ملتان کی سردیوں کی ایک دھند بھری صبح تھی۔ گلیوں پر ہلکی سی کہر اتری ہوئی تھی اور دور کہیں سے فجر کی اذان کی مدھم آواز فضا میں تیر رہی تھی۔ پرندے ابھی پوری طرح جاگے نہ تھے، مگر مسجد کے مینار سے اُبھرتی ہوئی صدا دلوں کو جگانے کے لیے کافی تھی۔
اسی محلے کے ایک کچے صحن والے گھر میں فہد گہری نیند میں سو رہا تھا۔ اذان کی آواز اس کے کانوں تک پہنچی، مگر وہ کروٹ بدل کر دوبارہ لحاف میں چھپ گیا۔ صحن میں اس کی بوڑھی ماں جائے نماز پر بیٹھی تھیں۔ ان کے لب ہل رہے تھے اور آنکھوں میں نمی تیر رہی تھی۔
انہوں نے آہستہ سے کہا:
’’یا اللہ! میرے بیٹے کو ہدایت دے دے۔‘‘
گھر کی دیواریں خاموش تھیں… مگر دعا آسمان کی طرف جا چکی تھی۔
-------
دن چڑھا تو گلی میں شور بڑھنے لگا۔ بچے اسکول جا رہے تھے، ریڑھی والے آوازیں لگا رہے تھے، اور فہد اپنے چند دوستوں کے ساتھ ہنستا ہوا گھر سے نکل گیا۔ اس کی ہنسی میں بے فکری تھی، مگر دل کے اندر ایک انجانا خلا بھی تھا—جسے وہ خود بھی نہیں سمجھتا تھا۔
نماز اس کی زندگی سے نکل چکی تھی۔
راتیں بے مقصد گزرتی تھیں۔
اور گناہ… آہستہ آہستہ عادت بن گئے تھے۔
ماں کبھی سمجھاتیں تو وہ ہنسی میں ٹال دیتا،
’’امی! ابھی تو جوانی ہے… بڑھاپے میں توبہ کر لوں گا۔‘‘
ماں خاموش ہو جاتیں۔
کچھ خاموشیاں الفاظ سے زیادہ بولتی ہیں۔
---
وقت گزرتا رہا سردی گزر گئی اور گرمی نے ڈیرہ جما لیا۔ ایک دوپہر سورج بہت تیز تھا۔ سڑک کی تارکول سے گرمی اٹھ رہی تھی۔ فہد اپنے دوستوں کے ساتھ موٹر سائیکل پر شہر سے باہر جا رہا تھا کہ اچانک آگے لوگوں کا ہجوم دکھائی دیا۔
بریک کی تیز آواز…
ہوا میں گھبراہٹ…
زمین پر پھیلا سکوت۔
وہ قریب گیا۔ سفید چادر میں لپٹا ایک جسم سڑک کنارے پڑا تھا۔ کسی نے دھیمی آواز میں کہا،
’’حادثہ ہوا ہے… ابھی دم توڑا ہے۔‘‘
فہد نے کپکپاتے ہاتھوں سے چادر کا کونا اٹھایا—
اور دنیا رک گئی۔
وہ حمزہ تھا۔
اس کے بچپن کا دوست…
نرم مزاج…
نماز کا پابند…
ہمیشہ مسکرانے والا حمزہ۔
فہد کے کانوں میں جیسے پرانی آواز گونج اٹھی،
’’فہد… اللہ کو ناراض نہ کیا کرو… زندگی کا کوئی بھروسہ نہیں۔‘‘
آج وہی حمزہ خاموش تھا۔
ہمیشہ کے لیے۔
سورج بدستور چمک رہا تھا…
لوگ چل رہے تھے…
مگر فہد کے اندر کچھ ٹوٹ کر بکھر گیا تھا۔
---
رات غیر معمولی طور پر طویل ہو گئی۔
آسمان پر ستارے بہت روشن تھے… مگر اس کے دل میں اندھیرا تھا۔
وہ چھت پر لیٹا حمزہ کا چہرہ دیکھتا رہا… پھر کفن… پھر قبر کی مٹی۔
اسے پہلی بار شدت سے احساس ہوا—
