جو لوگ کھانے پینے میں احتیاط نہیں کرتے، ان سے برائیاں بہت ہوتی ہیں۔ حلال اور حرام کی تمیز نہ ہونے سے یہ راستہ بہت مشکل ہو جاتا ہے۔ ایسے لوگوں کو اپنے نفس پر قابو نہیں ہوتا، کیونکہ حرام غذا سے حرام افعال پیدا ہوتے ہیں۔ حلال اور طیب غذا کھانے سے نیک اعمال پیدا ہوتے ہیں اور ایسے لوگوں کو اپنے نفس پر بہت جلد قابو مل جاتا ہے۔ جو لوگ اپنی اصلاح کے لیے فکر مند ہوں، ان کو چاہیے کہ حلال کھانے کا بھی بہت اہتمام رکھیں۔
اکلِ حلال کو اعمالِ صالحہ سے ایک خاص تعلق ہے، جس کو میں نے اس آیت سے سمجھا ہے:
يَا أَيُّهَا الرُّسُلُ كُلُوا مِنَ الطَّيِّبَاتِ وَاعْمَلُوا صَالِحًا
حق تعالیٰ اپنے پیغمبروں کو خطاب فرما رہے ہیں کہ اے ہمارے رسول! پاک طیب کھایا کرو اور اچھے عمل کیا کرو۔
اس آیت میں اکلِ حلال کی عجیب عنوان سے تعلیم فرمائی گئی ہے۔ انبیاءِ معصوم ہوتے ہیں، یہاں اکلِ حرام کا احتمال ہی نہیں ہے، لیکن اس کے باوجود پیغمبروں کو اکلِ حلال کے لیے امر فرمانا اکلِ طیبات کی اہمیت کو مؤکد کرتا ہے، اور اکلِ طیبات کے بعد عملِ صالح کا امر فرما کر یہ بتا دیا کہ جب پاک کھاؤ گے تو نیک اور پاکیزہ اعمال بھی پیدا ہوں گے، اور نفس بہت سہولت اور آسانی سے طاعت کا پابند ہو جائے گا۔ کیونکہ پاک خوراک سے خون نورانی اور پاک پیدا ہو گا، اور وہی خون آنکھوں میں، کان میں، زبان اور تمام اعضاء میں پھیل کر  بھلے کاموں کی استعداد اور رغبت پیدا کرے گا، اور قلب میں خیر کے ارادے پیدا ہوں گے، اعضاء ارادۂ خیر کے تابع دار ہوں گے۔