💫حضرت امام ابو حنیفہ 💫
07 فروری، 2026
امام ابو حنیفہ سے احادیث کی روایت کتبِ حدیث میں کثرت سے نہ ہونے کی وجہ سے بعض لوگوں نے یہ تأثر پیش کیا ہے کہ امام ابو حنیفہ کی علم حدیث میں مہارت کم تھی؛ حالانکہ غور کریں کہ جس شخص نے صرف بیس سال کی عمر میں علم حدیث پر توجہ دی ہو، جس نے صحابہ، تابعین اور تبع تابعین کابہترین زمانہ پایا ہو، جس نے صرف ایک یا دو واسطوں سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث سنی ہوں، جس نے حضرت عبد اللہ بن مسعود جیسے جلیل القدر فقیہ صحابی کے شاگردوں سے ۱۸سال تربیت حاصل کی ہو، جس نے حضرت عمربن عبد العزیز کا عہدِ خلافت پایا ہو جو تدوینِ حدیث کا سنہرا دور دیکھاہو ، جس نے کوفہ ،بصرہ،بغداد،مکہ مکرمہ،مدینہ منورہ اور ملک شام کے ایسے اساتذہ سے احادیث پڑھی ہو جو اپنے زمانے کے بڑے بڑے محدث تھے، جس نے قرآن وحدیث کی روشنی میں ہزاروں مسائل کا استنباط کیا ہو، قرآن وحدیث کی روشنی میں کیے گئے جس کے فیصلے کو تقریباً ہزارسال کے عرصہ سے زیادہ امت مسلمہ نیز بڑے بڑے علماء ومحدثین ومفسرین تسلیم کرتے چلے آئے ہوں ، جس نے فقہ کی تدوین میں اہم رول ادا کیاہو، جو صحابیِ رسول حضرت عبداللہ بن مسعود کا علمی وارث بناہو، جس نے حضرت عبداللہ بن عباس، حضرت عبداللہ بن عمر اور حضرت عبداللہ بن مسعود جیسے فقہاء صحابہ کے شاگردوں سے علمی استفادہ کیا ہو، جس کے تلامذہ بڑے بڑے محدث ،فقیہ اور امامِ وقت بنے ہوں تو اس کے متعلق ایسا تأثر پیش کرنا صرف اور صرف بغض وعنا د اور علم کی کمی کا نتیجہ ہے۔ یہ ایسا ہی ہے کہ کوئی شخص حضرت ابوبکرصدیق ، حضرت عمر فاروق اور حضرت عثمان غنی کے متعلق کہے کہ ان کو علمِ حدیث سے معرفت کم تھی؛ کیونکہ ان سے گنتی کی چند احادیث‘ کتبِ احادیث میں مروی ہیں؛ حالانکہ ان حضرات کا کثرتِ روایت سے اجتناب دوسرے اسباب کی وجہ سے تھا، جس کی تفصیلات کتابوں میں موجود ہیں۔ غرضے کہ اما م ابوحنیفہ فقیہ ہونے کے ساتھ ساتھ عظیم محدث بھی تھے ۔
حضرت امام ابوحنیفہ اور حدیث کی مشہور کتابیں:
احادیث کی مشہور کتابیں (بخاری، مسلم، ترمذی، ابوداوٴد، نسائی، ابن ماجہ، طبرانی، بیہقی، مسند ابن حبان، مسند احمد بن حنبل وغیرہ) امام ابوحنیفہ کی وفات کے تقریباً۱۵۰ سال بعد مدون ہوئی ہیں۔ ان مذکورہ کتابوں کے مصنّفین امام ابوحنیفہ کی حیات میں موجود ہی نہیں تھے، ان میں سے اکثر امام ابوحنیفہ کے شاگردوں کے شاگرد ہیں۔ مشہور کتب حدیث کی تصنیف سے قبل ہی امام ابوحنیفہ کے مشہور شاگردوں (قاضی ابویوسف اور امام محمد) نے امام ابوحنیفہ کے حدیث اور فقہ کے دروس کو کتابی شکل میں مرتب کردیا تھاجو آج بھی دستیاب ہیں۔ مشہور کتبِ حدیث میں عموماً چار یا پانچ یا چھ واسطوں سے احادیث ذکر کی گئی ہیں؛ جب کہ امام ابوحنیفہ کے پاس زیادہ تر احادیث صرف دو واسطوں سے آئی تھیں، اس لحاظ سے امام ابوحنیفہ کو جو احادیث ملی ہیں، وہ اصحُ الاسانید کے علاوہ احادیثِ صحیحہ ، مرفوعہ، مشہورہ اور متواترہ کا مقام رکھتی ہیں۔ غرضے کہ جن احادیث کی بنیاد پر فقہِ حنفی مرتب کیا گیا، وہ عموماًسند کے اعتبار سے اعلیٰ درجہ کی ہیں۔
حضرت امام ابوحنیفہ کے اساتذہ:
امام ابوحنیفہ نے تقریباً چار ہزار مشائخ سے علم حاصل کیا، خود امام ابوحنیفہ کا قول ہے کہ میں نے کوفہ وبصرہ کا کوئی ایسا محدث نہیں چھوڑا جس سے میں نے علمی استفادہ نہ کیا ہو، تفصیلات کے لیے سوانح امام ابوحنیفہ کا مطالعہ کریں، امام ابوحنیفہ کے چند اہم اساتذہ حسب ذیل ہیں:
شیخ حماد بن ابی سلیمان (متوفی ۱۲۰ھ): شہر کوفہ کے امام وفقیہ شیخ حماد حضرت انس بن مالک کے سب سے قریب اور معتمد شاگرد ہیں، امام ابوحنیفہ ان کی صحبت میں ۱۸ سال رہے۔ ۱۲۰ ہجری میں شیخ حماد کے انتقال کے بعد امام ابوحنیفہ ہی ان کی مسند پر فائز ہوئے۔ شیخ حماد مشہور ومعروف محدث وتابعی شیخ ابراہیم نخعی کے بھی خصوصی شاگرد ہیں۔ علاوہ ازیں شیخ حماد حضرت عبداللہ بن مسعود کے علمی وارث اور نائب بھی شمار کیے جاتے ہیں۔
امام ابوحنیفہ کی دوسری بڑی درس گاہ ”شہر بصرہ“ تھی جو امام المحدثین شیخ حسن بصری (متوفی ۱۱۰ھ) کے علومِ حدیث سے مالا مال تھی؛ یہاں بھی امام ابوحنیفہ نے علمِ حدیث کا بھرپور حصہ پایا۔
شیخ عطا بن ابی رباح (متوفی ۱۱۴ھ): مکہ مکرمہ میں مقیم شیخ عطا بن ابی رباح سے بھی امام ابوحنیفہ نے بھرپور استفادہ کیا۔ شیخ عطا بن ابی رباح نے بے شمار صحابہٴ کرام خاص کر حضرت عائشہ، حضرت ابوہریرہ، حضرت ام سلمہ،حضرت عبداللہ بن عباس، حضرت عبداللہ بن عمر سے استفادہ کیا تھا۔ شیخ عطاء بن ابی رباح صحابی رسول حضرت عبد اللہ بن عمر کے خصوصی شاگرد ہیں۔
شیخ عکرمہ بربری (متوفی ۱۰۴ھ): یہ حضرت عبداللہ بن عباس کے خصوصی شاگرد ہیں۔ کم وبیش ۷۰ مشہور تابعین ان کے شاگرد ہیں، امام ابوحنیفہ بھی ان میں شامل ہیں۔مکہ مکرمہ میں امام ابوحنیفہ نے ان سے علمی استفادہ کیا۔
مدینہ منورہ کے فقہاءِ سبعہ میں سے حضرت سلیمان اور حضرت سالم بن عبداللہ بن عمر سے امام ابوحنیفہ نے احادیث کی سماعت کی ہے۔ یہ ساتوں فقہاء مشہور ومعروف تابعین تھے۔ حضرت سلیمان ام الموٴمنین حضرت میمونہ کے پروردہ غلام ہیں جب کہ حضرت سالم حضرت عمر فاروق کے پوتے ہیں، جنہوں نے اپنے والد صحابیِ رسول حضرت عبد اللہ عمر سے تعلیم حاصل کی تھی۔
