اللہ کی نعمت، ہماری مایوسی اور پھر پچھتاوا
                (معاشرتی تحریر)
بسم اللہ الرحمن الرحیم مضمون (83)
انسان کی زندگی دراصل عطاؤں اور آزمائشوں کا مجموعہ ہے۔ اللہ تعالیٰ ہر انسان کو بے شمار نعمتوں سے نوازتا ہے، ایسی نعمتیں جن کا شمار ممکن نہیں۔ مگر انسان کی فطرت یہ ہے کہ وہ اکثر ان نعمتوں کو نظرانداز کر دیتا ہے جو اسے بلا مانگے ملی ہوتی ہیں، اور اپنی توجہ صرف اُس ایک نعمت پر مرکوز رکھتا ہے جس کا وہ شدت سے منتظر ہوتا ہے۔ اسی انتظار میں دعا، تمنا، حسرت اور کبھی شکوہ و مایوسی جنم لیتی ہے۔ یوں اللہ کی نعمت، انسان کی کم ظرفی، اور پھر پچھتاوا—یہ تینوں ایک مسلسل سلسلہ بن جاتے ہیں۔
نعمت کے چار ممکنہ حالات
انسان کو زندگی میں نعمت چار طرح سے ملتی یا نہ ملتی ہے، اور ہر صورت میں اس کے ایمان اور رویّے کا امتحان ہوتا ہے:
1. بن مانگے مل جانے والی نعمتیں
کچھ نعمتیں ایسی ہیں جو اللہ اپنے فضل سے بغیر مانگے عطا فرما دیتا ہے، جیسے ایمان و اسلام، عقل و شعور، آنکھ، کان، صحت اور سانس جیسی بنیادی سہولتیں۔ یہ وہ نعمتیں ہیں جن کے بغیر زندگی کا تصور ممکن نہیں۔ ان پر انسان کا فرض ہے کہ شکرِ خداوندی بجا لائے، زبان سے بھی اور عمل سے بھی۔ کیونکہ اللہ خود اعلان فرماتا ہے:
لَئِن شَكَرْتُمْ لَأَزِيدَنَّكُمْ
(اگر تم شکر کرو گے تو میں تمہیں اور بڑھا دوں گا) ــ سورۃ ابراہیم: 7
مگر افسوس کہ انسان انہی نعمتوں کو سب سے کم یاد رکھتا ہے۔
2. مانگ کر مل جانے والی نعمتیں
کبھی انسان کسی نعمت کے لیے دعا کرتا ہے اور وہ اسے مل بھی جاتی ہے، جیسے اولاد، شادی، روزگار یا عزت۔ یہ نعمت اصل میں دوہرا امتحان ہوتی ہے: ایک ملنے سے پہلے صبر کا، اور دوسرا ملنے کے بعد شکر کا۔ عقل مندی یہی ہے کہ ایسی نعمت پر پہلے سے بڑھ کر اللہ سے تعلق مضبوط کیا جائے، کیونکہ مانگ کر ملنے والی نعمت شکر کی زیادہ مستحق ہوتی ہے۔ اسی حقیقت کو رسول اللہ ﷺ نے یوں واضح فرمایا:
مَنْ لَا يَشْكُرُ النَّاسَ لَا يَشْكُرُ اللَّهَ
(جو لوگوں کا شکر ادا نہیں کرتا وہ اللہ کا بھی شکر ادا نہیں کرتا) ــ 
 (سنن ترمذي/كتاب البر والصلة/حدیث: 1954) 
3. مانگنے کے باوجود نہ ملنے والی نعمت
کبھی ایسا ہوتا ہے کہ انسان پوری شدت سے مانگتا ہے، مگر نعمت نہیں ملتی۔ اولاد نہ ہونا، غربت کا ختم نہ ہونا، یا کسی بڑی خواہش کا پورا نہ ہونا—یہ سب انسان کو اندر سے توڑ دیتے ہیں۔ یہی اصل امتحان کا لمحہ ہوتا ہے، جہاں انسان اپنے ایمان کی حقیقت کو خود پرکھتا ہے۔ جو شخص اللہ کی حکمت پر یقین رکھتا ہے، وہ صبر کے ساتھ اپنے رب کی طرف مزید رجوع کرتا ہے، اور سمجھتا ہے کہ جو نہیں ملا، وہ بھی کسی مصلحت کے تحت نہیں ملا۔ جیسا کہ قرآن خود انسان کو متنبہ کرتا ہے:
وَعَسَىٰ أَن تَكْرَهُوا شَيْئًا وَهُوَ خَيْرٌ لَّكُمْ
(ممکن ہے تم کسی چیز کو ناپسند کرو حالانکہ وہ تمہارے لیے بہتر ہو) ــ سورۃ البقرہ: 216
4. نعمت ملے مگر صورت مایوس کن ہو
