ہمنشین اور تعلقات - - پہچان، وعدے اور حقیقت
بسم اللہ الرحمن الرحیم. مضمون (82)
انسان اس دنیا میں صرف اپنے قدموں پر نہیں چلتا، بلکہ اپنے ساتھ رشتوں کا ایک قافلہ بھی لیے چلتا ہے۔ کبھی یہ قافلہ سایہ بن کر دھوپ سے بچاتا ہے، کبھی بوجھ بن کر رفتار سست کر دیتا ہے۔ زندگی کی راہوں میں ملنے والے لوگ محض چہرے نہیں ہوتے، بلکہ انسان کے باطن پر اثر ڈالنے والی طاقتیں ہوتے ہیں۔ کوئی دل کا مرہم بنتا ہے، کوئی وقت کا ساتھی، اور کوئی ایسا بھی ہوتا ہے جو مسکراتے ہوئے زخم دے جاتا ہے۔ اسی لیے تعلقات کا شعور ایمان کی پختگی اور عقل کی بلوغت کی علامت ہے۔
رسولِ اکرم ﷺ نے انسان کو محض عبادات کا دین نہیں دیا بلکہ زندگی گزارنے کا سلیقہ بھی دیا، اور اس سلیقے میں سب سے اہم باب ہمنشین کا انتخاب ہے۔ کیونکہ انسان مشکل میں ہو تو سب سے پہلے کسی قریبی دوست کا دروازہ کھٹکھٹاتا ہے، اس امید پر کہ کم از کم وہ اس کے درد کو سمجھے گا، اس کی بات سنے گا اور اگر ممکن ہو تو اس کا بوجھ بانٹے گا۔ مگر ہر مسکراتا چہرہ ہمدرد نہیں ہوتا اور ہر ہمدردی کرنے والا قابلِ اعتماد نہیں ہوتا۔
تعلقات کی بنیادی قسمیں (حدیث کی روشنی میں)
1. صالح ہمنشین — سچا ہمدرد اور حقیقی دوست
نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
نیک ساتھی اور برے ساتھی کی مثال کستوری بیچنے والے عطار اور لوہار کی سی ہے۔ مشک بیچنے والے کے پاس سے تم دو اچھائیوں میں سے ایک نہ ایک ضرور پا لو گے۔ یا تو مشک ہی خرید لو گے ورنہ کم از کم اس کی خوشبو تو ضرور ہی پا سکو گے۔ لیکن لوہار کی بھٹی یا تمہارے بدن اور کپڑے کو جھلسا دے گی ورنہ بدبو تو اس سے تم ضرور پا لو گے۔ (صحيح البخاري/كتاب البيوع/حدیث: 2101) 
یہ (صالح ہمنشیں) وہ دوست ہے جو: تمہیں فائدہ دے یا کم از کم نقصان نہ دے۔ تمہاری غیر موجودگی میں بھی تمہاری عزت کا محافظ ہو۔ تمہاری کمزوری کو تماشا نہ بنائے بلکہ پردہ بن جائے۔ ایسا دوست نعمت ہے، کیونکہ وہ نہ صرف مشکل میں ساتھ دیتا ہے بلکہ غلطی پر خاموش نہیں رہتا، بلکہ حکمت سے اصلاح کرتا ہے۔
2. وقتی دوست - زبانی ہمدرد، عملی بے حس
نبی ﷺ نے فرمایا:
منافق کی تین نشانیاں ہیں، جب بات کرے تو جھوٹ بولے، جب وعدہ کرے، خلاف ورزی کرے اور جب اس کے پاس امانت رکھی جائے تو خیانت کرے۔ ؛؛ متفق علیہ، رواہ البخاری (33) و مسلم۔ امام مسلم نے الفاظ زائد نقل کئے ہیں:
؛؛ اگرچہ وہ روزہ رکھے، نماز پڑھے اور وہ مسلمان ہونے کا دعویٰ کرے ۔؛؛ 
 (مشكوة المصابيح/كتاب الإيمان/حدیث: 55) 
