ہم بدل گئے یا زمانہ؟

اکثر ہم اپنی کمزوریوں، الجھنوں اور ناکامیوں کا الزام زمانے پر ڈال دیتے ہیں۔ کہتے ہیں: یہ دور ہی خراب ہے، یہ زمانہ ہی ایسا ہو گیا ہے۔ مگر ذرا ٹھہر کر سوچیں تو ایک سوال خود سے بھی بنتا ہے: کیا واقعی زمانہ بدل گیا ہے، یا ہم خود بدل چکے ہیں؟
زمانہ تو وہی ہے—دن اب بھی طلوع ہوتا ہے، سچ آج بھی سچ ہے، اور جھوٹ آج بھی جھوٹ۔ فرق اگر آیا ہے تو ہمارے رویّوں میں، ہماری ترجیحات میں، اور ہمارے فیصلوں میں آیا ہے۔ ہم نے آسان راستے کو درست راستہ سمجھ لیا، اور وقتی فائدے کو اصل کامیابی۔
پہلے لوگ غلطی پر شرمندہ ہوتے تھے، آج غلطی پر دلائل دیے جاتے ہیں۔ پہلے خاموشی وقار سمجھی جاتی تھی، آج شور کو اثر سمجھا جاتا ہے۔ یہ تبدیلی زمانے نے نہیں کی، یہ ہم نے خود کی ہے—اپنی سہولت کے مطابق، اپنی خواہش کے مطابق۔
سچ یہ ہے کہ زمانہ ہمیں آئینہ دکھاتا ہے۔ اگر ہمیں اس میں بگاڑ نظر آ رہا ہے تو ممکن ہے تصویر ہماری اپنی ہو۔ ہم وہی دیکھتے ہیں جو ہم بن چکے ہوتے ہیں۔ جب نیت کمزور ہو جائے تو زمانہ ظالم لگنے لگتا ہے، اور جب ضمیر جاگتا ہو تو یہی زمانہ موقع بن جاتا ہے۔
اصل ضرورت زمانے کو بدلنے کی نہیں، بلکہ خود کو سنوارنے کی ہے۔ کیونکہ جب انسان درست ہو جائے تو زمانہ خود بخود قابلِ برداشت بلکہ قابلِ اصلاح ہو جاتا ہے۔
آخر میں سوال اب بھی وہی ہے—سادہ مگر گہرا:
ہم بدل گئے یا زمانہ؟
اور شاید اس کا جواب ہمیں آئینے میں دیکھ کر دینا ہوگا، زمانے کو دیکھ کر نہیں۔