*شادی دین کی بنیاد یا دنیا کی نمائش*
شادی انسانی زندگی کا وہ بنیادی اور فیصلہ کن مرحلہ ہے جس پر انسان کی پوری زندگی کی سمت متعین ہو جاتی ہے۔ یہ صرف دو افراد کے درمیان ایک قانونی یا سماجی معاہدہ نہیں، بلکہ دو دلوں، دو خاندانوں، دو سوچوں اور دو نسلوں کے مستقبل کا سنگم ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اگر یہ رشتہ صحیح بنیادوں پر قائم ہو جائے تو انسان کی زندگی سکون، محبت، اعتماد اور رحمت سے بھر جاتی ہے، اور اگر غلط بنیادوں پر استوار ہو تو یہی رشتہ آزمائش، بے چینی، تلخی اور پچھتاوے میں بدل جاتا ہے۔
یہ حقیقت اپنی جگہ مسلم ہے کہ مرد ہو یا عورت، شادی کے بعد دونوں کی زندگی یکسر بدل جاتی ہے۔ آزادی محدود ہو جاتی ہے، ذمہ داریاں بڑھ جاتی ہیں، اور اب انسان کے فیصلے صرف اس کی ذات تک محدود نہیں رہتے بلکہ اس کے شریکِ حیات، والدین اور آنے والی نسلوں تک ان کے اثرات پہنچتے ہیں،اسی لیے اسلام نے شادی کے معاملے میں جلدبازی، ظاہرداری اور وقتی جذبات کی سختی سے نفی کی ہے، اور ہمیں غور و فکر، دعا اور دینی معیار اپنانے کی تعلیم دی ہے،بدقسمتی سے ہمارا موجودہ معاشرہ اس واضح دینی رہنمائی سے بہت دور جا چکا ہے، آج شادی جیسے مقدس رشتے کو ہم نے جہیز، دولت، ہائی اسٹیٹس، ذات پات اور قوم پرستی کے ترازو میں تولنا شروع کر دیا ہے، لڑکی کے دین، اخلاق، تربیت اور کردار کے بجائے اس کے باپ کی جیب، اس کے گھر کا فرنیچر اور اس کی شادی میں آنے والا سامان فیصلہ کن معیار بن چکا ہے، یہی وہ مقام ہے جہاں سے فساد کی ابتدا ہوتی ہے،اگر ہم اپنے آس پاس نظر دوڑائیں تو ہمیں ہر دوسرے یا تیسرے گھر میں گھریلو جھگڑے، شکایات اور الزام تراشیاں نظر آئیں گی، کہیں ساس یہ کہتی دکھائی دیتی ہے کہ بہو گھر کا کام نہیں کرتی، کہیں بہو کے بدکلام ہونے کا شکوہ کیا جاتا ہے، کہیں یہ خیال عام ہے کہ بہو نے بیٹے کو ماں باپ سے دور کر دیا ہے، اور بعض گھروں میں تو معاملہ جادو ٹونے جیسے وہم تک جا پہنچتا ہے، غور کرنے کی بات یہ ہے کہ کیا ان تمام گھروں میں مسئلہ صرف بہو ہی ہوتی ہے؟ یا پھر اصل مسئلہ انتخاب کے غلط معیار میں پوشیدہ ہوتا ہے؟ *ذرا ٹھہر کر ایمانداری سے سوچیے، وہ بہو آسمان سے نازل نہیں ہوئی تھی، اسے آپ ہی نے پورے ہوش و حواس میں، باقاعدہ رضا مندی اور نکاح کے ذریعے اپنے گھر لایا تھا، اصل سوال یہ ہے کہ آپ نے اسے کن بنیادوں پر منتخب کیا؟ کیا دین، اخلاق، حیا اور تربیت کو ترجیح دی گئی تھی، یا پھر جہیز، دولت اور سماجی حیثیت کو؟* یہ بھی ایک تلخ مگر سچی حقیقت ہے کہ ہم میں سے اکثر لوگ رشتے دیکھنے غریب گھروں میں بھی جاتے ہیں، وہاں ہم نے سادہ طرزِ زندگی، کچے مکان، پرانے کپڑے اور محدود وسائل دیکھے ہوتے ہیں، ہم نے وہ بیٹیاں بھی دیکھی ہوتی ہیں جو شرم و حیا کے ساتھ نظریں جھکائے چائے پیش کرتی ہیں، جو گھبراہٹ کے عالم میں بھی ادب و احترام کا دامن نہیں چھوڑتیں، جو پورے گھر کے کام کاج سے واقف ہوتی ہیں، اور جن میں صبر، برداشت اور خدمت کا جذبہ ہوتا ہے، مگر افسوس کہ صرف اس ایک وجہ سے کہ وہ جہیز نہیں لا سکتیں، ہم انہیں خاموشی سے رد کر دیتے ہیں۔