یہ وہ تعلق ہے جس میں:
تسلی بہت، تعاون کم۔
وعدے پختہ، عمل ندارد۔
ہمدردی زبان پر، دل میں نہیں۔ - - یہ دشمن نہیں ہوتے مگر دوست بھی نہیں ہوتے۔ ان سے توقع رکھنا خود کو زخمی کرنے کے مترادف ہے، اور اکثر ایسے لوگ انسان کو مشکل میں پہچانے جاتے ہیں۔
3. مفاد پرست دوست - آستین کا سانپ
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
الْمَرْءُ عَلَى دِينِ خَلِيلِهِ فَلْيَنْظُرْ أَحَدُكُمْ مَنْ يُخَالِلْ. آدمی اپنے دوست کے دین پر ہوتا ہے، - پس تم میں سے ہر ایک دیکھے کہ وہ کس سے دوستی کر رہا ہے۔
(مشكوة المصابيح/كتاب الآداب/حدیث: 5019) 
یہ وہ خطرناک طبقہ ہے جو: - مدد کر کے احسان جتاتا ہے۔ - راز جان کر ہتھیار بنا لیتا ہے۔ اختلاف پر دشمنی پر اتر آتا ہے۔ - یہ کھلا دشمن نہیں ہوتا، اسی لیے زیادہ خطرناک ہوتا ہے۔ ایسے لوگوں کے ساتھ رسول ﷺ کی تعلیم یہ ہے: احتیاط، توازن، اور حدود کی پابندی۔
4. کھلا دشمن — جس سے فاصلہ ہی سلامتی
قرآن کہتا ہے:
یقیناً شیطان انسان کا کھلا دشمن ہے۔
(سورہ فاطر: 6)
اور انسانوں میں بھی کچھ ایسے ہوتے ہیں جو:
آپ کی ناکامی میں خوش ہوتے ہیں۔ آپ کی عزت میں کمی چاہتے ہیں۔ آپ کے سکون سے جلتے ہیں۔ ایسے دشمنوں سے لڑائی نہیں، بلکہ خاموش فاصلہ ہی سب سے بڑی حکمت ہے۔
نبی ﷺ نے فرمایا:
لَا يُلْدَغُ الْمُؤْمِنُ مِنْ جُحْرٍ مَرَّتَيْنِ‏. مومن ایک سوراخ سے دو بار نہیں ڈسا جاتا۔ (الادب المفرد/كتاب/حدیث: 1278) 
وعدوں کے سہارے چلنے والی دوستی - - عملی مثالیں
پہلی مثال: ہمدردی کے الفاظ، خالی ہاتھ
ایک شخص شدید مالی پریشانی میں مبتلا ہے۔ علاج، فیس یا کسی مجبوری کے لیے فوری رقم درکار ہے۔ وہ ایک قریبی دوست سے رجوع کرتا ہے۔ دوست بڑے درد بھرے لہجے میں کہتا ہے:
بھائی! تم نے مجھے اپنا سمجھا، یہی کافی ہے۔ میں کل ہی انتظام کر دوں گا۔؛؛ کل آتا ہے تو کہتا ہے: آج ذرا مصروف ہوں، پرسوں لے لینا۔
پرسوں کہتا ہے: رقم کہیں اٹک گئی ہے، اگلے ہفتے۔ ہفتہ مہینے میں بدل جاتا ہے، مگر رقم نہیں آتی۔ یہاں نقصان صرف رقم نہ ملنے کا نہیں، بلکہ وقت ضائع ہونے کا ہے۔ اگر یہ شخص پہلے دن ہی صاف انکار کر دیتا تو پریشان آدمی کسی اور راستے کی تلاش کرتا، مگر یہاں اسے جھوٹی امید نے باندھ رکھا۔
نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
وعدہ کرنا اور پورا نہ کرنا نفاق کی علامت ہے۔
یہ وہی رویہ ہے جس میں زبان ہمدرد ہوتی ہے، مگر عمل غائب۔
دوسری مثال: امید بیچنے والا دوست
