کاسۂ گدائی میں چھپا لہو: ہمدردی کے پردے میں پنپتے منظم جرم کی داستان

تیار کردہ: ✍️ محمد سلیمان قریشی

بسم الله الرحمن الرحيم 

شہر کی مصروف ترین شاہراہ پر جب ٹریفک کا شور تھمتا ہے اور سرخ بتی جلتی ہے، تو گاڑی کے بند شیشے پر ایک ناتواں ہاتھ کی دستک سنائی دیتی ہے۔ اس ہاتھ میں ایک خالی پیالہ ہے اور آنکھوں میں ویرانی۔ ہمارا ہاتھ بے اختیار جیب کی طرف جاتا ہے اور ایک سکہ اس پیالے میں گرتے ہی ہمیں اپنی 'نیکی' کا سکون مل جاتا ہے۔ لیکن ٹھہریے! کیا وہ سکہ واقعی اس مجبور کی بھوک مٹائے گا؟ یا یہ سکہ کسی ایسے بھیڑیے کی تجوری میں جائے گا جس نے اس مجبور انسان کو 'بھکاری' کے روپ میں ڈھال کر سڑک پر لا کھڑا کیا ہے؟
​مشہور یوٹیوبر اور تجزیہ نگار دھرو راٹھی کی حالیہ ویڈیو رپورٹ "Reality of Indian Beggars" سماج کے اسی رستے ہوئے ناسور پر سے پردہ اٹھاتی ہے۔ یہ محض بھیک مانگنے والوں کی کہانی نہیں، بلکہ ہمدردی کے جذبات سے کھیلنے والی ایک ڈیڑھ لاکھ کروڑ کی کالی صنعت کا نوحہ ہے۔
سریش مانجھی: خوابوں سے اندھیروں تک
اس تاریک دنیا کی ہولناکی کو سمجھنے کے لیے "سریش مانجھی" کی داستان سننا ضروری ہے، جس کا ذکر دھرو نے کیا۔ کانپور کا یہ محنت کش مزدور، جو روزگار کے خواب لے کر گھر سے نکلا تھا، اسے کیا خبر تھی کہ شہر کے بھیڑیے اس کی تاک میں ہیں۔ اسے اغوا کیا گیا، نشہ آور انجیکشن دے کر ہمیشہ کے لیے بینائی سے محروم کر دیا گیا اور ظلم کی انتہا دیکھیے کہ اس کی انگلیاں کاٹ دی گئیں۔ کیوں؟ تاکہ اس کا حلیہ اتنا عبرتناک ہو جائے کہ دیکھنے والے کا دل دہل جائے اور وہ ترس کھا کر جیب ڈھیلی کر دے۔ سریش اب انسان نہیں رہا تھا، وہ "بیگر مافیا" (Beggar Mafia) کا ایک 'پراڈکٹ' بن چکا تھا، جسے ایک جگہ سے دوسری جگہ بیچا اور خریدا جاتا رہا۔
​کرائے کی معصومیت
دھرو راٹھی کی تحقیق کا سب سے لرزہ خیز پہلو بچوں سے متعلق ہے۔ وہ پھول جیسے بچے جنہیں ماؤں کی گود میں ہونا چاہیے تھا، وہ 300 روپے یومیہ کے عوض کرائے پر اٹھائے جاتے ہیں۔ آندھرا پردیش اور دیگر ریاستوں میں، ان شیر خوار بچوں کو افیون، نیند کی گولیاں یا کف سیرپ پلا کر سلا دیا جاتا ہے، تاکہ وہ سارا دن خاموش رہیں اور لوگ انہیں بیمار سمجھ کر زیادہ بھیک دیں۔ ذرا سوچیے، وہ بچہ جو آپ کو کسی خاتون کی گود میں سویا ہوا نظر آتا ہے، شاید وہ اس کا اپنا بچہ ہی نہ ہو، بلکہ بھیک کے کاروبار میں استعمال ہونے والا ایک 'آلہ' ہو۔
​اعداد و شمار کا نوحہ
بھارت میں سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 4 لاکھ سے زائد بھکاری ہیں، لیکن حقیقت اس سے کہیں زیادہ تلخ ہے۔ ان میں سے 21 فیصد لوگ بارہویں جماعت پاس ہیں اور ہزاروں کے پاس پروفیشنل ڈگریاں ہیں۔ یہ اعداد و شمار ہمارے معاشی نظام اور بے روزگاری کے بحران پر ایک طمانچہ ہیں۔ یہ لوگ دو گروہوں میں بٹے ہیں: ایک وہ جو حالات کی ستم ظریفی (غربت، بیماری) کے سبب ہاتھ پھیلانے پر مجبور ہیں، اور دوسرے وہ جو منظم مافیا کے چنگل میں پھنس کر یہ کام کر رہے ہیں۔ المیہ یہ ہے کہ ایک عام شہری ان دونوں میں تمیز کرنے سے قاصر ہے۔
​قانون کی بے بسی اور حکمرانوں کی نقاب پوشی
ہمارا قانون اور انتظامیہ اس مسئلے کو حل کرنے کے بجائے اسے چھپانے میں زیادہ دلچسپی رکھتے ہیں۔ 1959 کا "بامبے بیگری ایکٹ" مافیا کے سرغنوں کو پکڑنے کے بجائے سڑک پر موجود اس لاچار بھکاری کو مجرم ٹھہراتا ہے جو خود ظلم کا شکار ہے۔ دھرو راٹھی نے درست نشاندہی کی کہ جب جی-20 (G-20) جیسے بین الاقوامی اجلاس ہوتے ہیں یا کوئی غیر ملکی مہمان آتا ہے، تو ان بھکاریوں کو شہر بدر کر دیا جاتا ہے یا دیواروں کے پیچھے چھپا دیا جاتا ہے، بالکل اسی طرح جیسے ہم گھر میں مہمانوں کے آنے پر کوڑا قالین کے نیچے دبا دیتے ہیں۔
​ہم کیا کریں؟
اس پوری صورتحال میں ایک حساس دل رکھنے والا انسان کیا کرے؟ کیا ہم اپنا دل پتھر کر لیں؟ دھرو راٹھی کا تجزیہ ہمیں ایک نئی راہ دکھاتا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ "سڑک پر نقد پیسے دینا بند کریں"۔ آپ کا دیا ہوا دس کا نوٹ اس بچے کے ہاتھ میں نہیں بلکہ اس مافیا ڈان کی جیب میں جاتا ہے جو اسے نشے پر لگائے رکھتا ہے۔
​اگر مدد کرنی ہے تو 'روٹی' دیں، 'کپڑا' دیں، یا ان تنظیموں (NGOs) کا ساتھ دیں جو ان کی بحالی کے لیے کوشاں ہیں۔ ہمیں اپنے جذبات کو عقل کے تابع کرنا ہوگا۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ ہماری نیکی، کسی معصوم کی زندگی کی بربادی کا سبب بن رہی ہو۔
​حرفِ آخر:
بھیک کا یہ پھیلا ہوا جال صرف قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ناکامی نہیں، بلکہ ہمارے سماجی شعور کا امتحان بھی ہے۔ جب تک ہم نقد بھیک دے کر اپنی "جنت" خریدنے کی کوشش کرتے رہیں گے، سریش مانجھی جیسے لوگ اندھے کیے جاتے رہیں گے اور معصوم بچوں کو نشہ دے کر سڑکوں پر لٹایا جاتا رہے گا۔ فیصلہ اب ہمارے ہاتھ میں ہے۔

​ماخذ: دھرو راٹھی ویڈیو ( Reality of Indian beggar)