بنت محمد رافع✍️

وہ لڑکی…
جو اپنے آنسوؤں کو نقاب کے پیچھے چھپا لیتی ہے۔
جو بس اسٹاپ پر کھڑی ہو کر خاموشی سے بہا دیتی ہے اپنے سارے دکھ۔
جو کبھی بس کی کھڑکی سے باہر دیکھتے ہوئے خود کو ٹکڑوں میں بانٹ لیتی ہے…
اور پھر جب دوستوں کے سامنے آتی ہے، گھر والوں کے سامنے پہنچتی ہے —
اپنے آنسو پونچھ کر ہونٹوں پر مسکراہٹ سجا لیتی ہے۔
وہ لڑکی کس دکھ میں جی رہی ہوگی؟
وہ لڑکی شاید ہر دن ایک جنگ لڑتی ہے —
بغیر شور کے، بغیر فریاد کے۔
اس کے دل میں سوال ہوتے ہیں، مگر زبان خاموش رہتی ہے۔
اس کی آنکھوں میں سمندر ہوتا ہے، مگر چہرے پر سکون کا نقاب۔
وہ شاید مضبوط دکھائی دیتی ہے…
مگر اندر سے بے حد تھکی ہوئی ہوتی ہے۔
وہ دوسروں کو سہارا دیتی ہے،
لیکن خود کو سنبھالنے والا کوئی نہیں ہوتا۔
وہ اپنی ذات کو سب کے لیے قربان کر دیتی ہے،
اپنی خواہشوں کو دل کے کسی کونے میں دفن کر دیتی ہے۔
لوگ اسے ہنستے دیکھ کر سمجھتے ہیں کہ یہ خوش ہے،
کاش کوئی جان پائے کہ مسکراہٹیں بھی کبھی کبھی
آنسوؤں کا بوجھ چھپانے کے لیے ہوتی ہیں۔
وہ لڑکی شاید راتوں کو جاگتی ہے،
چھت کو تکتے ہوئے اپنے سوال اللہ کے سپرد کر دیتی ہے۔
وہ چاہتی ہے کوئی بس اتنا کہہ دے:
“میں ہوں نا… تم اکیلی نہیں ہو۔”
مگر وہ پھر بھی شکوہ نہیں کرتی۔
وہ صبر کو اوڑھنی بنا لیتی ہے،
خاموشی کو زیور،
اور برداشت کو پہچان۔
وہ لڑکی دراصل کمزور نہیں —
وہ حد سے زیادہ مضبوط ہے۔
اتنی مضبوط کہ اپنے زخم چھپا کر بھی
دوسروں کے لیے دعا کرتی ہے۔
اتنی مضبوط کہ ٹوٹ کر بھی جڑنے کا ہنر جانتی ہے۔
اور شاید…
اللہ اس کے ہر چھپے آنسو کو دیکھ رہا ہوتا ہے،
ہر ٹوٹے لمحے کو شمار کر رہا ہوتا ہے،
اور ایک دن اس کے صبر کا ایسا صلہ دے گا
جس کا اس نے کبھی تصور بھی نہیں کیا ہوگا۔
کیونکہ جو لڑکیاں خاموشی سے روتی ہیں،
اللہ اُن کے لیے خاموشی سے معجزے لکھتا ہے