ملک شام میں امام اوزاعی اور امام مکحول سے بھی امام ابوحنیفہ نے اکتسابِ علم کیا ہے۔
دیگر محدثین کے طرز پر امام ابوحنیفہ نے احادیث کی سماعت کے لیے حج کے اسفار کا بھرپور استعمال کیا؛ چنانچہ آپ نے تقریباً ۵۵ حج ادا کیے۔ حج کی ادائیگی سے قبل وبعد مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ میں قیام فرماکر قرآن وسنت کو سمجھنے اور سمجھانے میں وافر وقت لگایا۔ بنوامیہ کے آخری عہد میں جب امام ابوحنیفہ کا حکمرانوں سے اختلاف ہوگیا تھا تو امام ابوحنیفہ نے تقریباً ۷ سال مکہ مکرمہ میں مقیم رہ کر تعلیم وتعلم کے سلسلہ کو جاری رکھا۔
حضرت امام ابوحنیفہ کے تلامذہ:
"سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم” کے مصنف اول "علامہ شبلی نعمانی ” نے اپنی مشہور ومعروف کتاب "سیرة النعمان” میں لکھا ہے کہ امام ابوحنیفہ کے درس کا حلقہ اتنا وسیع تھا کہ خلیفہٴ وقت کی حدودِ حکومت اس سے زیادہ وسیع نہ تھیں۔ سیکڑوں علماء ومحدثین نے امام ابوحنیفہ سے علمی استفادہ کیا۔ امام شافعی فرمایا کرتے تھے کہ جو شخص علمِ فقہ میں کمال حاصل کرنا چاہے اس کو امام ابوحنیفہ کے فقہ کا رخ کرنا چاہیے، اور یہ بھی فرمایا کہ اگر امام محمد(امام ابوحنیفہ کے شاگرد) مجھے نہ ملتے تو شافعی، شافعی نہ ہوتا؛ بلکہ کچھ اور ہوتا۔ امام ابوحنیفہ کے چند مشہور شاگردوں کے نام حسب ذیل ہیں جنہوں نے اپنے استاذ کے مسلک کے مطابق درس وتدریس کا سلسلہ جاری رکھا۔ قاضی ابویوسف، امام محمد بن حسن الشیبانی، امام زفر بن ہذیل، امام یحییٰ بن سعید القطان، امام یحییٰ بن زکریا، محدث عبد اللہ بن مبارک، امام وکیع بن الجراح، اور امام داوٴد الطائی وغیرہ۔
قاضی ابویوسف (متوفی ۱۸۲ھ): آپ کا نام یعقوب بن ابراہیم انصاری ہے۔ ۱۱۳ھ یا ۱۱۷ھ میں کوفہ میں پیدا ہوئے۔ امام ابویوسف کو معاشی تنگی کی وجہ سے تعلیمی سلسلہ جاری رکھنا مشکل ہوگیا تھا؛ مگر امام ابوحنیفہ نے امام یوسف اور ان کے گھر کے تمام اخراجات برداشت کرکے ان کو تعلیم دی۔ ذہانت، تعلیمی شوق اور امام ابوحنیفہ کی خصوصی توجہ کی وجہ سے قاضی ابویوسف ایک بڑے محدث وفقیہ بن کر سامنے آئے۔فقہ حنفی کی تدوین میں قاضی ابویوسف کا اہم کردار ہے۔ عباسی دورِ حکومت میں قاضی القضاة کے عہدہ پر فائز ہوئے۔ یہ پہلا موقع تھا جب کسی کو قاضی القضاة کے عہد پر فائز کیا گیا۔ امام ابوحنیفہ سے بعض مسائل میں اختلاف بھی کیا؛ لیکن پوری زندگی خاص کر قاضی القضاة کے عہدہ پر فائز ہونے کے بعد فقہ حنفی کو ہی نشر کیا۔ مسلکِ امام ابو حنیفہ پر اصولِ فقہ کی اوّلین کتاب تحریر فرمائی۔ ۱۸۲ھ میں وفات ہوئی۔
