*تحفظ شریعت و تحفظ ختم نبوت میں صحابیات کا کردار*
نحمدہ و نصلی علی رسولہ الکریم
أعوذ باللہ من الشیطٰن الرجیم
بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم
ماکان محمد اباء أحد من رجالکم و لکن رسول اللہ وخاتم النبیین
إِنَّ الْمُسْلِمِينَ وَالْمُسْلِمَاتِ وَالْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ وَالْقَانِتِينَ وَالْقَانِتَاتِ وَالصَّادِقِينَ وَالصَّادِقَاتِ وَالصَّابِرِينَ وَالصَّابِرَاتِ وَالْخَاشِعِينَ وَالْخَاشِعَاتِ وَالْمُتَصَدِّقِينَ وَالْمُتَصَدِّقَاتِ وَالصَّائِمِينَ وَالصَّائِمَاتِ وَالْحَافِظِينَ فُرُوجَهُمْ وَالْحَافِظَاتِ وَالذَّاكِرِينَ اللَّهَ كَثِيرًا وَالذَّاكِرَاتِ أَعَدَّ اللَّهُ لَهُم مَّغْفِرَةً وَأَجْرًا عَظِيمًا".
إن الرسالة والنبوة قد انقطعت، فلا رسول بعدي ولا نبي!
خدا تعالی نے بے شمار مخلوقات کو وجود بخشا ہے اس میں چند مشہور اور بندگی میں مصروف مشرف مخلوقات فرشتہ جن انسان ہیں انسان کی تحسین اللہ نے قران مجید میں اس طرح بیان فرمائی ہے *لقد خلقنا الانسان فی احسن تقویم*
یہ کلام ذات انسان کے حق میں بڑی ہدایت پر فضیلت میں سر کرتا ہے خداوندوس نے قرآن مجید میں *ھدی للناس* فرما کر ہم انسانوں کو ہدایت قرآن سے وابستگی مقدر فرما دیا قرآن مجید میں *لایمسہ الّا المطھرون* فرماکر ہمیں پاکی کی حالت میں قرآن کے قریب ہونے کی تاکید کرتاہے قرآن مجید میں *کنتم خیر امۃ اخرجت للناس* فرماکر ہمیں ذمہ دار بناتا ہے *تأمرون بالمعروف وتنھون عن المنکر* کے فریضہ کو ضرور قرار دیتا ہے
پوری قرآن مجید میں بیان کی گئی ساری ہدایات میں اللّہ انسانوں کو خطاب فرمایا ہے اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں بیشمار امور بیان فرمائے ہیں !
جن میں نماز کا تذکرہ کرتے ہیں روزے کا حکم بیان کرتے ہیں احکام حج اور عمرہ بیان کرتے ہیں غوث الوضو تیمم کے امور بیان کرتے ہیں قران کو کیسے پڑھنا قران ہی میں بتاتے ہیں مومنین کا تذکرہ کرتے ہیں مشرکین کا تذکرہ کرتے ہیں منافقین کا تذکرہ کرتے ہیں پچھلے نبیوں کا تذکرہ کرتے ہیں حضرت ادم کا ذکر حضرت نوح کا ذکر حضرت ابراہیم کا ذکر حضرت اسماعیل کا ذکر حضرت یعقوب کا ذکر حضرت یوسف کا ذکر حضرت یونس کا ذکر حضرت سلیمان کا ذکر حضرت عیسی کا ذکر اور اخر میں ہمارے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا بھی تذکرہ فرماتے ہیں اور یہ بھی وضاحت دیتے ہیں کہ کون نبی تھے کان رسول تھے کس نے کیا کیا رول ادا کیا یہ بھی بتلاتا ہے کہ فلاں نبی تھے فلاں قوم کے ہر اتنے سال تک ان کی نبوت چلی لیکن جب حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت اور رسالت کا تذکرہ فرمایا تو کہا *ماکان محمد اباء أحد من رجالکم و لکن رسول اللہ وخاتم النبیین*
