکتے.
انسانیت کا ڈھنڈورا پیٹنے والے حکمران، سیاستدان، جو کبھی مساجد و مدارس اور کبھی خانقاہوں کبھی مسلم لیگ، دیکھ ظلم و تشدد کا شکار بناتے ہیں اور پڑوسی ملک میں فلسطین کے سمرتھن میں نکالنے والے جلوس پر گولیاں چلا کر گیارہ بارہ لوگوں کو شہید کر دیا جاتا ہےاور بے انتہا مسلمانوں کو زخمی کر دیا جاتا ہے امریکہ کے ٹکڑوں پر پلنے والوں ایک دن یقینا حساب کا ہے تمہاری دھجیاں بکھیر دی جائیں گی اس دن دیکھنا، اور تم کوئی پناگاہ نا پاؤ گے.
اللہ کریم مسلمانوں کی حفاظت فرمائے اور امن و سلامتی عطا فرمائے جو شہید ہو گئے ہیں انکے درجات کو بلند فرمائے اور زخمیوں کو سکون عطا فرمائے آمین یارب العالمین بجاہ النبی الکریم ﷺ.
✍️متعلم الجامعۃ الاشرفیہ✍️