امام محمد بن الحسن الشیبانی (متوفی ۱۸۹ھ): آپ ۱۳۱ھ میں دِمَشق میں پیدا ہوئے، پھر فقہاء ومحدثین کے شہر کوفہ چلے گئے، وہاں بڑے بڑے محدثین اور فقہاء کی صحبت پائی۔ امام ابوحنیفہ سے تقریباً دو سال جیل میں تعلیم حاصل کی۔ امام ابوحنیفہ کی وفات کے بعد قاضی ابویوسف سے تعلیم مکمل کی، پھر مدینہ منورہ جاکر امام مالک سے حدیث پڑھی۔ صرف بیس سال کی عمر میں مسندِ حدیث پر بیٹھ گئے۔ یہ فقہ حنفی کے دوسرے اہم بازو شمار کیے جاتے ہیں، اسی لیے امام ابویوسف اور امام محمد کو صاحبین کہا جاتا ہے۔امام محمد کے بے شمار شاگرد ہیں؛ لیکن امام شافعی کا نام خاص طور پر ذکر کیا جاتا ہے۔ امام محمد کی حدیث کی مشہور کتاب "موطا امام محمد” آج بھی ہر جگہ موجود ہے۔ امام محمد کی تصنیفات بہت ہیں، فقہ حنفی کا مدار انھیں کتابوں پر ہے، ان کی درج ذیل کتابیں مشہور ومعروف ہیں جو فتاویٰ حنفیہ کا مآخذ ہیں۔
المبسوط۔ الجامع الصغیر۔ الجامع الکبیر۔ الزیادات۔ السیر الصغیر۔ السیر الکبیر۔
امام زفر (متوفی ۱۵۸ھ): امام زفربن ہذیل ۱۱۰ ہجری میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی عمر میں علمِ حدیث سے خاص شغف وتعلق تھا، علامہ نووی نے ان کو اصحابُ الحدیث میں شمار کیا ہے، پھر علم فقہ کی جانب توجہ کی اور اخیر عمر تک یہی مشغلہ رہا۔ بصرہ میں قاضی کے عہدہ پر بھی فائز رہے۔ امام ابوحنیفہ کے خاص شاگردوں میں سے ہیں، آپ فقہ حنفی کے اہم ستون ہیں۔
امام یحییٰ بن سعید القطان (متوفی ۱۹۸ھ): آپ ۱۲۰ ہجری میں پیدا ہوئے۔ علامہ ذہبی نے تحریر کیا ہے کہ فن اسماء الرجال (سند حدیث پر بحث کا علم) سب سے پہلے انہوں نے ہی شروع کیا ہے۔ پھر اس کے بعد دیگر حضرات، مثلاً امام یحییٰ بن معین نے اس علم کو باقاعدہ فن کی شکل دی۔ امام یحییٰ بن سعید القطان نے امام ابوحنیفہ سے علمی استفادہ کیا ہے۔
امام عبداللّٰہ بن مبارک (متوفی ۱۸۱ھ): یہ بھی امام ابوحنیفہ کے شاگردوں میں سے ہیں۔ علم حدیث میں بڑی مہارت حاصل کی، یہاں تک کہ امیر الموٴمنین فی الحدیث کا لقب ملا۔ ۱۱۸ ہجری میں پیدا ہوئے اور ۱۸۱ ہجری میں وفات پائی۔ امام عبداللہ بن مبارک کا قول ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ ابوحنیفہ اور سفیان ثوری کے ذریعہ میری مدد نہ فرماتے تو میں ایک عام انسان سے بڑھ کر کچھ نہ ہوتا۔
تدوینِ فقہ:
عصر قدیم وجدید میں علم فقہ کی تعریف مختلف الفاظ میں کی گئی ہے؛ مگر اُن کا خلاصہٴ کلام یہ ہے کہ قرآن وحدیث کی روشنی میں احکامِ شرعیہ کا جاننا فقہ کہلاتا ہے۔ احکام شرعیہ کے جاننے کے لیے سب سے پہلے قرآن کریم اور پھر احادیث کی طرف رجوع کیا جاتا ہے۔ قرآن وحدیث میں کسی مسئلہ کی وضاحت نہ ملنے پر اجماع اورقیاس کی طرف رجوع کیا جاتا ہے۔
