یہ معاشرہ خودکشی پر نہیں، خودکشی کرنے والے پر بات کرتا ہے کیونکہ الزام دینا آسان ہے، آئینہ دیکھنا نہیں۔ یہاں سب کے پاس رائے ہے، مگر کسی کے پاس وقت، ہمدردی یا ذمہ داری نہیں۔ کوئی کہتا ہے “ایمان کمزور تھا”، کوئی فیصلہ سناتا ہے “حوصلہ نہیں تھا”، اور کوئی بے شرمی سے کہہ دیتا ہے “توجہ چاہیے تھی"جیسے انسان کا درد عوامی اجازت کا محتاج ہو
ہمیں خودکشی سے مسئلہ نہیں، ہمیں “خودکشی کرنے والے” سے مسئلہ ہوتا ہے۔ ہم فوراً اس کا ایمان ناپتے ہیں، اس کا حوصلہ تولتے ہیں، اس کی نیت پر بحث کرتے ہیں۔ کوئی کہتا ہے “کمزور تھا”، کوئی کہتا ہے “attention seeker”، کوئی فتویٰ داغتا ہے “ایمان ہی نہیں تھا” جیسے انسان کا درد ہمارے سرٹیفکیٹ کا محتاج ہو۔ مرنے والے کو صفائی کا موقع نہیں ملتا، مگر بولنے والوں کی زبان کبھی نہیں تھکتی۔
یہاں ذہنی اذیت کو مذاق سمجھا جاتا ہے۔ ڈپریشن بہانہ ہے، خاموشی ڈرامہ، اور مدد مانگنا شرمندگی۔ جو بولے، اسے چپ کرا دیا جاتا ہے؛ جو چپ ہو جائے، اسے مضبوط مان لیا جاتا ہے؛ اور جب وہ ختم ہو جائے تو ہم اچانک اخلاقیات کے چیمپئن بن جاتے ہیں۔ یہ وہ معاشرہ ہے جو لاش پر رو کر اپنے ضمیر کو دھو لیتا ہے۔
نوجوانوں کو ہم نے مقابلے کی بھٹی میں جھونک دیا ہے۔ نمبر نہیں؟ ناکام۔ نوکری نہیں؟ نکما۔ شادی میں دیر؟ مسئلہ۔ خوش نہیں؟ ناشکرا۔ اور جب یہ سب مل کر کسی کو توڑ دیں تو ہم کہتے ہیں: “اس نے برداشت کیوں نہیں کیا؟” جیسے سانس لینا بھی اجازت سے مشروط ہو۔
سب سے زیادہ خطرناک وہ لوگ ہیں جو کہتے ہیں:
“ایسے لوگ بس بہانے بناتے ہیں”
“ہماری generation نے تو سب برداشت کیا”
“زندگی آسان نہیں ہوتی”
یہ جملے نصیحت نہیں، یہ زہر ہیں۔ خاموش، مہذب، مگر مہلک۔ یہی رائے انسان کو یقین دلاتی ہے کہ اس کا درد ناجائز ہے، اور وہ اکیلا ہے۔
واضح رہے:
خودکشی نہ حل ہے، نہ بہادری، نہ رومان۔
مگر اس سے بھی زیادہ مکروہ وہ معاشرہ ہے
جو انسان کو اس مقام تک پہنچا کر
خود کو بری الذمہ سمجھ لے۔
یہ تحریر مرنے والوں کی حمایت نہیں،
یہ زندہ رہ کر مارنے والوں کے خلاف چارج شیٹ ہے
کیونکہ اصل مسئلہ موت نہیں،
وہ رویے ہیں جو جینے نہیں دیتے..