(31)

بسم اللہ الرحمن الرحیم _______

نظامِ الٰہی کی جھلک_______

دنیا کے منظرنامے میں کبھی کبھی ایسے موڑ آتے ہیں جہاں تاریخ خود بول اٹھتی ہے —

اور حق و باطل کے درمیان الٰہی قانونِ عدل اپنے آپ کو منواتا ہے۔

آج ایک ایسا ہی منظر ہم سب کے سامنے ہے —

جب طالبانِ افغانستان کے وزیرِ خارجہ مولانا امیر خان متقی،

جنہیں کبھی ’’دہشت گرد‘‘، ’’انتہا پسند‘‘ اور ’’طالبانی شدت پسند‘‘ کے القابات سے یاد کیا جاتا تھا،

آج حکومتِ ہند کے سرکاری مہمان بن کر بھارت کی سرزمین پر قدم رکھے ہیں۔

تاریخ نے آج پھر اپنا رخ بدلا ہے۔

وہی طالبان، جنہیں کل دنیا نفرت کی علامت سمجھتی تھی،

جن کے نظریے کو شدت پسندی کا استعارہ بنایا گیا تھا،

آج انہی طالبان کے وزیرِ خارجہ کا سرکاری پروٹوکول کے ساتھ استقبال ہو رہا ہے۔

یہ منظر صرف سیاست نہیں —

بلکہ قدرت کے قانونِ عدل کی ایک جیتی جاگتی جھلک ہے۔

دنیا نے ایک بار پھر دیکھ لیا کہ

اللہ کے فیصلے وقت کے ساتھ ظاہر ہوتے ہیں۔

وہی دارالعلوم دیوبند —

جسے برسوں ’’طالبانی نظریات‘‘ کا مرکز کہہ کر بدنام کیا گیا،

آج اسی دارالعلوم میں سرکاری سیکورٹی کے سائے میں طالبان کے وزیرِ خارجہ کی آمد،

قرآن کے اس وعدے کی عملی تفسیر ہے:

> "وَالْعَاقِبَةُ لِلْمُتَّقِينَ"

(الاعراف: 128)

"انجام تو پرہیزگاروں ہی کے لیے ہے۔"

زمانہ بدل گیا ہے —

الزام عزت میں بدل گئے،

اور وہی داڑھیاں اور عمامے جو کل نفرت کی علامت تھے،

آج عزت، وقار اور استقامت کی پہچان بن چکے ہیں۔

دنیا کے اقتدار اپنی چالاکی میں کچھ وقت کے لیے کامیاب ہو سکتے ہیں،

مگر اللہ کی سنت ہمیشہ غالب رہتی ہے۔

> "وَلَا تَهِنُوا وَلَا تَحْزَنُوا وَأَنتُمُ الْأَعْلَوْنَ إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ"

(آلِ عمران: 139)

"کمزور مت پڑو، غم نہ کرو، تم ہی غالب رہو گے اگر ایمان والے ہو۔"

جب طالبان نے 2021 میں افغانستان میں اقتدار سنبھالا،

دنیا کے بیشتر ممالک نے ان سے رشتہ توڑ لیا۔

انہیں ’’دہشت گرد‘‘ کہا گیا، ان پر پابندیاں لگیں،

مگر وہ ایمان اور اصول پر ڈٹے رہے۔

آج وہی طالبان دنیا کے بڑے ملکوں سے

خاموش مذاکرات اور مفاہمتی گفتگو کر رہے ہیں۔

یہ کسی سیاسی تدبیر کا نہیں،

بلکہ سنتِ الٰہی کے ظہور کا نتیجہ ہے۔

> "يُرِيدُونَ لِيُطْفِئُوا نُورَ اللَّهِ بِأَفْوَاهِهِمْ وَيَأْبَى اللَّهُ إِلَّا أَن يُتِمَّ نُورَهُ"

(التوبہ: 32)

"وہ چاہتے ہیں کہ اللہ کے نور کو بجھا دیں، مگر اللہ اپنے نور کو مکمل کر کے رہے گا۔"

طالبان نے بیس سال قید و بند، بمباری، اور دنیا کی نفرت برداشت کی،

مگر ایمان سے نہ ہٹے۔

اللہ نے ان کے صبر کو عزت میں بدل دیا۔

یہ اس قانونِ الٰہی کا زندہ ثبوت ہے کہ

حق دب سکتا ہے، مٹایا نہیں جا سکتا۔

اس دورۂ ہند '؛ کے دوران افغان ایمبیسی میں

مولانا امیر خان متقی کی پریس کانفرنس میں

خواتین صحافیوں کو شرکت کی اجازت نہ دینے کا فیصلہ

دنیا کے چند حلقوں میں تنقید کا نشانہ بنا۔

مگر حقیقت یہ ہے کہ ہر سفارت خانہ اپنے ملک کی خودمختار سرزمین ہوتا ہے،

جہاں اسی ملک کا قانون نافذ ہوتا ہے۔

افغان ایمبیسی میں اسلامی قانونِ حجاب لاگو ہے —

جو عورت کو پابند نہیں، بلکہ عزت و عصمت عطا کرتا ہے۔

> "وَقَرْنَ فِي بُيُوتِكُنَّ وَلَا تَبَرَّجْنَ تَبَرُّجَ الْجَاهِلِيَّةِ الْأُولَىٰ"

