حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالی اسلام لانے کے بعد آپ مستقلاً آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت
میں لگے رہے اور آپ رضی اللہ عنہ اس مقدس جماعت کے ایک رکن رکین تھے جسے آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کتابت وحی کے لئے مامور فرمایا تھا، چنانچہ جو وحی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر نازل ہوتی اسے قلم بند فرماتے اور جو خطوط و فرامین سرکار دو جہاں صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دربار سے جاری ہوتے انہیں بھی تحریر فرماتے ۔ وحی خداوندی لکھنے کی وجہ سے ہی آپ رضی اللہ عنہ کو *کاتب وحی* کہا جاتا ہے۔ علامہ ابن حزم لکھتے ہیں :-
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کاتبین میں سب سے زیادہ حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر رہے اور اس کے بعد دوسرا درجہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کا تھا، یہ دونوں حضرات دن رات آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ لگے رہتے اور اس کے سوا کوئی کام نہ کرتے تھے
حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں کتابت وحی کا کام جتنا نازک تھا اور
اس کے لئے جس احساس ذمہ داری، امانت و دیانت اور علم و فہم کی ضرورت تھی وہ محتاج بیان نہیں، چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں مسلسل حاضری ، کتابت وحی، امانت و دیانت اور دیگر صفات محمودہ کی وجہ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے متعدد بار آپ رضی اللہ عنہ کے لئے دعا فرمائی۔ حدیث کی مشہور کتاب جامع الترمذی میں ہے کہ ایک بار نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آپ رضی اللہ عنہ کو دعا دی اور فرمایا:-
*الھم اجعلہ ھادیا مھدیا واھد بہ*
اے اللہ معاویہ کو ہدایت دینے والا اور ہدایت یافتہ بنا دیجئے
ترجمہ: ا
ایک اور حدیث میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آپ کو دعا دی اور فرمایا
*الھم علم معاویتہ الکتاب وقہ العذاب*
اے اللہ معاویہ کو کتاب اور حساب سکھا اور عذاب سے بچا۔ (1)
مشہور صحابی حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں
نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا:-
*الھم علمہ الکتاب ومکن لہ فی البلاد وقہ العذاب*
ترجمہ : اے اللہ ! معاویہ کو کتاب سکھلا دے اور شہروں میں اس کے لئے ٹھکانہ بنادے اور اس کو عذاب سے بچالے۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آپ رضی اللہ عنہ کی امارت و خلافت کی اپنی حیات میں ہی پیشین گوئی فرمادی تھی، اور اس کے لئے دُعا بھی فرمائی تھی جیسا کہ مذکورہ حدیث سے
ظاہر ہے۔ نیز حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ خود بھی بیان کرتے ہیں کہ ایک بار میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
کے واسطے وضو کا پانی لے کر گیا ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پانی سے وضو فر مایا اور وضو کرنے
کے بعد میری طرف دیکھا اور فرمایا :-
اے معاویہ رضی اللہ عنہ اگر تمہارے سپرد امارت کی جائے (اور تمہیں امیربنا دیا جائے ) تو تم اللہ سے ڈرتے رہنا اور انصاف کرنا ۔ (1)
اور تاریخی حقائق
اور بعض روایات میں ہے کہ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:۔ جو شخص اچھا کام کرے اس کی طرف توجہ کر اور مہربانی کر اور جو کوئی برا کام کرے اس سے درگزر کر۔
حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ اس حدیث کو بیان کرنے کے بعد فرماتے ہیں:۔ مجھے آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اس فرمان کے بعد خیال لگا رہا کہ مجھے ضرور اس کام میں آزمایا جائے گا، چنانچہ ایسا ہی ہوا ( مجھے امیر بنا دیا گیا ) ۔
ان روایات سے صاف واضح ہے کہ حضرت معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو در بار نبوی میں کیا مرتبہ حاصل تھا؟ اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان سے کتنی محبت فرماتے تھے۔
آپ کی فکر آخرت:
حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں ایسے بہت سے واقعات ملتےہیں جن سے آپ رضی اللہ عنہ کے فکر آخرت کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔
اسی طرح علامہ ذہبی نے اپنی تاریخ میں نقل کیا ہے کہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ ایک جمعہ کو دمشق کی جامع مسجد میں خطبہ دینے کے لئے تشریف لائے اور فرمایا:-
جو کچھ مال ہے وہ سب ہمارا ہے اور جو کچھ مال غنیمت
ہے وہ بھی صرف ہمارا ہے، ہم جس کو چاہیں گے دیں گے اور
جس سے چاہیں گے روک لیں گے۔
آپ رضی اللہ عنہ نے یہ بات کہی، کسی نے اس کا جواب نہ دیا، دوسرا جمعہ آیا، پھر کسی نے جواب نہ دیا تیسرا جمعہ آیا اور آپ رضی اللہ عنہ نے پھر یہی فرمایا تو ایک آدمی کھڑا ہوا اور کہنے لگا:
ہرگز نہیں مال ہمارا ہے اور مال غنیمت کا مال بھی ہمارا ہے، جو ہمارے اوراس کے درمیان حائل ہوگا ، ہم تلواروں کے ذریعے اللہ تک اس کا فیصلہ لے جائیں گے۔ یہ سن کر آپ رضی اللہ عنہ منبر سے اتر آئے اور اس آدمی کو بلا بھیجا اور اندر لے گئے ، آپ رضی اللہ عنہ نے حکم دیا کہ سب دروازے کھول دیئے جائیں اور لوگوں کو اندر آنے دیا جائے، لوگ اندر گئے تو دیکھتے ہیں کہ وہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کےساتھ بیٹھا ہوا ہے۔
حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اللہ اس شخص کو زندگی عطا فرمائے ، اس نے مجھے زندہ کر دیا، میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے تھے: "میرے بعد کچھ حکمران ایسے آئیں گے جو غلط بات کہیں گے اور ان پر نکیر نہیں ہوگی اور:
ایسے حکمران جہنم میں جائیں گئے تو میں نے یہ بات پہلے جمعہ کو کہی اور کسی نے جواب نہ دیا تو میں ڈرا پھر دوسرا جمعہ آیا تو مجھے اور فکر ہوگئی ، یہاں تک کہ تیسرا جمعہ آیا اور اس شخص نے میری بات پر انکار کیا اور مجھے ٹو کا تو مجھے اُمید ہوئی کہ میں ان حکمرانوں میں سے نہیں ہوں ۔