معلوم ہوا کے سلسلہ وار جتنے نبی آنے تھے آگئے اللہ تعالی نے سلسلے کا اختتام حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر فرمایا ہے محمد صلی اللہ علیہ وسلم تم میں سے بالغ مردوں کے باپ نہیں ہیں لیکن وہ اللہ کے رسول اور آخری نبی ہیں ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر نبیوں کا سلسلہ ختم فرمایا اور قرآن مجید میں اللہ تعالی نے تقریباً 100 مرتبہ نبی کے آخری ہونے کو ہر اعتبار سے سمجھایا ہے کہیں فرمایا *الَّذِيْنَ يُؤْمِنُوْنَ بِمَآ اُنْزِلَ اِلَيْكَ وَمَآ اُنْزِلَ مِنْ قَبْلِكَ ۚ وَبِالْاٰخِرَةِ ھُمْ يُوْقِنُوْنَ*
اور یہ لوگ اس (کلام) پر ایمان لاتے ہیں جو آپ کی طرف نازل کیا گیا اور جو آپ سے پہلے نازل کیا گا اور یہی لوگ آخرت پر یقین رکھتے ہیں
کہیں فرمایا *الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الإِسْلاَمَ دِينًا*
تمہارے لئے دین کو کامل کردیا ہے اور اپنی نعمتوں کو تمام کردیا ہے اور تمہارے لئے دین اسلام کو پسندیدہ بنادیا ہے
کہیں فرمایا *قل يا أيها الناس إني رسول الله إليكم جميعا* اے نبی! آپ کہہ دیں کہ اے انسانو! بیشک میں اللہ کا سچا رسول ہوں، تم سب کی طرف
کہیں فرمایا *وَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلَّا رَحْمَةً لِّلْعَالَمِينَ*
قرآن مجید میں عقیدہ ختم نبوت کو بڑے ہی واضح انداز میں بیان فرمایا پھر اس کے بعد تحفظ ختم نبوت کے سلسلے میں اللّہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا *انا نحن نزلناالذکر وانا لہ لحافظون* اللہ پاک نے اس آیت سے تحفظ قرآن
تحفظ شریعت
اور تحفظ ختم نبوت کو
بیان کرتے ہوئے ہم پر تحفظ کی ذمہ داری عائد کر رہا ہے
اور فرمایا ہم نے حفاظت کی ذمہ داری کو طے کر دیا ہے احکام شریعت بھی
احکام قرآن بھی
نبوت و رسالت بھی سارا کا سارا احکام الہی ہے
جو اللہ تعالی نے نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے قلب اطہر پر نازل فرما کر سارے عالم میں عام فرمایا ہے پھر *کنتم خیر امۃ* کے ذریعے سے امت محمدیہ جو تا قیامت آنے والی مسلم مومن اور قرآن سے منور ہونے والی قوم کو
خدمت و تحفظ کی ترغیب دلاتا ہے کہ اچھے کاموں کے میدان قائم کرو
اچھے کاموں کی تلقین کرو
اور سارے احکام شریعت کی حفاظت کرو
بالخصوص تحفظ ختم نبوت پر زور دیا کہ اب محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت آخری نبوت ہے اس کے بعد کوئی نبوت نہیں ہے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کے بعد تشریعی کام بند ہو گیا تحفظ کا کام شروع ہو گیا کیونکہ یہ نبوت یٹ رسالت یہ شریعت تا قیامت جاری رہنے والی ہے اس لیے اللہ تعالی نے حفاظت کتاب کا کام حفاظت شریعت کا کام حفاظت احکام کا کام اور حفاظت ختم نبوت کے کام کی فضیلت و اہمیت بیان فرما کر ہمیں تحفظ کی تعلیم اور ذمہ داری عطا فرمایا ہے جس کے ذریعے سے قرب الہی قرب نبوی حاصل کرنے کا ذرین موقع میسر فرمایاہے اور یاد رکھیں جس طرح اللہ نے سارے احکام مثلا نماز روزہ زکوۃ حج اخلاق دیگر احکام مرد عورت کے لیے یکساں رکھا ہے ویسے ہی تبلیغ دین تعمیل دین تحفیظ دین کی ذمہ داری بھی دونوں پر عائد کی ہے دونوں میں سے کوئی ایک بھی اس امر سے باہر نہیں ہے حضرات صحابیات کی زندگی ہم خواتین کے لیے بہترین نمونہ اور آئیڈیل ہے
