ترجیحات کا مسئلہ
05 فروری، 2026
مسلمانوں کے پاس مسائل کی کمی کبھی نہیں رہی. آزادیِ ہند کے بعد تو ان مسائل میں مزید پیچیدگیاں ہی پیدا ہوتی گئیں۔ کبھی سیاست کے محاذ پر آزمائشیں درپیش رہیں، کبھی معاشی تنگیوں نے گھیر لیا، کبھی تعلیمی پسماندگی نے قدم روک لیے اور اب حب وطن کے نام پر نئے نئے سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔
مسلم قیادت نے اپنے اپنے دائرہ میں ان مشکلات کو حل کرنے، قوم کو وقار و سربلندی کی راہ پر گامزن کرنے اور اس کے اجتماعی مستقبل کو روشن و تابناک بنانے کے لیے ہمیشہ جدوجہد کی ہے۔ مگر ان سب کے باوجود امت کی پستی اور ناکامی کے گراف میں اضافہ ہی ہوتا رہا ہے۔
اس صورتحال کے مختلف اسباب ہو سکتے ہیں لیکن اصل وجہ ترجیحات کے صحیح تعین سے غفلت ہے۔
ہم نے مسائل کی فہرست تو طویل بنا رکھی ہے مگر ان میں سے کون سا مسئلہ بنیادی اور ضروری ہے اور کون سا فروعی و غیر ضروری ، کون سا مسئلہ فوری توجہ چاہتا ہے اور کون سا بعد کے لیے مؤخر کیا جاسکتا ہے—اس کا واضح شعور نہ پیدا کیا۔ یوں قوتیں منتشر ہوتی رہیں، وسائل بے مصرف خرچ ہوتے رہے اور قوم عملی نتائج سے محروم رہی۔
ہم نے بھی دوسری قوموں کی طرح اپنے مسائل کا علاج صرف وسائل میں تلاش کیا۔ کبھی سیاست کو اپنی ترقی کا راز سمجھا، کبھی معیشت کو سربلندی کا ذریعہ گمان کیا، اور کبھی تعلیم کو ہر قسم کی کامیابی کا واحد زینہ قرار دے دیا۔
ہم نے یہ سمجھ لیا کہ اگر ہمارے پاس طاقتور سیاسی نمائندگی ہوگی، مضبوط معیشت کھڑی ہوگی، اور ہماری نسلیں تعلیم میں اعلیٰ درجات حاصل کر لیں گی تو شاید ہمارے سارے دلدر دور ہوجائیں، کمزوریاں ختم ہوجائیں اور ہم ترقی کی راہ پر گامزن ہوجائیں ۔ لیکن ہم یہ بھول گئے کہ امتِ مسلمہ کا اصل سرمایہ، اس کی کامیابی کا محور اور اس کے وجود کی بنیاد "عقیدہ توحید" کی مضبوطی ہے۔
ہمارے تمام ملی وقومی مسائل میں توحید کا مسئلہ سب سے اہم مسئلہ تھا، سب سے بنیادی ضرورت تھی، جو دیگر تمام شعبوں سے بڑھ کر ہماری توجہ کی مستحق تھی۔ سیاست، معیشت اور تعلیم اپنی جگہ اہم ہیں ، مگر ان سب کی قوت کا انحصار اسی ایک چیز پر ہے کہ ہمارے دلوں میں اللہ کی عظمت، توحید کی مضبوطی اور ایمان کی حفاظت کا جذبہ کس قدر مضبوط اور تازہ ہے..
