ذکر ظلم
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ظالم اسامی کی سب سے بڑی کوالیفیکیشن خست ہے، اگر آپ کمینے نہیں ہیں تو ظالم کے منصب کو کوالیفائی نہیں کرتے، ظالم یہ اطمینان خوب کر لیتا ہے کہ فریق مخالف دست بستہ، بے بس، لاوارث اور بے منہ ہے، رد عمل کا امکان نہیں، پھر وہ ارمان نکالتا ہے، ایک صاحب طیش کے لیے معروف تھے، چھوٹوں پر اشتعال بے قابو رہتا تھا، ایک روز وہ عام ڈرائیور پر سیدھے ہو گئے، ڈرائیور بھی آزاد تھا، وہ بھی بگڑ گیا، یہ رنگ دیکھ کر صاحب فورا طفلِ معصوم بن گئے۔
ہماری مسجد کے ایک ذمے دار تند خو ہیں، آئے دن عملے سے الجھتے ہیں، ایک دن مرحوم موذن کو ڈانٹ پلا رہے تھے، وہ قدیم الزمان خادم تھا، اسے سینیئریٹی یاد آگئی، پھر اس نے جو مقامی دکنی زبان میں جملوں کی گیند اسی قوت سے لوٹائی تو دماغ درست ہو گیا، بنگلور کی مقامی زبان لسانیات کا عظیم باب ہے، بہت سے معانی میں اردو پر بھاری ہے، اس کی نسائی فصل حیرت انگیز ہے اور لڑائی کی زبان تو تاثیر و ادا میں زبانوں کی ماں ہے، قریب سے دیکھو گے تو اپنی اردو کی بالادستی کا زعم متوازن ہو جائے گا، یہاں کی زبان میں بلا کی بلاغت ہے۔
خیر! مضمون آوارہ ہو گیا، تو ظالم طبیعت کے لحاظ سے بہتر نہیں ہوتا، وہ مظلوم کی کسی کم زوری کا فائدہ اٹھاتا ہے، یہاں ہماری قوت تفکیر دور دراز گشت لگائے گی؛ جب کہ یہ سطور قاری کو نزدیکی سیاق میں رکھنا چاہتی ہیں، ہمارے سابقے میں دو رشتے ہیں: شاگردی اور نسبتِ ولدیت، ان دونوں تعلقات میں ہم بعینہ اسی کم ظرفی کا مظاہرہ کرتے ہیں جو ہمیں سرکاری سطح پر شنیع دکھائی دیتی ہے، استاذ اپنے مجبور شاگرد کا فائدہ اٹھاتا ہے اور اسے صرف اس لیے مارتا ہے کہ رد عمل کا نہ آنا حتمی ہے، یہی فطرتِ بد والدین کو یا ان میں سے ایک کو ظلم کا حوصلہ دیتی ہے، وہ بچے کو زبانی، ذہنی اور جسمانی اذیت دینے میں صرف اس لیے جری ہیں کہ آزادی محسوس کرتے ہیں، بعض والدین کے تجاوز کو دیکھ کر خیال گذرا کہ مغربی ممالک نے والدین کی ضرب کے خلاف جو قانون سازی کی ہے وہ پورے طور پر بے محل نہیں، انسان کمزوری کا فائدہ اٹھاتا ہے اور اس فطرت میں وہ اپنے بچے کو بھی استثنا نہیں دیتا۔
اولاد کی شادی میں تاخیر بھی والدین کے ظلم کی مثال ہے، بالخصوص لڑکیوں کے تناظر میں؛ کیوں کہ ہمارے ماحول میں بیٹیاں بے زبان ہیں، وہ والدین کی طاعتِ زائد میں اپنی خوشیوں کی قربانی دیتی ہیں، باپ خود ساختہ معیار کے انتظار میں مناسب رشتے نظر انداز کرتا ہے اور بیٹی کی مفت خدمات لوٹتا ہے، جب عمر متجاوز ہو جاتی ہے تو رشتے بند ہو جاتے ہیں، ابتدائی عمر میں رشتے من جانب اللہ آتے ہیں، جو ناشکری پر موقوف ہو جاتے ہیں، اس مرحلے پر شیطان اسے ایک جملہ تلقین کرتا ہے کہ میری بیٹی میرے اوپر بوجھ نہیں ہے، یہ تلبیس ہے؛ کیوں کہ شادی اس کا نجی معاملہ نہیں تھا کہ وہ قوتِ برداشت جتائے، یہ بیٹی کا ذاتی معاملہ ہے، آپ نے اس کی امنگوں کا خون کر دیا، اسے لطفِ زندگی سے محروم کر دیا اور زیادہ تاخیر کی صورت میں شاید اولاد سے بھی؛ کیوں کہ ایک عمر کے بعد قوتِ تولید ختم ہو جاتی ہے، فقہائے حنفیہ دور اندیش ہیں جو بالغ لڑکی کے فیصلۂ نکاح کو درست کہتے ہیں، ظلم کے لفظ پر ہم حکومتی ایوانوں میں جھانکنے نکل جاتے ہیں؛ جب کہ ظلم ہمارے اردگرد رقصاں ہے؛ بل کہ ہم خود اپنی عمل داری میں ظالم ہیں، حتی کہ بڑی بزرگ ہستیاں بھی مستثنی نہیں۔