آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت اور قیامت کس طرح قریب ہے



چودہ سو سال گزر گئے اب تک تو قیامت نہیں آئ؟



نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
بعثت انا والساعۃ کھاتین ویقرن بین أصبعیہ السبابۃ و السطی
یعنی میں اور قیامت اس طرح بھیجے گئے ہیں جیسے شہادت کی انگلی اور بیچ کی انگلی اور دونوں انگلیاں اٹھا کر اپ نے فرمایا کہ جس طرح ان دونوں انگلیوں کے درمیان زیادہ فاصلہ نہیں بلکہ دونوں ملی ہوئی ہیں اسی طرح میں اور قیامت اس طرح بھیجے گئے ہیں کہ دونوں کے درمیان زیادہ فاصلہ نہیں وہ قیامت بہت جلد انے والی ہے
اب لوگوں کو اشکال ہوتا ہے کہ 1400 سال تو حضورِ اقدس صلی اللہ علیہ وسلم
کو گزر گئے اب تک تو قیامت ائی نہیں بات دراصل یہ ہے کہ ساری دنیا کی عمر کے لحاظ سے اگر دیکھو گے اور جب سے دنیا پیدا ہوئی ہے اس کا لحاظ کرکے اگر دیکھو گے تو ہزار دو ہزار سال کی کوئی حیثیت نہیں ہوتی اسی لیے آپ نے فرمایا کہ میرے اور قیامت کے درمیان کوئی زیادہ فاصلہ نہیں ہے وہ قیامت بہت قریب آنے والی ہے
اور ساری دنیا کی جو مجموعی قیامت آنے والی ہے وہ خواہ کتنی ہی دور ہو لیکن ہر انسان کی قیامت تو قریب ہے کیونکہ"من مات فقد قامت قیامتہ"
یعنی جو مر گیا اور جس کو موت آگیٔ اس کی قیامت تو اسی دن قائم ہوگئی اس واسطے جب قیامت آنے والی ہے خواہ وہ مجموعی قیامت ہو یا انفرادی اور اس کے بعد خدا جانے کیا معاملہ ہونے والا ہے اس لیے میں تم کو ڈرا رہا ہوں کہ وہ وقت آنے سے پہلے تیاری کرلو اور اس وقت کے آنے سے پہلے ہوشیار ہو جاؤ اور اپنے آپ کو عزاب جہنم اور عذاب قبر سے بچالو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔✍🏻۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Follow me  عالمہ فضہ صباحت