موت اچانک آتی ہے… اور انسان خالی ہاتھ رہ جاتا ہے۔
اس کے سینے میں گھبراہٹ بھرنے لگی۔
آنکھوں سے نیند روٹھ گئی۔
---
فجر سے کچھ پہلے کی ٹھنڈی ہوا چل رہی تھی۔ گلیاں سنسان تھیں۔ مسجد کا دروازہ آدھا کھلا تھا، جیسے کسی بھٹکے ہوئے کو بلا رہا ہو۔
فہد کے قدم بے اختیار اندر چلے گئے۔
وضو کے پانی کی ٹھنڈک ہاتھوں سے دل تک اتر گئی۔
مسجد کی خاموشی میں عجیب سا سکون تھا—ایسا سکون جسے وہ برسوں سے ڈھونڈ رہا تھا۔
اس نے قرآن کھولا۔
نظر ایک آیت پر ٹھہر گئی:
*”اے میرے بندو… جو اپنی جانوں پر زیادتی کر بیٹھے ہو… اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہونا۔‘‘*
الفاظ تیر بن کر دل میں اتر گئے۔
آنکھیں بھر آئیں… پھر بہنے لگیں۔
وہ سجدے میں گر پڑا۔
*”یا اللہ! میں گناہ گار ہوں… بہت دور چلا گیا تھا… مگر تیرے در سے ناامید نہیں… مجھے معاف کر دے… مجھے واپس لوٹا لے…‘‘*
اس کی سسکیاں مسجد کی خاموشی میں گونجتی رہیں۔
یہ آنسو کمزوری نہیں تھے—
یہ واپسی کے آنسو تھی۔
یہی اس کی بہترین ہجرت تھی۔
---
دن بدلنے لگے۔
اذان اب اسے جگانے لگی۔
قرآن کی تلاوت دل کو نرم کرنے لگی۔
ماں کی آنکھوں میں برسوں بعد سکون اترنے لگا۔
ایک شام بارش ہو رہی تھی۔ مٹی کی خوشبو فضا میں گھلی ہوئی تھی۔ مسجد کے برآمدے میں چند بچے بیٹھے تھے۔
انہوں نے جھجکتے ہوئے کہا:
*”بھائی! ہمیں قرآن پڑھنا سکھا دیں۔‘‘*
فہد کا دل بھر آیا۔
کبھی وہ خود راستہ بھول گیا تھا…
آج کسی کے لیے چراغ بن رہا تھا۔
وہ مسکرایا،
*”آؤ… ہم سب مل کر سیکھتے ہیں۔‘‘*
بارش کی بوندیں چھت سے ٹپک رہی تھیں…
اور ایک نئی زندگی جنم لے رہی تھی۔
---
*چند مہینوں بعد…*
چاندنی رات صحن میں اتر آئی تھی۔
ہوا میں سکون تھا۔
ماں تسبیح پڑھ رہی تھیں اور فہد ان کے پاس بیٹھا تھا۔
انہوں نے آہستہ سے پوچھا:
’’بیٹا! تمہیں سب سے بڑی خوشی کب ملی؟‘‘
فہد نے آسمان کی طرف دیکھا۔
آنکھوں میں نمی چمک رہی تھی۔
’’امی! جب میں گناہوں سے پلٹ کر اللہ کی طرف آیا… تب سمجھا کہ زندگی کی سب سے بہترین ہجرت یہی ہے۔‘‘
ماں کے آنسو چاندنی میں موتیوں کی طرح چمکنے لگے۔
انہوں نے ہاتھ اٹھا دیے۔
’’یا اللہ! ہمیں اپنی رحمت سے کبھی محروم نہ کرنا۔‘‘
---
کہانی ختم نہیں ہوتی…
ہر دل کے اندر ایک راستہ ہوتا ہے—
اندھیرے سے روشنی تک…
گناہوں سے نیکی تک…
مایوسی سے امید تک۔
بس ایک سچی توبہ…
ایک بھیگا ہوا سجدہ…
اور بندہ لوٹ آتا ہے۔
کیونکہ
*اللہ معاف کرنے والا ہے… اور اس کی رحمت سے کبھی مایوس نہیں ہونا چاہیے۔*