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہ کی علمی صفت احادیث کا کثرت سے بیان کرنا
صحابہ کا حضرت عائشہ سے علم کا حاصل کرنا
وقت کی فقیہ ہونا
بڑی سخاوت سے راہ خدا میں مال کا خرچ کرنا
غزوہ و جہاد میں آپ کا دوپٹہ لے کر اسلام کا جھنڈا بنایا جانا
بڑی دل نشین
تاریخ صحابیات کی ہمیں ملتی ہے
جس سے یہ بات سمجھ آتی ہے کہ عورتوں کی محنت نے اسلام کو بڑا رنگ دیا ہے
حضرت خدیجۃ الکبری نے اللہ تعالی نے بڑی خدمت اسلام لیا ہے نبی کا آسرہ بنا کر خدمت اسلام میں ان کا سارا مال لگایا
نبی کی مد د کی خدمت کا یہ شرف اللہ پاک نے ذات طاہرہ حضرت خدیجہ کو عطا فرمایاہے
یہ بھی تحفظ ختم نبوت میں بڑا کردار ہمیں ملتا ہے
پھر حضرت سمیہ رضی اللہ عنہاکی تاریخ کس سے ڈھکی چھپی نہیں ہے اسلام کی حفاظت گویا تحفظ نبی اور تحفظ ختم نبوت ہے اسلام کا انکار اس قدر ناپسند کیا کہ اپنی جان ہاتھوں دھو بیٹھی لیکن ہمارے نبی کے خلاف ایک شبد بھی زبان سے نکالنا ناپسند کیا
اور ایسے ہی حضرت خنساء رضی اللہ تعالی عنہا کا کردار ہمارے سامنے ہیں انہوں نے اپنی ساری اولاد کو خدمت اسلام میں صرف کر کے جام شہادت کا درس دیا اور ہمارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کا مرتبہ اور ان کی قربانیوں کا مرتبہ ان کی نبوت و رسالت کا مرتبہ ان کے اخلاق کا مرتبہ ان کے اوصاف کا مرتبہ اس لیول اور اس معیار کا ہے جس کا کما حقہ کوئی
نہ تذکرہ کر سکتا ہے
نہ من جملہ اکٹھا کر سکتا ہے
نہ اس کی توسیع کو پہنچ سکتا ہے
نہ اس کی تحسین پر لب کشائی کر سکتا ہے
سیرت آقا ایسا سمندر ہے جس پر نظر ڈالیں تو منتہائے نظر کی حد مقدر ہوتی ہے
لیکن منتہی بحر سیرت النبی کی حد مقدر نہیں ہو سکتی ہے ہمارے نبی کی شان خدائے ذوالجلال بیان کرتا ہے تو ہم نبی کے پیروں کے دھول کی تک توصیف بیان کرنے کے لیے ناپاک زبان کے حامل ہے ناپاک کردار کے قابل ہے اس کی اہلیت ہم نہیں رکھتے بس نقل کرنے کی کوشش کرتے ہیں تاکہ ہماری زبان سے کچھ نیکی صادر ہو جائے
پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں عبادت خدا کے مختلف طرز و طریقے بتائے ہیں کبھی نماز جیسے امر کی ادائیگی سے قرب الہی کا نقشہ بیان فرمایا کبھی تلاوت قرآن کے ذریعے سے بندگی کا اصول بتایا
کبھی ذکر الہی کے ذریعے سے عشق خدا کے راستے بتائے پھر اللہ کے اس فرمان کے مطابق اپنی پیروی کے آداب سکھلائے *وَمَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَانتَهُوا*
انسانیت سکھلائی
آداب زندگی
آداب بندگی سکھلایا
نبی کی محنت
نبی کی محبت
نبی کا ایثار
اس میں صحابہ کی شاگردیت صحابہ کا نبی سے مستفیض ہونا
ہمارے لیے عمل میں بڑی مدد پیدا کرتا ہے
صحابہ کا نبی سے قرب حاصل کرنے کا مزاج ہمارے مزاج کو حب نبی کا رخ دیتا ہے
الغرض نبی اعلی
نبی کی صفات اعلی
نبی کی نبوت ختم نبوت اعلی
اس کی خدمت کرنے والا اعلی
