(32)مضمون 

بسم اللہ الرحمن الرحیم 

'' دارالعلوم دیوبند — تاریخ، روحانیت اور بیداری کی علامت؛؛ 


اگر طالبان کے وزیرِ خارجہ مولانا امیر خان متقی کا بھارت آنا ایک سیاسی واقعہ ہے،

تو ان کا دارالعلوم دیوبند پہنچنا ایک تاریخی لمحہ اور روحانی نشانِ وقت ہے۔

یہ محض ایک ملاقات نہیں،

بلکہ تاریخ کے اوراق میں ایمان، علم اور استقامت کی بیداری کا نیا باب رقم ہونا ہے۔

دیوبند صرف ایک ادارہ نہیں،

یہ برصغیر کے ایمان کی دھڑکن ہے،

جہاں قرآن و سنت کی روشنی میں وہ چراغ جلائے گئے

جن کی لو نے ظلمت کے اندھیروں کو چیر کر علم و دین کا آفتاب طلوع کیا۔

یہ وہی دارالعلوم ہے

جس نے انگریزوں کے دورِ غلامی میں دین کے تحفظ کی چنگاری سلگائی،

جس کی درسگاہوں سے نکلنے والے علماء نے

قلم سے بھی جہاد کیا اور میدان میں بھی۔

یہ وہی مرکز ہے جہاں امام قاسم نانوتویؒ نے فرمایا تھا:

> “ہم نے دیوبند میں صرف مدرسہ نہیں، ایک تحریکِ بیداری قائم کی ہے۔”

آج جب امیر خان متقی،

طالبان حکومت کے نمائندہ بن کر اسی دارالعلوم کے صحن میں داخل ہوئے،

تو یہ صرف ایک رسمی آمد نہیں تھی،

یہ تاریخ کے تسلسل کی تکمیل تھی۔

جس مکتبِ فکر کی فکری جڑیں دارالعلوم کے فیض سے پھوٹیں،

آج وہی فکر اقتدار کی سطح پر اپنی پہچان منوا رہی ہے۔

یہ منظر بتا رہا تھا کہ

علم کی طاقت کبھی زنگ آلود نہیں ہوتی،

اور جو ادارے خلوص و للہیت سے قائم ہوں،

ان کا فیض صدیوں بعد بھی زندہ رہتا ہے۔

دارالعلوم نے کبھی خود کو سیاسی طاقت نہیں بنایا،

لیکن ہر سیاسی طاقت نے بالآخر اس کے در سے فیض لیا۔

یہی روحانیت کی برتری ہے جو اقتدار کو جھکنے پر مجبور کرتی ہے۔

دنیا نے دیکھا —

جن لوگوں نے کبھی اس دار کو شک کے دائرے میں رکھا،

آج وہی اس کے دروازے پر سرِ نیاز جھکائے کھڑے ہیں۔

یہ منظر آیتِ قرآنی کی تفسیر ہے:

> "وَنُرِيدُ أَن نَّمُنَّ عَلَى الَّذِينَ اسْتُضْعِفُوا فِي الْأَرْضِ، وَنَجْعَلَهُمْ أَئِمَّةً وَنَجْعَلَهُمُ الْوَارِثِينَ" (القصص: 5)

’’اور ہم چاہتے تھے کہ زمین میں دبائے گئے لوگوں پر احسان کریں،

انہیں پیشوا بنائیں اور انہیں وارث ٹھہرائیں۔‘‘

دارالعلوم کا در صرف اہلِ علم کے لیے نہیں،

بلکہ اہلِ دل کے لیے بھی کھلا ہے۔

یہاں کی ہوا میں اللہ پر بھروسے کی خوشبو ہے،

اور یہاں کی مٹی میں شہداء و صلحاء کے قدموں کا فیض۔

جب کوئی سچا مومن اس صحن میں داخل ہوتا ہے،

تو گویا ایمان کی تاریخ اپنی جڑوں سے دوبارہ جڑ جاتی ہے۔

امیر خان متقی کی آمد نے

دیوبند کے اس روحانی ورثے کو ایک نئی زندگی دی ہے —

یہ یاد دہانی ہے کہ علم اور ایقان کی طاقت

آخرکار سیاسی قوت کو جھکنے پر مجبور کر دیتی ہے۔

امت کے لیے یہ ایک اشارہ ہے 

یہ واقعہ محض ماضی کی یاد نہیں،

بلکہ مستقبل کا اشارہ ہے۔

دیوبند کی علمی تحریک اور طالبان کی سیاسی عملداری

اگر تقویٰ، عدل اور علم کے ساتھ جڑ جائیں،

تو امتِ مسلمہ کے لیے ایک نیا فکری انقلاب ممکن ہے۔

یہ وقت ہے کہ ہم اپنی فکری جڑوں کی طرف پلٹیں،

اور دارالعلوم جیسے اداروں کو محض یادگار نہیں،

بلکہ عملی رہنما سمجھیں۔

> "إِنَّ الْأَرْضَ لِلَّهِ، يُورِثُهَا مَن يَشَاءُ مِنْ عِبَادِهِ" (الأعراف: 128)

’’بے شک زمین اللہ کی ہے، وہ اپنے بندوں میں سے جسے چاہے وارث بنا دیتا ہے۔‘‘

یہ دن صرف طالبان کے لیے عزت کا دن نہیں،

بلکہ دیوبند کے لیے بشارت کا دن ہے۔

جس درسگاہ نے دلوں کو ایمان سے روشن کیا،

آج اس کے در پر زمانے کے طوفان ٹھہر گئے ہیں۔

یہ وہ مقام ہے جہاں

علم نے سیاست کو ادب سکھایا،

اور روحانیت نے دنیا کو سمت دکھائی۔

> یہ مٹی مقدس ہے، یہ فضا ایمان کی خوشبو سے معمور ہے،

یہ وہی دیوبند ہے — جہاں سے باطل ہمیشہ شرمندہ لوٹتا ہے۔

   بقلم. محمودالباری 

mahmoodulbari342@gmail.com