ایک بار ایک پروفیسر نے اپنی کلاس میں ایک شادی شدہ لڑکی کو کھڑا کیا اور کہا۔
بورڈ پر ایسے 25 سے 30 لوگوں کے نام لکھو جو تمہیں سب سے زیادہ عزیز ہوں۔
لڑکی نے تعمیل کرتے ہوئے پہلے اپنے خاندان کے افراد، پھر قریبی رشتہ داروں، دوستوں، پڑوسیوں اور ساتھیوں کے نام لکھ دیے۔
اب پروفیسر نے مسکراتے ہوئے کہا۔
ان میں سے وہ 5 نام مٹا دو جو تمہیں سب سے کم پسند ہوں۔
لڑکی نے اپنے دوستوں کے نام مٹا دیے۔
پروفیسر نے پھر کہا۔
مزید 5 نام مٹا دو۔
لڑکی نے تھوڑا سوچا اور اپنے پڑوسیوں کے نام صاف کر دیے۔
پروفیسر نے اب 10 مزید نام مٹانے کا حکم دیا۔
لڑکی نے بوجھل دل کے ساتھ اپنے سگے رشتہ داروں کے نام بھی مٹا دیے۔
اب بورڈ پر صرف 4 نام باقی تھے۔
والدین، شوہر اور بچہ۔
کلاس میں خاموشی چھا گئی تھی۔
پروفیسر نے سنجیدگی سے کہا۔
اب ان میں سے مزید 2 نام مٹا دو۔
لڑکی شدید کشمکش میں پڑ گئی۔ بہت سوچنے کے بعد، اس نے انتہائی دکھی ہو کر اپنے ماں باپ کے نام مٹا دیے۔
سب لوگ دنگ رہ گئے، لیکن خاموش تھے کیونکہ وہ جانتے تھے کہ یہ محض ایک کھیل نہیں بلکہ ایک جذباتی امتحان ہے۔
اب بورڈ پر صرف دو نام بچ گئے تھے۔
شوہر اور بیٹا۔
پروفیسر نے آخری بار کہا۔
ایک نام اور مٹا دو!
لڑکی اب سہم سی گئی۔ اس کے ہاتھ کانپنے لگے اور روتے ہوئے اس نے اپنے بیٹے کا نام کاٹ دیا۔
پروفیسر نے اسے اپنی جگہ پر بیٹھنے کا اشارہ کیا اور کلاس کی طرف دیکھ کر پوچھا۔
کیا کوئی بتا سکتا ہے کہ آخر میں صرف شوہر کا نام ہی کیوں بچا؟
سب خاموش رہے۔
پھر پروفیسر نے اسی لڑکی سے اس کی وجہ پوچھی۔ اس نے پرنم آنکھوں کے ساتھ جواب دیا۔
میرا شوہر ہی میرا وہ ساتھی ہے جو زندگی کے ہر دکھ سکھ میں میرے شانہ بشانہ کھڑا رہتا ہے۔ ماں باپ ایک وقت پر ساتھ چھوڑ جاتے ہیں، اور اولاد بڑی ہو کر اپنی زندگی میں مگن ہو جاتی ہے، لیکن ایک شریکِ حیات ہی وہ رشتہ ہے جو آخری سانس تک وفاداری نبھاتا ہے۔ میں ان سے وہ باتیں بھی شیئر کر سکتی ہوں جو کسی اور سے نہیں کر پاتی۔
بیوی گھر کی ملکہ ہوتی ہے، پاؤں کی جوتی نہیں۔
اور شوہر وہ مضبوط ستون ہے جو عمر بھر اس کا مان رکھتا ہے۔
*منقول*