یاد رکھیے! جب کسی غریب بچی کا رشتہ محض جہیز کی بنیاد پر ٹھکرا دیا جاتا ہے تو یہ محض ایک فرد کی ناقدری نہیں بلکہ پورے معاشرے کے لیے فساد کا دروازہ کھل جاتا ہے، ایسی بچیوں کی عمریں بڑھتی چلی جاتی ہیں، مایوسی عام ہوتی ہے، *اور کئی باپ اپنی بیٹیوں کی شادی کے لیے بھاری قرض اٹھانے پر مجبور ہو جاتے ہیں، نتیجتاً ان کی باقی زندگی قرض، ذلت اور فکروں میں گزر جاتی ہے* سب سے افسوسناک پہلو یہ ہے کہ ایسا طرزِ عمل سراسر رسول اللہ ﷺ کی تعلیمات کے خلاف ہے، نبی کریم ﷺ نے نکاح کو آسان بنانے کی تاکید فرمائی، جہیز کے بوجھ کو ناپسند فرمایا اور دین و اخلاق کو شریکِ حیات کے انتخاب کا اصل معیار قرار دیا، جب امتِ محمدیہ ﷺ میں غریب بچیوں کو صرف مالی کمزوری کی بنیاد پر رد کیا جائے تو یہ یقیناً آپ ﷺ کے دلِ مبارک کو تکلیف پہنچانے کے مترادف ہے🥹۔
اسلام ہمیں یہ نہیں سکھاتا کہ شریکِ حیات دولت مند ہو، بلکہ یہ سکھاتا ہے کہ وہ دیندار ہو، ہمیں یہ نہیں کہا گیا کہ ذات، قوم یا خاندانی برتری دیکھو، بلکہ یہ حکم دیا گیا کہ اخلاق، حیا، عبادت اور کردار کو ترجیح دو، ایسی لڑکی جو پردے کی پابند ہو، نماز اور عبادات کا اہتمام کرتی ہو، اللہ اور رسول ﷺ کے احکامات سے واقف ہو، شوہر کی عزت کرنے والی ہو، سسرال کو اپنا گھر سمجھے اور اولاد کی دینی و اخلاقی تربیت کر سکے، وہی دراصل ایک کامیاب ازدواجی زندگی کی بنیاد بنتی ہے،اکثر لوگ یہ شکوہ کرتے ہیں کہ آج کے دور میں ایسے رشتے نہیں ملتے، حقیقت یہ ہے کہ ایسے رشتے تلاش کرنے سے نہیں بلکہ اللہ سے مانگنے سے ملتے ہیں، یہ دعا کے ذریعے نصیب ہوتے ہیں،خود کو بھی اس معیار کا بنانا پڑتا ہے، انسان کو چاہیے کہ دل کی گہرائی سے اللہ کے حضور گڑگڑا کر دعا کرے: اے اللہ! مجھے وہ شریکِ حیات عطا فرما جو میرے لیے دنیا اور آخرت دونوں میں باعثِ خیر ہو۔
آج اگر ہمارے معاشرے میں طلاق کی شرح بڑھ رہی ہے، گھریلو جھگڑے عام ہو چکے ہیں، اور شادیاں چند ہی برسوں میں ٹوٹتی نظر آتی ہیں تو اس کی بنیادی وجہ یہی ہے کہ ہم نے رسول اللہ ﷺ کے بتائے ہوئے معیار کو چھوڑ دیا ہے اور اپنی خواہشات، روایات اور نمود و نمائش کو معیار بنا لیا ہے،لہٰذا اگر ہم واقعی ایک خوبصورت، پُرسکون اور بابرکت زندگی چاہتے ہیں تو ہمیں چاہیے کہ رشتہ کرتے وقت جہیز، اسٹیٹس اور دولت کے معاملے میں آنکھیں بند کر لیں، اور دین، اخلاق اور کردار کے معاملے میں آنکھیں کھول کر دیکھیں، رشتہ کرنے سے پہلے سیرتِ رسول ﷺ کا سنجیدگی سے مطالعہ کریں، کیونکہ آپ ﷺ کی زندگی ہمارے لیے ہر معاملے میں کامل اور بہترین نمونہ عمل ہے۔
میری خواہش صرف اتنی سی ہے
کہ یہ تحریر کسی کو غلط راستے پر جاتے ہوئے روک لے،اور اگر روک نہ سکے،تو کم از کم اسے ایک لمحے کے لیے سوچنے پر ضرور مجبور کر دے،اللہ کریم اس معزز قوم کو پھر وہ مقام عطا کردے جس پر یہ فائز تھی،ہماری بہنوں کے نصیب کو اچھا کرے،اور ہمارے گھروں میں اتفاق اور تحاد پیدا فرمائے آمیـــــــــــــــــن یــــا رب الــــــــعـــــــالــــــمـــــیــن بجاہ النبی الکریم ﷺ۔

                    *✍️متعلم الجامعۃ الاشرفیہ✍️*