آج کل یہ بیماری عام ہے ۔شریف النفس لوگ بھی اس لعنت میں مبتلا ہیں ۔ 
فری فائر ہو یا پب جی ۔
ایک بیٹے نے اپنی ماں کو قتل کر دیا ۔وجہ یہ ہے کہ ماں  سودا لانے کا کہہ تی تھی  ۔
اور اکثر گیم خراب ہو جاتی تھی۔
کل ایک شخص پانچ سو روپے ۔مانگ رہا تھا ۔حلانکہ وہ کروڑوں کا مالک تھا ۔کسی دور میں 
میں کافی حیران ہوا ،دوست نے بتایا کہ گیمز میں تمام پیسہ ہار گیا ہے 
حتیٰ کہ گھر بھی بیچ دیا ہے ۔
ایک بیوی سے اس کے شوہر نے کہا کہ آپ جب سے آئیں ہیں ۔میں گیم ہارہی رہا ہوں ۔ آپ نحوستی ہیں بیوی دل برداشتہ ہو کر زہر پی گئی۔
سب سے زیادہ آپ کے وقت کا ضیاع ہے ۔
گیم کھیلنےسے اکثر انسان کے پیسے کا ضیاع ثابت ہوتا ہے۔ کیونکہ اس میں موبائل ڈیٹا، انٹرنیٹ پیکجز اور مہنگی اِن ایپ خریداری شامل ہوتی ہے۔
بہت سے لوگ گیمز میں لیول بڑھانے یا چیزیں خریدنے کے لیے غیر ضروری پیسے خرچ کر دیتے ہیں۔
اسی طرح گیم انسان کے قیمتی وقت کو بھی ضائع کرتی ہے۔ جو کسی مفید کام میں لگایا جا سکتا ہے۔
گیم کھیلنے سے انسان سستی اور کاہلی کا شکار ہو جاتا ہے۔
زیادہ دیر اسکرین دیکھنے سے آنکھوں کی کمزوری بھی پیدا ہو سکتی ہے۔
کچھ گیمز انسان میں غصہ اور چڑچڑا پن بھی پیدا کر دیتی ہیں۔
گیم کھیلنے کی عادت انسان کو حقیقی زندگی سے دور کر دیتی ہے۔
وقت کے ساتھ ساتھ انسان اپنے گھر والوں اور دوستوں کو بھی نظر انداز کرنے لگتا ہے۔
گیمز میں حد سے زیادہ دلچسپی ذہنی دباؤ اور بے چینی کا سبب بن سکتی ہے۔
اگر یہی وقت کسی ہنر سیکھنے میں لگایا جائے تو مستقبل بہتر ہو سکتا ہے۔
کھیل کود یا مطالعہ گیمز کے مقابلے میں زیادہ فائدہ مند سرگرمیاں ہیں۔
آپ الفروسیہ کو فالو کریں ۔

انشاء اللہ الفروسیہ پر بھی مضمون لکھیں گے۔