یہ سب سے سخت مرحلہ ہے کہ انسان کو نعمت تو مل جائے، مگر اس کی شکل ایسی ہو جو اس کی امیدوں کے بالکل برعکس ہو—مثلاً اولاد ہو مگر شدید بیمار یا معذور۔ اس موقع پر دل میں شکوہ، زبان پر شکایت اور ذہن میں سوالات کا طوفان آ جاتا ہے۔ لوگ طعنہ دیتے ہیں، معاشرہ بوجھ سمجھتا ہے، اور انسان اندر ہی اندر ٹوٹنے لگتا ہے۔ یہی وہ لمحہ ہے جہاں بہت سے لوگ وقتی یا دائمی طور پر اللہ سے ناراض ہو جاتے ہیں، حتیٰ کہ بعض اوقات نادانستہ طور پر کفر کے قریب پہنچ جاتے ہیں۔ مگر قرآن ایسے حالات میں اہلِ ایمان کو یوں سہارا دیتا ہے:
مَا أَصَابَ مِن مُّصِيبَةٍ إِلَّا بِإِذْنِ اللَّهِ ۗ وَمَن يُؤْمِن بِاللَّهِ يَهْدِ قَلْبَهُ
(کوئی مصیبت اللہ کے اذن کے بغیر نہیں آتی، اور جو اللہ پر ایمان رکھے اللہ اس کے دل کو ہدایت دے دیتا ہے) ــ سورۃ التغابن: 11
اصل خرابی کہاں ہے؟
اصل خرابی نعمت میں نہیں بلکہ انسان کے رویّے میں ہوتی ہے۔ اللہ کی ہر تخلیق حکمت پر مبنی ہے، چاہے وہ ہماری عقل میں آئے یا نہ آئے۔ معذور اولاد بھی اللہ کی مخلوق ہے، وہ بھی عزت اور محبت کی مستحق ہے۔ اگر اللہ نے کسی کو ایسی آزمائش دی ہے تو اس کے ساتھ اجر بھی دوہرا رکھا ہے۔ ممکن ہے یہی بچہ والدین کے لیے دنیا و آخرت میں برکت کا ذریعہ ہو، اور انہی کے ذریعے کئی مصیبتوں سے حفاظت ہو رہی ہو۔
مگر انسان جب ناشکری کرتا ہے، اس نعمت کو بوجھ سمجھتا ہے، اور دل میں ناراضی رکھتا ہے تو پھر وقت گزرنے کے بعد جب وہ نعمت اس سے چھن جاتی ہے، تب آنکھ کھلتی ہے۔ گلی گلی رونا، مسجد مسجد فریاد کرنا، اور کہنا کہ میری برکت ختم ہو گئی—مگر تب بہت دیر ہو چکی ہوتی ہے۔ کیونکہ گیا وقت پھر ہاتھ نہیں آتا، اور پچھتاوا صرف دل کا بوجھ بن کر رہ جاتا ہے۔
زندگی میں اصل کامیابی نعمت ملنے یا نہ ملنے میں نہیں، بلکہ اس بات میں ہے کہ ہم ہر حال میں اللہ کے فیصلے پر راضی رہیں۔ جو ملا اس پر شکر، جو نہ ملا اس پر صبر، اور جو ملا مگر ہماری توقع کے خلاف ملا اس پر رضا—یہی ایمان کی اصل پہچان ہے۔ اسی حقیقت کو رسول اللہ ﷺ نے جامع انداز میں بیان فرمایا:
عَجَبًا لِأَمْرِ الْمُؤْمِنِ، إِنَّ أَمْرَهُ كُلَّهُ خَيْرٌ، وَلَيْسَ ذَاكَ لِأَحَدٍ إِلَّا لِلْمُؤْمِنِ إِنْ أَصَابَتْهُ سَرَّاءُ شَكَرَ، فَكَانَ خَيْرًا لَهُ، وَإِنْ أَصَابَتْهُ ضَرَّاءُ صَبَرَ، فَكَانَ خَيْرًا لَهُ. 
مومن کا معاملہ عجیب ہے۔ اس کا ہر معاملہ اس کے لیے بھلائی کا ہے۔ اور یہ بات مومن کے سوا کسی اور کو میسر نہیں۔ اسے خوشی اور خوشحالی ملے تو شکر کرتا ہے اور یہ اس کے لیے اچھا ہوتا ہے اور اگر اسے کوئی نقصان پہنچے تو (اللہ کی رضا کے لیے) صبر کرتا ہے، یہ (بھی) اس کے لیے بھلائی ہوتی ہے۔ (صحيح مسلم/كتاب الزهد والرقائق/حدیث: 7500) 
اللہ کی حکمت ہمارے فہم سے بلند ہے، اور انسان کی نجات اسی میں ہے کہ وہ اپنے رب پر اعتماد رکھے، اس کے فیصلوں میں خیر تلاش کرے، اور نعمت ہو یا آزمائش—ہر حال میں اپنے رب سے جڑا رہے۔ یہی رویّہ انسان کو مایوسی سے بچاتا ہے، اور پچھتاوے سے محفوظ رکھتا ہے۔
     بقلم محمودالباری
mahmoodulbari342@gmail.com