راستے سے تکلیف دہ چیز ہٹانے کی فضیلت
یہ پتھر، کانٹے، یا کوئی چھوٹی رکاوٹ—صرف جسمانی نہیں، بلکہ کبھی کبھی دل و ضمیر میں بھی رکاوٹ بن جاتی ہیں۔
اسلام نے ہمیں ہر چھوٹی نیکی میں بھاری اجر دینے کی تعلیم دی ہے، اور سب سے آسان مگر بہت مؤثر عمل ہے: راستے سے تکلیف دہ چیز ہٹانا۔
سوچیں، آپ نے کبھی کسی کو کانٹے یا پتھر سے چوٹ لگتے ہوئے دیکھا؟
اب تصور کریں، اگر کوئی آ کر وہ رکاوٹ ہٹا دے، کتنی بڑی آسانی ہو جاتی ہے!
نبی ﷺ نے فرمایا:
“تم میں سے کوئی بھی جب دوسرے کے لیے آسانی پیدا کرے تو اللہ اس کے لیے آسانیاں پیدا فرمائے گا”
یہ حدیث صرف لفظوں کی خوشی نہیں، بلکہ عمل کی طاقت دکھاتی ہے۔
ہر چھوٹا عمل، ہر نظرانداز کی گئی چھوٹی مدد، دراصل دلوں کو بدلنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
کیا آپ نے کبھی سوچا کہ ایک چھوٹی سی حرکت—ایک پتھر ہٹانا، کسی کا راستہ صاف کرنا—آپ کے دل میں کتنی خوشی پیدا کر سکتی ہے؟
قرآن ہمیں یاد دلاتا ہے:
“جو نیک عمل کرے گا، اسے کبھی ضائع نہیں کیا جائے گا، اور ہر چھوٹا سا کام بھی اہمیت رکھتا ہے” (الأنعام 6:160)
یہ دور ہمیں یہی سکھا رہا ہے کہ نیکی صرف بڑے اعمال میں نہیں، بلکہ چھوٹے اعمال میں بھی پوشیدہ ہے۔
سوچیں، آپ نے آج اپنے آس پاس کتنی چھوٹی چھوٹی نیکیوں کے مواقع ضائع کیے؟
کیا آپ نے کسی کے لیے آسانی پیدا کرنے کی کوشش کی، یا صرف دیکھتے رہے؟
نبی ﷺ نے فرمایا:
“مسلمان کے لیے مسلمان پر سہولت پیدا کرنا بھی صدقہ ہے”
یہ چھوٹے چھوٹے اعمال—راستے سے رکاوٹ ہٹانا، کسی کی مدد کرنا، یا کسی کے لیے آسانی پیدا کرنا—صرف دوسروں کے لیے نہیں، بلکہ آپ کے دل کے لیے بھی نیکی کا سامان بنتے ہیں۔
اب ایک لمحے کے لیے رکیں اور خود سے سوال کریں:
کیا میں نے آج اپنی زندگی میں ایسی نیکی کی؟
کیا میں نے کسی کے لیے آسانی پیدا کرنے کی کوشش کی، یا بس اپنے راستے میں چلتی رہی؟
یاد رکھیں!
چھوٹی نیکی کبھی چھوٹی نہیں رہتی—یہ دلوں کو بدلتی ہے، معاشرہ سنوارتی ہے، اور دنیا و آخرت دونوں میں برکت لاتی ہے۔
یہ مضمون آپ کے سامنے ہے،
اب سوال آپ سے ہے:
کیا آپ نے آج کسی کے راستے سے تکلیف دہ چیز ہٹائی؟
سوچیں، محسوس کریں، اور عمل کریں—کیونکہ چھوٹی نیکی بھی بڑا اجر لاتی ہے۔
🌷عالمہ فضہ صباحت 🌷