فقہ کو سمجھنے سے قبل‘ امام ابوحنیفہ کے ایک اہم اصول وضابطہ کو ذہن میں رکھیں کہ میں پہلے کتاب اللہ اور سنتِ نبوی کو اختیار کرتا ہوں، جب کوئی مسئلہ کتاب اللہ اور سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں نہیں ملتا تو صحابہٴ کرام کے اقوال واعمال کو اختیار کرتا ہوں۔ اس کے بعد دوسروں کے فتاویٰ کے ساتھ اپنے اجتہاد وقیاس پر توجہ دیتا ہوں۔ اسی طرح امام ابوحنیفہ کا یہ اصول ہے کہ اگرمجھے کسی مسئلہ میں کوئی حدیث مل جائے خواہ اس کی سند ضعیف بھی ہو تو میں اپنے اجتہاد وقیاس کو ترک کرکے اس کو قبول کرتا ہوں۔ یہ امام ابوحنیفہ کا اپنا خود بنایا ہوا اصول نہیں ہے؛ بلکہ اُس مشہور حدیث کی اتباع ہے جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت معاذ بن جبل کو وصیت فرمائی تھی۔
فقہ حنفی کا مدار صحابیِ رسول حضرت عبداللہ بن مسعود کی ذات اقدس پر ہے اور اس فقہ کی بنیاد وہ احادیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہیں جن کو حضرت عبداللہ بن مسعود روایت کرتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں ہی حضرت عبداللہ بن مسعود سے صحابہٴ کرام مسائلِ شرعیہ معلوم کرتے تھے۔ کوفہ شہر میں حضرت عبداللہ بن مسعود قرآن وحدیث کی روشنی میں لوگوں کی رہنمائی فرماتے تھے۔ حضرت علقمہ بن قیس کوفی اور حضرت اسودبن یزید کوفی حضرت عبداللہ بن مسعود کے خاص شاگرد ہیں۔ حضرت عبداللہ بن مسعود خود فرماتے تھے کہ جو کچھ میں نے پڑھا لکھا اور حاصل کیا وہ سب کچھ علقمہ کو دیدیا، اب میری معلومات علقمہ سے زیادہ نہیں ہے۔ حضرت علقمہ اور حضرت اسود کے انتقال کے بعد حضرت ابراہیم نخعی کوفی مسند نشین ہوئے اور علم فقہ کو بہت کچھ وسعت دی یہاں تک کہ انھیں "فقیہِ عراق” کا لقب ملا۔ حضرت ابراہیم نخعی کوفی کے زمانے میں فقہ کا غیر مرتب ذخیرہ جمع ہوگیا تھا جو ان کے شاگردوں نے خاص کر حضرت حماد کوفی نے محفوظ کررکھا تھا۔ حضرت حماد کے اس ذخیرہ کو امام ابوحنیفہ کوفی نے اپنے شاگردوں خاص کر امام ابو یوسف، امام محمد اور امام زفر کو بہت منظم شکل میں پیش کردیاجو انہوں نے باقاعدہ کتابوں میں مرتب کردیا، یہ کتابیں آج بھی موجود ہیں۔ اس طرح امام ابوحنیفہ حضرت عبداللہ بن مسعود کے دو واسطوں سے حقیقی وارث بنے اور امام ابوحنیفہ کے ذریعہ حضرت عبداللہ بن مسعود نے قرآن وسنت کی روشنی میں جو سمجھا تھا وہ امت مسلمہ کو پہونچ گیا۔ غرضے کہ فقہ حنفی کی تدوین اُس دور کا کارنامہ ہے جس کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلمنے خیر القرون قرار دیا اور احادیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم مکمل حفاظت کے ساتھ اسی زمانہ میں کتابی شکل میں مرتب کی گئیں۔
