فتنوں کا زمانہ اور ہماری ذمہ داریاں: سیاسی سراب سے حقیقتِ ایمان تک
✍️ محمد سلیمان قریشی
بسم الله الرحمن الرحيم 
آج ہم ایک ایسے پُر آشوب دور میں سانس لے رہے ہیں جہاں سچائی کی آواز شور و غوغہ میں دب گئی ہے۔ ٹیکنالوجی کے اس سیلاب نے جہاں فاصلے مٹائے، وہاں "اطلاعاتی جنگ" (Information Warfare) کے ذریعے انسانی ذہنوں کو اپنا اسیر بنا لیا ہے۔ بھارت جیسے کثیر الجہتی معاشرے میں، جہاں آئی ٹی سیلز اور مخصوص میڈیا ہاؤسز (Godi Media) دن رات پروپیگنڈا کی بھٹی سلگاتے ہیں، وہاں ایک عام انسان کے لیے سچ اور جھوٹ کا فرق کرنا جوئے شیر لانے کے مترادف ہو گیا ہے۔
1. پروپیگنڈا کی فنکاری اور نفسیاتی حربے
جھوٹی خبر (Fake News) محض ایک غلط اطلاع نہیں ہوتی، بلکہ یہ ایک نفسیاتی ہتھیار ہے۔ اس کے پیچھے درج ذیل منظم طریقے کارفرما ہوتے ہیں:
سیاق و سباق کی تبدیلی
کسی پرانی ویڈیو یا تصویر کو کاٹ چھانٹ کر اسے نئے اور حساس واقعے سے جوڑنا۔
جذباتی اشتعال انگیزی: ایسی سرخیاں اور بیانیے (Narratives) ترتیب دینا جو انسان کی عقل کو مفلوج کر کے اسے جذباتی بنا دیں، کیونکہ جذباتی انسان تحقیق کرنا بھول جاتا ہے۔
کووڈ-19 کی مثال
وبائی دور میں ہم نے دیکھا کہ کس طرح بیماری کو مذہبی رنگ دے کر سماج میں نفرت بوئی گئی۔ یہ اس پروپیگنڈا کی بدترین شکل تھی جہاں انسانی جانوں سے زیادہ سیاسی ایجنڈے کو اہمیت دی گئی۔
2. میزانِ حق: قرآن و حدیث کی روشنی میں
ایک مسلمان کے لیے کسی بھی خبر یا اطلاع کے معاملے میں "میزان" اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی تعلیمات ہیں۔
قرآنی اصول (تحقیق): اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: "اے ایمان والو! اگر تمہارے پاس کوئی فاسق کوئی خبر لائے تو اس کی اچھی طرح تحقیق کر لیا کرو، کہیں ایسا نہ ہو کہ تم نادانی میں کسی قوم کو نقصان پہنچا بیٹھو۔" (سورۃ الحجرات آیت ۶ )۔ یہ آیت ہمیں سکھاتی ہے کہ سنی سنائی بات پر یقین کرنا "نادانی" اور "پشیمانی" کا باعث بنتا ہے۔
نبویؐ ہدایت (احتیاط): نبی کریم ﷺ نے ہر سنی سنائی بات کو بغیر تحقیق کے آگے بیان کرنے والے کو "جھوٹا" قرار دیا ہے۔ (صحيح مسلم) آج کا ایک 'شیئر' یا 'فارورڈ' ہمیں اسی وعید کے زمرے میں لا کھڑا کرتا ہے۔
3. سیاسی وکالت: ایک بے سود مشغلہ
موجودہ دور کا ایک بڑا المیہ یہ ہے کہ مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد اپنا قیمتی وقت ان سیاسی جماعتوں (جیسے کانگریس یا دیگر علاقائی پارٹیاں) کے دفاع میں صرف کر رہی ہے جن کا مقصد صرف اقتدار ہے۔
شناخت کا مغالطہ: ہم نے اپنی بقا کو سیاسی پارٹیوں کی کامیابی سے جوڑ لیا ہے، جبکہ حقیقت میں پارٹیاں اپنے مفادات کی قائل ہوتی ہیں۔
وقت کا ضیاع: دوسروں کے سیاسی ایجنڈے کے لیے سوشل میڈیا پر دست و گریباں ہونا نہ صرف بے سود ہے بلکہ یہ ہمیں اپنی اصل ذمہ داریوں سے غافل کر دیتا ہے۔

4. اصل ترجیح: ایمان اور اخلاق کی آبیاری
ہمیں اس حقیقت کو تسلیم کرنا ہوگا کہ ہماری اصل طاقت پارلیمنٹ کی کرسیوں میں نہیں، بلکہ ہمارے ایمان اور اخلاق میں ہے۔
قُوا اَنفُسَکُم (اپنی فکر): قرآن کریم کا حکم ہے کہ پہلے اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو جہنم کی آگ سے بچاؤ۔ کیا ہم دوسروں کی سیاست بچاتے بچاتے اپنے گھر کا دینی ماحول تو برباد نہیں کر رہے؟
تربیتِ اولاد: ہماری بحثوں کا مرکز راہول گاندھی یا مودی جی کے بجائے ہمارے بچوں کی تعلیم، ان کی اخلاقی تربیت اور ان کا روشن مستقبل ہونا چاہیے۔
5. تدارک اور لائحہ عمل
اس فتنے سے بچنے کے لیے درج ذیل نکات پر عمل پیرا ہونا ضروری ہے:
ڈیجیٹل ڈسپلن: سوشل میڈیا کو صرف ضرورت کی حد تک استعمال کریں اور سیاسی بحثوں سے مکمل پرہیز کریں۔
تحقیق کا عمل: کسی بھی وائرل خبر کو پھیلانے سے پہلے 'فیکٹ چیک' ویب سائٹس (مثلاً Alt News) سے تصدیق کریں۔
مثبت سرگرمیاں: اپنا وقت علم کے حصول، معاشی استحکام اور رفاہِ عامہ کے کاموں میں لگائیں۔
خاموشی کی فضیلت: جب فتنہ عام ہو جائے تو زبان اور قلم کی خاموشی ہی بہترین حکمتِ عملی ہے۔
سیاست دان اپنا کھیل کھیل رہے ہیں، میڈیا اپنی تجارت کر رہا ہے، لیکن ہم سے ہماری زندگی کے لمحات کا حساب ہوگا۔ ہمیں دوسروں کا "مفت وکیل" بننے کے بجائے اللہ کا "سچا بندہ" بننے کی فکر کرنی چاہیے۔ جب ہمارا کردار مضبوط ہوگا اور اخلاق بلند ہوگا، تو باطل کا ہر پروپیگنڈا خود بخود دم توڑ دے گا۔