(الاحزاب: 33)

"اور اپنے گھروں میں وقار کے ساتھ رہو،

اور جاہلیت کے زمانے کی طرح اپنے آپ کو نمایاں نہ کرو۔"

اسلام عورت کو روکتا نہیں —

بلکہ بے پردگی سے بچا کر عزت بخشتا ہے۔

طالبان کا اصول ہے کہ

غیر محرم مرد و عورت کا اختلاط حرام ہے،

اور یہ قرآن و سنت کا اٹل حکم ہے۔

> رسولِ اکرم ﷺ نے فرمایا:

"ما خلا رجل بامرأة إلا كان الشيطان ثالثهما" (ترمذی)

"جب کوئی مرد کسی عورت کے ساتھ تنہا ہوتا ہے تو تیسرا شیطان ہوتا ہے۔"

یہ فیصلہ کسی نفرت پر نہیں،

بلکہ اسلامی غیرت و حیا کے اصول پر مبنی ہے —

جو مغربی دنیا شاید کبھی سمجھ نہ پائے۔

یہ واقعہ صرف طالبان یا بھارت تک محدود نہیں،

بلکہ پوری امتِ مسلمہ کے لیے بیداری کا اشارہ ہے۔

دنیا تمہیں بدنام کرے،

تمہارے نظریات کو ’’انتہاپسندی‘‘ کہے،

مگر اگر تمہارے دل میں قرآن کا یقین اور صبر کا عزم باقی ہے،

تو وقت خود تمہارا وکیل بن جاتا ہے۔

> "إِنَّ اللَّهَ يُدَافِعُ عَنِ الَّذِينَ آمَنُوا"

(الحج: 38)

"بے شک اللہ ایمان والوں کی خود مدافعت کرتا ہے۔"

آج وہی عمامے اور داڑھیاں جو کل نفرت کا ہدف تھیں،

اب وقار اور عزت کی علامت ہیں۔

دنیا کے میڈیا چینل جو کل ’’طالبانی سوچ‘‘ پر طنز کرتے تھے،

آج انہی طالبان کو ’’مہمانِ خاص‘‘ کہہ کر پیش کر رہے ہیں۔

یہ قرآن کے وعدے کا عملی ظہور ہے:

> "إِن تَنصُرُوا اللَّهَ يَنصُرْكُمْ وَيُثَبِّتْ أَقْدَامَكُمْ"

(محمد: 7)

"اگر تم اللہ کی مدد کرو تو اللہ تمہاری مدد کرے گا اور تمہیں ثابت قدم رکھے گا۔"

یہ منظر تاریخ کا ایک فیصلہ کن لمحہ ہے —

جہاں ایمان، صبر، اور اصول نے طاقت، سیاست اور پروپیگنڈے کو شکست دی۔

طالبان کا بھارت آنا صرف ایک ملاقات نہیں،

بلکہ قرآن کے وعدوں کی تکمیل ہے۔

حق دبایا جا سکتا ہے مگر مٹایا نہیں جا سکتا۔

> "تِلْكَ الْأَيَّامُ نُدَاوِلُهَا بَيْنَ النَّاسِ"

(آلِ عمران: 140)

"یہ دن ہم لوگوں کے درمیان بدلتے رہتے ہیں۔"

یہ آیت بتاتی ہے کہ دنیا کے حالات ہمیشہ ایک جیسے نہیں رہتے — کبھی جیت، کبھی ہار؛ کبھی عزت، کبھی آزمائش۔

اللہ اپنے بندوں کو یاد دلاتا ہے کہ اقتدار، کامیابی اور آزمائش سب اُس کے ہاتھ میں ہیں، وہ دنوں کو لوگوں کے درمیان گردش دیتا ہے تاکہ ایمان والوں کا امتحان ہو، صبر کرنے والے پہچانے جائیں اور مغروروں کی حقیقت ظاہر ہو۔

یہی نظامِ الٰہی ہے — 

دنیا کے لیے یہ ایک خبر ہے —

لیکن اہلِ ایمان کے لیے یہ نظامِ الٰہی کی زندہ جھلک ہے۔

   بقلم محمودالباری

mahmoodulbari342@gmail.com