جن میں صحابیات کی فہرست بھی شامل ہے اور اس میں سرفہرست مجاہدۂ ختم نبوت محترمہ صحابیہ ام عمارہ رضی اللہ تعالی عنہا کا نام جلی حروف میں نظر آتا ہے سیدہ ام عمارہ عقبہ میں بیعت کرنے والی مردوں جوانوں سے میدان جنگ میں لڑنے والی تھی وہ نماز روزے کی پابند بڑی پر اعتماد خاتون تھی آپ بڑی نہایت جری اور بہادر خاتون تھی جن جن غزوات میں آپ نے شرکت کی ان سب میں وفا شعاری اور ایثار و قربانی کے ساتھ کمال درجے کا مظاہرہ کیا آپ نے غزوہ احد میں غزوہ خیبر میں عمرۃ القضا میں غزوہ حنین میں اور جنگ یمامہ میں بیعت رضوان میں بھرپور حصہ لیا جنگ یمامہ میں بڑی دلیری سے شرکت فرمائی
11 ہجری ، رسول اللہ صل اللہ کے ظاہری رحلت فرمانے کے بعد جب حضرت سیدنا ابو بکر صدیق صلی اللہ تخت خلافت پر فائز ہوئے تو دفعہ سارے عرب میں ہر طرف سے فتنے اُٹھنے لگے۔ مرتدین کی سرکوبی کے لیے جو معر کے پیش آئے ، اُن میں سب سے شدید معرکہ مسیلمہ کذاب کا تھا۔ اس نے مرتد ہو کر نبوت کا دعوی کیا تھا۔ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ظاہری زمانہ تھا۔ آپ کا ہم نے سیدہ ام عمارہ ان کے بڑے صاحبزادے حضرت حبیب بن زید بن عاصم رضی اللہ کو اپنا سفیر بنایا اور اپنے مکتوب کے ساتھ مسیلمہ کذاب کی طرف روانہ فرمایا مسیلمہ کذاب نے حضرت حبیب دنیا کے ساتھ کیا یا معاملہ کیا د تفصیل پہلے گزر چکی ہے ، آپ کے جسم کے ٹکڑے ٹکڑے ہو گئے لیکن راہ تسلیم ورضا سے قدم نہ ہٹایا۔
اللہ تعالیٰ ان پاکیزہ فطرت عاشقوں پر اپنی رحمت نازل فرمائے جنھوں نے خاک و خون میں تڑپنے کی عظیم رسم کی بنیاد رکھی
سیدہ ام عمارہ ہی کھانے اپنے مجاہد فرزند کی مظلومانہ شہادت کی خبر سنی تو اُن کی ثابت قدمی پر اللہ کا شکر بجالائیں لیکن عہد کر لیا کہ مسیلمہ سے اس ارتداد اور 5 بہیمانہ ظلم کا بدلہ لے کر رہیں گی۔ جب سیدنا صدیق اکبر ضن اللہ مرتدین کی سرکوبی کے لیے لشکر روانہ کرنے کے لئے کمر بستہ ہوئے تو سیدہ ام عمارہ ابھی اُس لشکر میں شریک ہو گئیں ۔ اُس وقت آپ دنیا کی عمر ساٹھ سال سے زائد تھی ۔ آپ نینا کے صاحبزادے حضرت عبداللہ بن زید بن عاصم بن اللہ بھی لشکر میں شریک تھے ۔ جب جنگ شروع ہوئی تو آپ نے نہایت پامردی سے مقابلہ کیا۔ مسیلمہ کو دور سے دیکھا تو صبر نہ کر سکیں ۔ دشمنوں سے لڑتی ہوئی اور صفوں کو چیرتی اور زخم پر زخم کھاتی مسیلمہ کذاب کے قریب پہنچ گئیں ۔ ان کو نیزے اور تلوار کے گیارہ زخم آئے ۔ ایک مرتد کے وار سے ان کا ہاتھ کلائی سے الگ ہو گیا مگر اس شیر دل خاتون کے صبر میں ذرا بھیکمی نہیں آئی۔ آپ مسیلمہ پر وار کرنے کے لیے آگے بڑھیں ۔ یکا یک دو تلواریں فضا میں لہرائیں اور اس زور سے مسلمہ پر پڑیں کہ وہ کٹ کر گھوڑے سے نیچے جاپڑا۔ سیدہ 3 ام عمارہ ہی جانے نظر اُٹھا کر دیکھا تو اپنے پہلو میں اپنے فرزندار جمند حضرت عبداللہ بن زید ضیا کو کھڑے پایا اور دیکھا کہ: " يَمْسَحُ سَيْفَهُ بِثِيَا بِهِ فَقُلْتُ: أَقَتَلْتَهُ
عبداللہ بن زید رضی اللہ اپنی تلوار کو کپڑے سے صاف کر رہے تھے ، میں نے پوچھا: کیا قتل ہو گیا : بیٹے نے ہاں میں جواب دیا ۔ جب کذاب ذلیل و خوار ہو کر جہنم رسید ہو گیا تو سیدہ ام عمارہ یا فرماتی ہیں: فَسَجَدْتُ شُكُر الله .