﴿وضاحت﴾: ان دنوں بعض ناواقف حضرات فقہ کا ہی انکار کرنا شروع کردیتے ہیں حالانکہ قرآن وحدیث کو سمجھ کر پڑھنا اور اس سے مسائل شرعیہ کا استنباط کرنا فقہ ہے۔نیز قرآن وحدیث میں متعدد جگہ فقہ کا ذکر بھی وضاحت کے ساتھ موجود ہے۔ مشہور کتب حدیث (بخاری، مسلم، ترمذی، ابوداوٴد، نسائی، ابن ماجہ، طبرانی، بیہقی، مسند ابن حبان، مسند احمد بن حنبل وغیرہ) کی تالیف سے قبل ہی امام ابوحنیفہ کے شاگردوں نے فقہ حنفی کو کتابوں میں مرتب کردیا تھا۔ اگر واقعی فقہ قابل رد ہے تو مذکورہ کتبِ حدیث کے مصنفوں نے اپنی کتاب میں فقہ کی تردید میں کوئی باب کیوں نہیں بنایا؟ یا کوئی دوسری مستقل کتاب فقہ کی تردید میں کیوں تصنیف نہیں کی؟ غرضے کہ یہ ان حضرات کی ہٹ دھرمی ہے ورنہ قرآن وحدیث کو سمجھ کر مسائل کا استنباط کرنا ہی فقہ کہلاتا ہے جسے جمہور محدثین ومفسرین وعلماء امت نے تسلیم کیا ہے۔
﴿نقطہ﴾: فقہ حنفی کا یہ خصوصی امتیاز ہے کہ سابقہ حکومتوں (خاص کر عباسیہ وعثمانیہ حکومت) کا ۸۰ فیصد قانونِ عدالت وفوجداری فقہ حنفی رہا ہے اور آج بھی بیشتر مسلم ممالک کا قانون عدالت فقہ حنفی پر قائم ہے، جو قرآن وحدیث کی روشنی میں بنائے گئے ہیں۔
امام ابوحنیفہ کی کتابیں:
امام ابوحنیفہ نے دوران ِدرس جو احادیث بیان کی ہیں انھیں شاگردوں نے ”حَدَّثَنَا“ اور ”اَخْبَرَنَا“ وغیرہ الفاظ کے ساتھ جمع کردیا۔امام ابوحنیفہ کے درسی افادات کا نام "کتاب الآثار” ہے، جو دوسری صدی ہجری میں مرتب ہوئی، اس زمانہ تک کتابوں کی تالیف بہت زیادہ عام نہیں تھی۔ "کتاب الآثار”اس دور کی پہلی کتاب ہے جس نے بعد کے آنے والے محدثین کے لیے ترتیب وتبویب کے راہ نما اصول فراہم کیے۔ علامہ شبلی نعمانی نے "کتاب الآثار”کے متعدد نسخوں کی نشاندہی کی ہے؛ لیکن عام شہرت چار نسخوں کو حاصل ہے۔ ان نسخوں میں سے امام محمد کی روایت کردہ کتاب کو سب سے زیادہ شہرت ومقبولیت حاصل ہوئی۔
مشہور محقق عالم مولانا عبدالرشید نعمانی نے ”کتابُ الآثار“ کے مقدمہ میں قوی روایتوں کی روشنی میں لکھا ہے کہ کتاب الآثار براہِ راست امام ابوحنیفہ کی تالیف ہے، امام محمد، امام ابویوسف، امام زفر وغیرہ اس کے راوی ہیں۔ (مرتب)
"کتابُ الآثار” بہ روایت امام محمد
"کتابُ الآثار” بہ روایت قاضی ابویوسف
"کتابُ الآثار” بہ روایت امام زفر
