حلیمہ سعدیہ کے ساتھ(2) - رسول اللہ ﷺ حضرت حلیمہ سعدیہ کی گود میں قرار پا گئے اور وہ آپ ﷺ سے بے حد محبت کرنے لگیں۔ پھر انہوں نے آپ ﷺ کو اپنی سواری پر بٹھایا اور اپنے قبیلے بنی سعد بن بکر کے پاس لے گئیں جو حلیمہ کے اہل و عیال تھے۔
حضرت حلیمہ سعدیہ نے رسول اللہ ﷺ کو اپنے بچوں کے ساتھ دودھ پلایا۔ حضرت حلیمہ کے بچوں کے نام: عبداللہ، شیماء، انیسہ۔ تھے۔
رسول اللہ ﷺ کے سات رضاعی بہن بھائی تھے: حمزہ، ابو سلمہ، ابو سفیان، مسروح، عبداللہ، شیماء اور انیسہ۔ یہ سب رضاعی بہن بھائی تھے، نہ کہ آپ ﷺ کے والد یا والدہ کی طرف سے حقیقی بہن بھائی۔
رسول اللہ ﷺ نے حضرت حلیمہ بنت ابی ذؤیب سعدیہ اور ان کے شوہر حارث بن عبد العزی کی گود میں دو سال گزارے حتیٰ کہ آپ ﷺ نے دودھ پینا مکمل کر لیا۔ پھر حضرت حلیمہ نے آپ ﷺ کو آپ کی والدہ کے پاس واپس پہنچا دیا، لیکن وہ آپ ﷺ کو اپنے پاس رکھنے کی شدید خواہش مند تھیں کیونکہ انہوں نے آپ ﷺ میں بڑی برکتیں دیکھی تھیں اور آپ ﷺ کی محبت ان کے دل میں بیٹھ گئی تھی۔ وہ برابر آپ ﷺ کی والدہ کو راضی کرتی رہیں کہ آپ ﷺ کو دوبارہ ان کے ساتھ بھیج دیں، کیونکہ آپ ﷺ کی والدہ کو مکہ مکرمہ میں پھیلنے والی بیماریوں کا خوف تھا۔ آخرکار آپ ﷺ کی والدہ نے آپ ﷺ کو دوبارہ حضرت حلیمہ کے ساتھ بھیج دیا۔
پھر ایک ایسا واقعہ پیش آیا جس کی وجہ سے حضرت حلیمہ نے جلدی سے آپ ﷺ کو واپس مکہ مکرمہ آپ کی والدہ کے پاس بھیج دیا۔ واقعہ یہ تھا کہ ان کے چھوٹے بیٹے نے آکر بتایا کہ دو آدمی آئے، انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو پکڑا، آپ ﷺ کا سینہ چاک کیا، دل نکالا اور اس میں سے ایک سیاہ لوتھڑا نکال لیا۔ پھر دل کو دھو کر اسے اپنی جگہ واپس رکھ دیا۔
اس کے بعد حضرت جبرئیل علیہ السلام نے رسول اللہ ﷺ کی پشت مبارک پر مہرِ نبوت ثبت کر دی۔ اس کے بعد شیطان کو آپ ﷺ پر کوئی دخل نہ رہا اور آپ ﷺ اپنی باتوں اور کاموں میں معصوم ہو گئے۔
واقعہ شقِ صدر (سینہ چاک کرنے کا واقعہ) یہ ایک صحیح اور ثابت شدہ واقعہ ہے۔ امام مسلم رحمہ اللہ نے اپنی کتاب صحیح مسلم میں نقل کیا ہے۔
عن أنس بن مالك رضي الله عنه قوله :" أن رسول الله صلى الله عليه وسلم أتاه جبريل عليه السلام وهو يلعب مع الغلمان فأخذه فصرعه فشق عن قلبه ،فاستخرج القلب ،فاستخرج منه علقة، فقال : هذا حظ الشيطان منك ،ثم غسله فى طست من ذهب بماء زمزم ثم لأمه ، ثم أعاده في مكانه، وجاء الغلمان يسعون إلى أمه فقالوا : إن محمدا قد قتل، فاستقبلوه وهو منتقع اللون" يقول أنس رضي الله عنه:" وقد كنت أري أثر ذلك المخيط في صدره "
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ انہوں نے کہا:
رسول اللہ ﷺ کے پاس جبرئیل علیہ السلام اس وقت آئے جب آپ ﷺ بچوں کے ساتھ کھیل رہے تھے۔ انہوں نے آپ ﷺ کو پکڑ لیا، آپ ﷺ کو لٹا دیا اور آپ ﷺ کا سینہ چاک کیا، پھر آپ ﷺ کا دل نکالا اور اس میں سے ایک لوتھڑا نکالا اور کہا: یہ تم میں شیطان کا حصہ تھا۔ پھر اسے سونے کے برتن میں زمزم کے پانی سے دھویا، جوڑا اور اپنی جگہ واپس رکھ دیا۔ بچے دوڑتے ہوئے آپ ﷺ کی والدہ کے پاس گئے اور کہا: محمد ﷺ قتل کر دیے گئے ہیں۔ لوگ آپ ﷺ کو لینے آئے تو دیکھا کہ آپ ﷺ کا چہرہ بدل گیا تھا (یعنی رنگ حیران اور پریشان کن ہو گیا تھا)۔
حضرت انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: "میں آپ ﷺ کے سینے پر اس سلائی کا نشان دیکھا کرتا تھا۔
(صحیح مسلم)
اس واقعہ کے بعد حضرت حلیمہ سعدیہ کو خوف محسوس ہوا، اس لیے انہوں نے جلدی رسول اللہ ﷺ کو ان کی والدہ کے پاس مکہ مکرمہ واپس پہنچا دیا۔
جاری۔۔۔۔۔۔۔
✍🏻: محمدریحان ضیاءالحق عفي عنہ
خادمِ تدریس، مدرسہ ریاض الجنۃ، دھولیہ (مہاراشٹر)
وخادم القرآن، مجمع عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ، لحلقات القرآن الکریم عن بُعد، بالمدینۃ المنورۃ۔