میں نے اپنے فرزند حضرت حبیب بن زید رضی اللہ کے قاتل اور مسلمانوں کے ل بدترین دشمن کے جہنم رسید ہونے پر سجدہ شکر ادا کیا۔ سیدہ ام عمارہا جب مدینہ منورہ -واپس آئیں تو ایک ہاتھ آپ سے پہلے جنت میں جا پہنچا اور آپ کے لیے جنت کی بشارت کا باعث بنا۔ یہ سیدہ ام عمارہ کی زندگی کا آخری معرکہ تھا۔
بلکہ محافظین دین کی رفاقت اور تعاون کو اپنے لیے باعث عزت سمجھ کر خود ہی پیش کش کرتی تھیں۔ اسی جنگ خیبر کا واقعہ ہے کہ رسول ﷺروانہ ہونے لگے تو قبیلہ غفار کی چند عورتوں نے آکر عرض كيا: إنا نريد يا رسول الله أن نخرج معك إلى وجهك هذا فنداوى الجرحى ونعين المسلمين بما استطعنا «"اے اللہ کے رسول ﷺ اس مبارک سفرمیں جس پر آپ جا رہے ہیں ہم بھی آپ ﷺ کے ساتھ چلنا چاہتی ہیں تاکہ زخمیوں کا علاج کریں اور اپنے بس بھر مسلمانوں کی مدد
کریں۔ 19. بعض خواتین میدان جنگ سے باہر بھی یہ خدمات انجام دیتی تھیں۔ مثلاً رفیده نامی قبیلہ اسلم کی عورت کے متعلق مؤرخین نے لکھا ہے :"وہ زخمیوں کی مرہم پٹی کیا کرتی اور انہوں نے مسلمانوں کے زخمیوں کی خدمت کے لیے اپنے آپ کو وقف کیا ہوا رض تھا۔ چنانچہ مسجد نبوی میں ان کا خیمہ تھا۔ حضرت سعد بن معاذ جنگ خندق میں زخمی ہوئے تو حضور 1 نے ان کو رفیدہ ہی کے خیمہ میں منتقل کر دیا تھا تا کہ آپ با سانی ان کی عیادت کر سکیں۔ طبقات ابن سعد
*حالات حاضرہ کا تقاضہ*
اہل علم خواتین میدان کارزار میں اتریں اور عقائد کے اعمال کے تحفظ کے کام کو فریضہ عین سمجھیں صحابیات کا کردار اپناکر اسلام کے بقاء کے درد پیدا کریں تاکہ کل سوال سے محفوظ رہ سکیں
اللّہ پاک اہل خواتین کو اس میدان میں خدمات کے میدان اور مواقع مقدر فرمائے اور اپنا وقت نبی کی نبوت کے حفاظت میں صرف کرنے کی توفیق نصیب فرمائے آمین آمین آمین!
القلم: فردوس جہاں مظاہری (خادمہ مدرسہ ھبۃ الرحمٰن للبنات)
١٥ ربیع الاول ١٤٤٧ھ
8 ستمبر 2025 ۔ بروز پیر: بوقت : 5:30 پی ایم۔۔۔۔
بمقام : مکان سری رام نگر قطب اللّہ پور حیدرآباد