"کتابُ الآثار” بہ روایت امام حسن بن زیاد
مسانید امام ابوحنیفہ:
علماء کرام نے امام ابوحنیفہ کی پندرہ مسانید شمار کی ہیں جن میں ائمہ دین اور حفاظِ حدیث نے آپ کی روایات کو جمع کرکے ہمیشہ کے لیے محفوظ کردیا، ان میں سے مسند امام اعظم علمی دنیا میں مشہور ہے ، جس کی متعدد شروحات بھی تحریر کی گئی ہیں۔ اس سلسلہ میں سب سے بڑا کام ملک شام کے امام ابوالموائد خوارزمی (متوفی ۶۶۵ھ) نے کیا ہے جنہوں نے تمام مسانید کو بڑی ضخیم کتاب ”جامع المسانید“کے نام سے جمع کیا ہے۔
حضرت امام ابوحنیفہ کے مشہور شاگرد امام محمد کی مشہور ومعروف کتابیں بھی فقہ حنفی کے اہم مآخد ہیں۔
المبسوط۔ الجامع الصغیر۔ الجامع الکبیر۔ الزیادات۔ السیر الصغیر۔ السیر الکبیر۔
حضرت امام ابوحنیفہ کا تقویٰ :
کتاب وسنت کی تعلیم اور فقہ کی تدوین کے ساتھ امام صاحب نے زہد وتقویٰ اور عبادت میں پوری زندگی بسر کی۔ رات کا بیشتر حصہ اللہ تعالیٰ کے سامنے رونے، نفل نماز پڑھنے اور تلاوت قرآن کرنے میں گزارتے تھے۔ امام صاحب نے علم دین کی خدمت کو ذریعہٴ معاش نہیں بنایا ؛ بلکہ معاش کے لیے ریشم بنانے اور ریشمی کپڑے تیار کرنے کا بڑا کارخانہ تھا جو صحابی رسول صلی اللہ علیہ وسلم حضرت عمروبن حریث کے گھر میں چلتا تھا۔ امام ابوحنیفہ کا تعلق خوشحال گھرانے سے تھا اس لیے لوگوں کی خاص طور سے اپنے شاگردوں کی بہت مدد کیا کرتے تھے۔ آپ نے ۵۵ حج ادا کیے۔
حضرت امام ابوحنیفہ کی شان میں بعض علماء امت کے اقوال:
* امام علی بن صالح (متوفی ۱۵۱ھ) نے امام ابوحنیفہ کی وفات پر فرمایا: عراق کا مفتی اور فقیہ گزر گیا۔ (مناقب ذہبی ص ۱۸)
* امام مسعر بن کدام (متوفی ۱۵۳ھ) فرماتے تھے کہ کوفہ کے دو کے سوا کسی اور پر رشک نہیں آتا۔ امام ابوحنیفہ اور اور ان کا فقہ، دوسرے شیخ حسن بن صالح اور ان کا زہد وقناعت۔ (تاریخ بغداد ج ۱۴ ص ۳۲۸)
* ملک شام کے فقیہ ومحدث امام اوزاعی (متوفی ۱۵۷ ھ)فرماتے تھے کہ امام ابوحنیفہ پیچیدہ مسائل کو سب اہل علم سے زیادہ جاننے والے تھے۔ (مناقب کردی ص ۹۰)
* امام داوٴد الطائی (متوفی ۱۶۰ھ) فرماتے تھے کہ امام ابوحنیفہ کے پاس وہ علم تھا جس کو اہل ایمان کے دل قبول کرتے ہیں۔ (الخیرات الحسان ص ۳۲)۔
* امام سفیان ثوری (متوفی ۱۶۷ھ) کے پاس ایک شخص امام ابوحنیفہ سے ملاقات کرکے آیا۔ امام سفیان ثوری نے فرمایا تم روئے زمین کے سب سے بڑے فقیہ کے پاس سے آرہے ہو۔ (الخیرات الحسان ص ۳۲)
* امام مالک بن انس (متوفی ۱۷۹ھ) فرماتے ہیں کہ میں نے ابوحنیفہ جیسا انسان نہیں دیکھا۔ (الخیرات الحسان ص ۲۸)
* امام وکیع بن الجراح (متوفی ۱۹۵ ھ) فرماتے ہیں کہ امام ابوحنیفہ سے بڑا فقیہ اور کسی کو نہیں دیکھا۔
