!ایپسٹن کی نئی دستاویز اور غزہ!
ایپسٹن فائلز ریلیز ہونے کے بعد ٹرمپ ہتھوڑے اور سندان کے درمیان کھڑا ہے، سامنے مشرق وسطیٰ، پیچھے ایپسٹین کی فائلیں اور پس پردہ ایسا دباؤ جس کا حجم ابھی دنیا کے سامنے نہیں آیا۔ ان انکشافات کا وقت غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ یہ سب ایسے لمحے میں سامنے آیا ہے جب ایران کے خلاف محاذ گرم اور غزہ ایک بار پھر اسرائیلی بمباری کی زد میں ہے، جنگ بندی کے امکانات کمزور پڑتے دکھائی دے رہے ہیں اور ایران کے خلاف ممکنہ کارروائی پر بھی عالمی سیاست میں کھینچا تانی جاری ہے۔ انہی حالات میں یہ سوال شدت اختیار کر رہا ہے کہ آیا ایپسٹین فائلوں کا دوبارہ ابھرنا محض قانونی عمل ہے یا پھر یہ عالمی طاقتوں کے درمیان دباؤ اور سودے بازی کی ایک نئی شکل ہے۔
یہ اب کوئی راز نہیں رہا کہ ایپسٹن نیٹ ورک کے پیچھے موساد کھڑی تھی۔ جس نے سفلی خواہشات سے کھیل کر بڑے بڑوں کو اپنے جال میں ایسا پھنسایا ہے کہ اب نہ جائے ماندن اور نہ پائے رفتن والی کیفیت ہے۔ ٹرمپ اگرچہ غزہ جنگ بندی کے اگلے مرحلے کا اعلان کر چکا ہے اور اسے آگے بڑھانا بھی چاہتا ہے۔ مگر وہ اسرائیل کی مرضی کے بغیر اب کوئی اسٹینڈ لینے کی پوزیشن میں نہیں رہا ہے۔
سیاسی مبصرین کے نزدیک، چاہے ان دستاویزات میں شامل تمام الزامات درست ثابت نہ بھی ہوں، لیکن ان کی افادیت بطور دباؤ کا آلہ اپنی جگہ موجود ہے۔ طاقت کے ایوانوں میں ایسی فائلیں ہمیشہ فیصلوں پر اثر انداز ہوتی رہی ہیں۔ اس تناظر میں دیکھا جائے تو امریکی صدر اس وقت نہ صرف خارجی محاذ، خصوصاً ایران اور مشرقِ وسطیٰ کے معاملات میں شدید دباؤ کا شکار ہے بلکہ داخلی سطح پر بھی ایک پیچیدہ سیاسی اور اخلاقی چیلنج کا سامنا کر رہا ہے۔
یہ سب محض اتفاق ہے یا عالمی سیاست کے کسی بڑے کھیل کا حصہ؟
یہ بدستور جواب کا منتظر ہے، مگر ایک بات طے ہے کہ ایپسٹین فائلوں کا سایہ آنے والے دنوں میں امریکی سیاست اور عالمی فیصلوں پر گہرا اثر ڈال سکتا ہے۔
اللہ رحم فرمائے سارے بے گناہ انسانوں پر، خصوصاً اہل غزہ پر۔ آمین۔