جب بنیاد کمزور ہو جائے تو عمارت خواہ کتنی ہی مضبوط و خوبصورت کیوں نہ بنائی جائے، اس کا ڈھ جانا یقینی ہے—اور آج ہمارے ساتھ یہی ہو رہا ہے۔
آج مسلم معاشرہ ارتداد کی جس آندھی کے سامنے کھڑا ہے، اس کی بنیاد کسی سیاسی کمزوری یا معاشی زبوں حالی میں نہیں، بلکہ ہماری غلط ترجیحات ہیں، جس کا نتیجہ ایمان و توحید سے دوری میں ہے۔
ہم نے اپنی ترقی، اپنی نجات اور اپنی بقا—سب کا مرکز کبھی سیاست کو بنایا، کبھی معیشت کو، کبھی تعلیم کو، مگر وہ بنیاد جس پر مسلمان کی پوری عمارت کھڑی تھی یعنی عقیدۂ توحید—وہ ہماری سرگرمیوں میں، ہماری اجتماعی زندگیوں میں اور ہمارے گھروں میں سب سے پیچھے چلی گئی۔
ہماری ترجیحات ایسی بکھر گئیں کہ سال بھر میں ہم سیکڑوں جلسے، کانفرنسیں، سیمینار کرتے ہیں، کئی کئی دن اس میں مشغولیت رہتی ہے، قوم کا سرمایہ پانی کی طرح بہایا جاتا ہے لیکن ان کا مرکزی موضوع نہ ایمان ہوتا ہے، نہ توحید، نہ نوجوانوں کا تحفظ، نہ ارتداد کا سدباب!
ہم یہ نہیں کہتے کہ دیگر موضوعات غیر ضروری ہیں، نہ ہی ہم کسی علمی، فکری یا تحقیقی سیمینار و کانفرنس کی مخالفت کرتے ہیں۔ علم کی محفلیں تو ترقیات کی علامت ہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ سال بھر میں سینکڑوں پروگراموں کے باوجود کیا ایک کانفرنس یا سیمینار بھی “توحید” کے عنوان پر ہوا؟ کیا کسی بڑے اجلاس کا مرکز یہ مسئلہ بنا کہ شرک کی نجاست کیا ہے اور اس کے معاشرے پر کیا ہولناک اثرات مرتب ہو رہے ہیں؟ کیا کبھی کسی کانفرنس میں ایک مستقل نشست بھی رکھی گئی کہ عقیدہ توحید کو کیسے محفوظ کیا جائے؟ افسوس!
سیاست پر گرما گرم بحثیں، سماجی مسائل پر طویل نشستیں، ثقافت اور تہذیب پر گھنٹوں چلنے والی تقریریں—یہ سب ہمارے اجتماعات کی رونقیں ہیں، (خدا انھیں قائم رکھے) مگر ایمان کا زوال؟ عقیدہ کی کمزوری ؟ گھروں میں توحید کا بکھرا ہوا نقشہ؟ الحاد اور بے دینی کی بڑھتی ہوئی یلغار اور ارتداد کی اٹھتی ہوئی آندھی! … ان سب مسائل پر ایسی خوفناک خاموشی طاری ہے کہ جیسے یہ امت کا کوئی مسئلہ ہی نہ ہو.
بے شک زندگی کا ہر شعبہ اپنی جگہ نہایت ضروری ہے—ہمیں سیاست میں حصہ داری بھی چاہیے،معیشت میں ترقی بھی ناگزیر ہے،
تعلیم و تہذیب میں قیادت بھی وقت کی پکار ہے، لیکن ان سب کی کامیابی ایک ہی بنیاد پر کھڑی ہے،اور وہ ہے عقیدۂ توحید کی مضبوطی۔
جب توحید راسخ ہو تو سیاست امانت بن جاتی ہے،معیشت عبادت کا درجہ پا لیتی ہے،اور تعلیم انسان سازی کا ذریعہ بنتی ہے۔لیکن اگر عقیدہ کمزور پڑ جائے،تو پھر یہی سیاست فتنہ ہے، معیشت آزمائش ہے اور تعلیم گمراہی کا دروازہ!
یاد رکھیے! مسلمانوں کے مسائل کا حل کہیں باہر نہیں ہے، یہ امت کا اپنا مسئلہ ہے اور اس کا علاج بھی اسی امت کے پاس ہے۔ بس شرط یہ ہے کہ ہم اپنی ترجیحات کو پہچانیں، سمجھیں اور ان کے مطابق اپنا راستہ طے کریں..
لہٰذا آئیے! ہم اپنی ترجیحات کااز سر نو جائزہ لیں، ایمان کی شمع گھروں میں روشن کریں۔ اپنی نسلوں کو شرک سے پاک عقیدہ دیں۔اور اپنی اجتماعی ترجیحات میں عقیدۂ توحید کو سب سے اوپر رکھیں۔