فرض عین 
 اس دینی حکم کو کہتے ہیں جو ہر مسلمان پر فرداً٫ فرداً لازم٫ ہو۔ اگر کوئی شخص اسے خود ادا نہ کرے تو وہ گناہگار ہوتا ہے، چاہے دوسرے لوگ اسے ادا کر رہے ہو

یعنی فرضِ عین وہ عبادات یا احکام ہیں جن کی ادائیگی کی ذمہ دار ی ہر فرد پر الگ؛ الگ؛ ہوتی ہے 
حضرات فقہاء اکرام کی تصریحات کے مطابق بنیادی طور پر کل تین صورتیں ایسی ہیں ٫ جن میں جہاد فرض عین ہو جاتا ہے ۔
(1)
جب کفار مسلمانوں کے کسی علاقے پر قبضہ کر لیں یا قبضہ کے لیے لشکر روانہ کر دیں ۔اورکسی علاقے کے مسلمانوں کو قتل یا قید کرلیں یا اس جیسی کوئی اور صورت حال پیش آجاے۔
(2)
مسلمانوں کا امیر" شرعی نفیر عام" کا اعلان کر دے ۔یعنی تمام مسلمانوں کو نکلنے کا کہہ دے٫ اس صورت میں سوائے ان مسلمانوں کے جنہیں خود امام روکے ۔باقی تمام مسلمانوں پر خروج فرض ہو جاتا ہے خواہ کسی حال میں بھی ہوں 
(3)
جب دشمن کا آمنا سامنا ہوجائے۔اور لڑائی کا بگل بجا دیا جائے ٫ تو جہاد اس وقت خواہ فرض کفایہ تھا۔نفل لشکر میں موجود ہر شخص پر لڑائی میں حصہ لینا فرض عین ہو جاتا ہے ٫ اور فرار اختیار کرنا حرام ہو جاتا ہے ۔
حوالہ جات ملا حظہ کیجئے 
(الجامع لاحکام القرآن للقرطبی/ ص٫ 138/ ج٫8 تحت مقولہ تعالیٰ انفرو خفا وثقالا)
الفقہ الاسلامی وادلتہ الزحیلی/ ص 585 / ج8/ الباب الرابع/ الفصل الاول/ رشیدیہ کوئتہ )
(المبسوط لکسر خسی/ ص 4/ ج10/ ط رشیدیہ کوئتہ )
ردالمختار/ ج4/ ص198/ کتاب الجہاد/ مطلب فی الفروع بین فرض العین وفرق الکفایہ ٫ ط٫) (رشیدیہ کوئتہ 
(
المغنی لابن قدامہ حنبلی/ ج10/ ص341/ الرقم)
(المسلسل 7413/ کتاب الجہاد/ ط٫ دار الفکر بیروت
 
جاری ہے ٫٫٫٫٫٫"""