*مغربی تہذیب کی بد تہذیبی و ماڈرن ایجوکیشن سے پیدا شدہ بد اخلاقی*
 
 "نکاح کے لیے لڑکی میں جدید تعلیم دیکھنا اور نو تعلیم یافتہ سے شادی کرنا " اس عنوان کے تحت **حضرت تھانوی رحمہ اللہ* مغربی تہذیب کی بد تہذیبی کا اور ماڈرن ایجوکیشن سے پیدا شدہ اخلاقی امراض کا ناقدانہ جائزہ لیتے ہوے فرماتے ہیں :: 

 "جس طرح بعض لوگ لڑکے کے ایف اے، ایم اے ہونے کو دیکھتے ہیں، افسوس ہے کہ [ مغربی تہذیب سے متاثر ] بعض نئے مذاق [ و مزاج ] کے لوگ ایسی منکوحہ [ لڑکی ] تلاش کرتے ہیں جس نے [ مغربی والحادی افکار و اخلاقیات پر مشتمل *] نئی تعلیم* حاصل کی ہو، یا تعلیم کے ساتھ ڈاکٹری یا پروفیسری کا پاس [و سارٹیفکیٹ ] بھی حاصل کر چکی ہو.

  *کوئی ان عقلاء سے پوچھے کہ مقصود کیا ہے ؟*

 [1] *اگر یہ مقصود ہے کہ : ان کا بار [و بوجھ] ہم پر نہ ہو،* یہ خود بھی کمانے میں امداد دیں تب تو بے حد *بےحَمیّتی* [ و بے غیرتی کی بات ] ہے کہ مرد ہو کے عورت کے ہاتھ [ کی کمائ ] کو تکاجائے، عورت کا ممنون ہونا بغیر خلوص کامل کے خود *خلاف غیرت* ہے۔

 [٢] *اوراگر یہ مقصد ہے کہ: ایسی عورت *سلیقہ دار* ہوگی، ہم کو *راحت زیادہ پہنچائے* گی ،* سو خوب سمجھ لو! [ کہ راحت رسانی کا تعلق خلوص و فرمانبرداری کی صفت سے ہے نا کہ پر تکلف سلیقہ داری سے، چناں چہ ] *راحت رسانی کے لیے صرف سلیقہ کافی نہیں، بلکہ خلوص و اطاعت و خدمت گزاری کے جذبہ کی اس سے زیادہ ضرورت ہے،*

  اور سلیقہ میں کچھ کمی بھی ہو تو اس کو برداشت کر لیا جاتا ہے، اور اگر چہ کسی قدر وقتی تکلیف ہوتی ہے؛ لیکن جلدی ختم ہو جاتی ہے، اور اس کا اثر باقی نہیں رہتا۔

اور اگر بڑا سلیقہ ہواوروہ [ فرمانبرداری و خدمت و اطاعت کے ] اوصاف نہ ہوں تو::
 *اوّل* : تو وہ خدمت ہی کیوں کرے گی؟

  *کیوں کہ* :تجربہ سے اس *جدید تعلیم کا اثر* یہ ثابت ہوا ہے کہ اس سے *تکبر* ، *خود غرضی* *، خود رائی* ، *بے باکی* ، *آزادی* ، *بے حیائی* ، *چالاکی* ، *نفاق* وغیرہ [ قلبی امراض اور ] *بُرے اخلاق* پیدا ہو جاتے ہیں.

  *پس جب ان کا دماغ تکبر، نخوت سے پر ہے، تو وہ تمہاری خدمت ہی کیوں کرے گی جس سے تم کو راحت پہنچے؟* بلکہ *خود غرضی* کی وجہ سے الٹا وہ خود تم ہی سے اپنے حقوق کا اعلیٰ پیمانے پر مطالبہ کرے گی جس سے تمہاری عافیت، سلامتی تنگ ہو جائے گی، *غرض وہ خود تم ہی سے اپنی خدمت چاہے گی.*

  اور *اگر تم ان سے وہ خدمت چاہو گے جو ایک شریف ، سادہ عورت اس کو اپنا فخر سمجھتی ہے* تو وہ تم کو *ضابطہ کا جواب* دیں گی کہ یہ کام ہمارے ذمہ نہیں.

 بلکہ جو ان کے ذمہ ہوگا اس میں بھی *خلاف تہذیب* یا *صحت خراب ہونے کا عذر* کر کے ٹکاسا جواب دیں گی اور اپنے حقوق تم سے پورے وصول کریں گی، تنخواہ تم سے کُل [ کی کُل] رکھوائیں گی اور ٹال مٹول کرو گے تو عدالت پہنچیں گی۔

 *اوراگر یہ کہو کہ یہ بہت کم ہوتا ہے*::

 *تو جواب میں عرض کروں گا کہ:* پھر وہ تعلیم یافتہ نہیں۔"

 *مغربی ماڈرن ایجوکشین کی ملحدانہ اخلاقیات میں ملوث ہونے سے سادہ لوحی بہتر ہے*:
 
 "اصل بات یہ کہ [ ملحدانہ اخلاق پیدا کرنے والے ،مغربی ] *نئے علوم کے عالم ہونے سے جاہل ہونا زیادہ بہتر اور بے نظیر ہے* .

  *کیوں کہ: جاہل ہونے میں اگر اخلاقِ حمیدہ نہ ہوں گے تو اخلاق رذیلہ ( برے اخلاق ) بھی تو نہ ہوں گے۔*

 *مغربی تہذیب یا تصنع و دھوکہ دہی اور مناقفت*

 آج کل تہذیب جس کا نام رکھا گیا ہے - *جس کا حاصل تصنع ، اپنا عیب چھپانا ، دھوکہ دینا اور منافقت ہے* - وہ سراسر عذاب ہے، جس کا پایا جانا عورت میں دوزخ کے مثل ہے"۔

 *حکیم الامت حضرت تھانوی رح :اصلاح انقلاب امت ،بہ حوالہ: اسلامی شادی*