کچھ لوگ مدد نہیں کرتے، مگر ہر ملاقات پر نیا وعدہ بیچتے ہیں:؛؛ اب کی بار پکا۔؛؛ 
بس دو دن کی بات ہے۔؛؛ 
؛؛ میں نے تمہارا کام اپنی فہرست میں سب سے اوپر رکھا ہے۔؛؛ 
یہ دراصل انسان کو سہارا نہیں دیتے بلکہ انتظار میں معلق رکھتے ہیں۔ ایسا شخص نہ راستہ چھوڑتا ہے نہ راستہ دکھاتا ہے۔ نہ ہاں کہتا ہے نہ صاف نہ۔ یہی کیفیت سب سے زیادہ نقصان دہ ہوتی ہے۔
قرآن کا اصول ہے:
؛؛ یا تو بھلائی کرو، یا صاف انکار کر دو، مگر اذیت کے ساتھ وعدہ نہ دو۔؛؛ یعنی صاف انکار عزت کے ساتھ ہو تو بہتر ہے، مگر جھوٹی تسلی عزت توڑ دیتی ہے۔
تیسری مثال: احسان جتانے والا وعدہ شکن
کچھ دوست پہلے کبھی معمولی مدد کر دیتے ہیں، پھر اسی کو بنیاد بنا کر ہر بار کہتے ہیں:
میں نے تو تمہارے لیے بہت کچھ کیا ہے، اب بھی کر دوں گا۔
مگر حقیقت میں:
وہ احسان یاد دلاتے ہیں،
مگر نیا وعدہ پورا نہیں کرتے، اور سامنے والے کو احساسِ جرم میں مبتلا رکھتے ہیں۔ یہ لوگ مدد کم کرتے ہیں، احسان زیادہ بیچتے ہیں۔ ایسے تعلق میں انسان قرض نہیں، شرمندگی میں ڈوبتا ہے۔ تعلقات میں سب سے بڑی عقل مندی
نبی کریم ﷺ کی جامع نصیحت:
جو اللہ اور آخرت پر ایمان رکھتا ہے
وہ یا تو بھلائی کی بات کرے یا خاموش رہے۔
(صحیح بخاری: حدیث نمبر 6018 (کتاب الادب)
اس حدیث میں تعلقات کا پورا فلسفہ ہے: ہر شخص سے ہر بات نہیں۔
ہر دوست سے ہر راز نہیں۔ ہر ہمدرد پر مکمل اعتماد نہیں۔
اور نبی ﷺ کا فرمان:
مومن ایک سوراخ سے دو بار نہیں ڈسا جاتا۔
یعنی عقل یہ نہیں کہ ہر بار معاف کرتے رہو، بلکہ عقل یہ ہے کہ تجربے سے سیکھو۔
زندگی میں ہر شخص کو تین کردار ملتے ہیں:
کچھ رحمت بن کر آتے ہیں - انہیں سنبھال کر رکھو۔ کچھ سبق بن کر آتے ہیں - ان سے سیکھ کر آگے بڑھو۔ کچھ زخم بن کر آتے ہیں — ان سے بچنا ہی عقل ہے۔ ایسے لوگ نہ مکمل دشمن ہوتے ہیں نہ سچے دوست، بلکہ یہ امید کے سوداگر ہوتے ہیں، جو تمہاری مجبوری سے نہیں بلکہ تمہارے صبر سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔
سچا دوست وہ نہیں جو کہے:؛؛ میں ہوں نا ؛؛ 
بلکہ سچا دوست وہ ہے جو وقت پر ثابت کرے:
"میں تھا۔"
اصل کامیابی یہ نہیں کہ انسان کے پاس بہت دوست ہوں، بلکہ یہ ہے کہ: وہ غلط دوست سے محفوظ ہو، جھوٹے ہمدرد سے ہوشیار ہو،
اور سچے دوست کی قدر جانتا ہو۔ کیونکہ ہمنشین صرف وقت نہیں گزارتا، وہ کردار بناتا ہے، سوچ بدلتا ہے، اور تقدیر کی سمت موڑ دیتا ہے۔ اسی لیے کہا گیا ہے: دوست کا انتخاب دراصل اپنی آئندہ زندگی کا انتخاب ہے۔
   بقلم محمودالباری
mahmoodulbari342@gmail.com