عزیزانِ من!! 
زمانہ حال میں دین اسلام روزِ روشن کی طرح واضح ہے ، انسان دنیا کے کسی بھی خطے میں ہو اگر دین حاصل کرنا چاہئے تو آسانی سے حاصل کر سکتا ہے ، ہر شہر ، ہر گلی ، ہر موڑ پر بے شمار مساجد 
بے شمار مدارس 
ہر سال فارغ ہونے والے ہزاروں علماء و مفتیان کرام 
دینی مجالس و جلسے 
بے شمار مبلغِين و واعظین 
سیمینار ، ورکشاپ، انٹرنیٹ وغیرہ ان بےشمار ذرائع کے باجود اُمّتِ محمدیہ کا حال قابلِ رحم کیوں ؟ عملی میدان میں اُمّتِ پیچھے کیوں ہے ؟ 
ایسا کیوں  ؟؟؟؟؟ 

حضرت شیخ الحدیث مولانا زکریا صاحب لکھتے ہیں:  ایک' خاص مرض ' عام ہوتا جا رہا ہے کے جب کسی دینی منصب تقریر،تحریر، تبلیغ ، وعظ پر بندہ مامور ہوتا ہے تو دوسروں کی فکر میں ایسے مبتلا ہو جاتے ہیں کہ اپنی ذات سے غفلت ہو جاتی ہے ، حلانکہ جس قدر دوسروں کی اصلاح کی ضروت ہے،  اس سے بہت زیادہ اپنے نفس کی اصلاح کی ضروت ہے ۔ 
مشائخ نے لکھا ہے کہ اس شخص کا وعظ ، نصیحت نافع نہیں ہوتا جو خود عمل کرنے والا نہ ہو ۔
یہی وجہ ہے کہ زمانہ میں ہر روز  جلسے ، وعظ تقریریں ہوتی رہتی ہے مگر سب بے اثر ، مختلف انواع کی تحریرات و رسائل شائع ہوتے ہیں ، مگر سب بے سود ، اُمّتِ اس وقت با عمل بنے گی جب اُن کے علماء ، مبلغین،  واعظین ، مصنفین   دین اسلام پر پوری طرح عمل پیرا ہو نگے۔