* امام یحییٰ بن معین (متوفی ۲۳۳ھ) امام ابوحنیفہ کے قول پر فتویٰ دیا کرتے تھے اور ان کی احادیث کے حافظ بھی تھے۔ انہوں نے امام ابوحنیفہ کی بہت ساری احادیث سنی ہیں۔ (جامع بیان العلم، علامہ ابن عبد البر، ج ۲ ص ۱۴۹)
* امام سفیان بن عینیہ (متوفی ۱۹۸ھ) فرماتے تھے کہ میری آنکھوں نے ابوحنیفہ جیسا انسان نہیں دیکھا۔ دو چیزوں کے بارے میں خیال تھا کہ وہ شہر کوفہ سے باہر نہ جائیں گی؛ مگر وہ زمین کے آخری کناروں تک پہنچ گئیں۔ ایک امام حمزہ کی قرأت اور دوسری ابوحنیفہ کا فقہ۔ (تاریخ بغداد۔ ج۱۳ ص ۳۴۷)
* امام شافعی (متوفی ۲۰۴ھ) فرماتے ہیں کہ ہم سب علم فقہ میں امام ابوحنیفہ کے محتاج ہیں۔ جو شخص علم فقہ میں مہارت حاصل کرنا چاہے وہ امام ابوحنیفہ کا محتاج ہوگا۔ (تاریخ بغداد ج ۲۳ ص ۱۶۱)
* امام بخاری کے استاذ امام مکی بن ابراہیم فرماتے ہیں کہ امام ابوحنیفہ پرہیزگار، عالم آخرت کے راغب اور اپنے معاصرین میں سب سے بڑے حافظ حدیث تھے۔ (مناقب الامام ابی حنیفہ ۔ شیخ موفق بن احمد مکی)
* امام موفق بن احمد مکی ‘ امام بکر بن محمد زرنجری (متوفی ۱۵۲ھ) کے حوالہ سے تحریر کرتے ہیں کہ امام ابوحنیفہ نے کتاب الآثار کا انتخاب چالیس ہزار احادیث سے کیا ہے۔ (مناقب امام ابی حنیفہ)
حضرت امام ابوحنیفہ کے علوم کا نفع:
حضرت امام ابوحنیفہ کے انتقال کے بعد آپ کے شاگردوں نے حضرت امام ابوحنیفہ کے قرآن وحدیث وفقہ کے دروس کو کتابی شکل دے کر ان کے علم کے نفع کو بہت عام کردیا،خاص کر جب آپ کے شاگرد قاضی ابویوسف عباسی حکومت میں قاضی القضاة کے عہدہ پر فائز ہوئے تو انہوں نے قرآن وحدیث کی روشنی میں امام ابوحنیفہ کے فیصلوں سے حکومتی سطح پر عوام کو متعارف کرایا؛ چنانچہ چند ہی سالوں میں فقہ حنفی دنیا کے کونے کونے میں رائج ہوگیا اور اس کے بعد یہ سلسلہ برابر جاری رہا حتی کہ عباسی وعثمانی حکومت میں مذہب ابی حنیفہ کو سرکاری حیثیت دے دی گئی؛ چنانچہ آج ۱۴۰۰ سال گزرجانے کے بعد بھی تقریباً ۷۵ فیصد امت مسلمہ اس پر عمل پیرا ہے اور اب تک امت مسلمہ کی اکثریت امام ابوحنیفہ کی قرآن وحدیث کی تفسیر وتشریح اور وضاحت وبیان پر ہی عمل کرتی چلی آرہی ہے۔ ہندوستان، پاکستان، بنگلہ دیش اور افغانستان کے مسلمانوں کی بڑی اکثریت جو دنیا میں مسلم آبادی کا ۶۰ فیصد سے زیادہ ہے، اسی طرح ترکی اور روس سے الگ ہونے والے ممالک نیز عرب ممالک کی ایک جماعت قرآن وحدیث کی روشنی میں امام ابوحنیفہ کے ہی فیصلوں پر عمل پیرا ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
✍️
مفتیہ نمرہ قریشی