جب تقدیر میں سب کچھ لکھ دیا گیا ہے تو عمل کا کیا فائدہ؟


بعض لوگ کہتے ہیں کہ جب تقدیر میں لکھ دیا گیا ہے کہ کون شخص جنتی ہے اور کون سا شخص جہنمی ہے تو اب عمل کرنے سے کیا فائدہ ہوگا؟تو وہی جو تقدیر میں لکھا ہے 
سمجھ لیجئے کہ اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ تم وہی عمل کرو گے جو تعبیر میں لکھا ہے بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ تقدیر میں وہی بات لکھی ہے جو تم لوگ اپنے اختیار سے کرو گے اس لیے کہ تقدیر تو علم الہی کا نام ہے اور اللہ تعالی کو پہلے سے پتہ تھا کہ تم اپنے اختیار سے کیا کچھ کرنے والے ہو لہذا وہ سب اللہ تعالی نے لوح محفوظ میں لکھ دیا لیکن تمہارا جنت میں جانا یا جہنم میں جانا درحقیقت تمہارے اختیاری اعمال ہی کی بنیاد پر ہوگا یہ بات نہیں ہے کہ انسان عمل وہی کرے گا جو تقدیر میں لکھا ہے بلکہ تقدیر میں وہی لکھ دیا گیا ہے جو انسان اپنے اختیار سے عمل کرے گا اللہ تعالی نے انسان کو اختیار دیا ہے اور اور اس اختیار کے مطابق انسان عمل کرتا رہتا ہے اب یہ سوچنا کہ تقدیر میں تو سب لکھ دیا گیا ہے لہذا ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھ جاؤ یہ درست نہیں ہے چنانچہ جب حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ حدیث بیان فرمائی تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے پوچھ لیا کہ ففیما العمل یا رسول اللہ؟

جب یہ فیصلہ ہو چکا کہ فلاں شخص جنتی اور فلاں شخص جہنمی تو پھر عمل کرنے سے کیا فائدہ؟سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم
نے فرمایا اعملو فکل میسر لما خلق لہ
یعنی عمل کرتے رہو اس لیے کہ ہر انسان کو وہی کام کرنا ہوگا جس کے لیے وہ پیدا کیا گیا تھا لہذا تم اپنے اختیار کو کام میں لا کر عمل کرتے رہو۔۔