دیوبند: محض ایک شہر نہیں، ایک عہد کا نام
ہندوستان کی تاریخ میں ۱۸۵۷ء کا سال خون کی سیاہی سے لکھا گیا ہے۔ مغلیہ سلطنت کا سورج غروب ہو چکا تھا، دلی کی گلیاں ویران تھیں اور مسلمانانِ ہند مایوسی کے گھٹا ٹوپ اندھیروں میں گم تھے۔ انگریز نہ صرف زمین پر قابض ہو چکا تھا بلکہ وہ ذہنوں اور عقیدوں کو بھی غلام بنانے کے درپے تھا۔ ایسے پُر آشوب دور میں، جب ہر طرف خزاں کا ڈیرا تھا، سہارنپور کے ایک چھوٹے سے قصبے "دیوبند" کی مٹی سے ایک ایسی کونپل پھوٹی جس نے آگے چل کر تناور درخت بننا تھا۔
یہ داستان کسی عالی شان عمارت، سرکاری فنڈز یا شاہی سرپرستی سے شروع نہیں ہوتی۔ یہ داستان شروع ہوتی ہے "اخلاص" سے۔
انار کا درخت اور خلوص کی بنیاد
تاریخ کے اوراق گواہ ہیں کہ ۱۵ محرم الحرام ۱۲۸۳ھ کی وہ مبارک صبح تھی جب دیوبند کی "چھتہ مسجد" کے صحن میں ایک انار کے درخت کے سایے میں ایک مدرس اور ایک شاگرد نے اس عظیم تحریک کا آغاز کیا۔ مدرس کا نام ملا محمود اور شاگرد کا نام محمود حسن (جو بعد میں شیخ الہند بنے) تھا۔
نہ کوئی دفتر، نہ کوئی رجسٹر، نہ کوئی شور و غوغا۔ بس ایک اللہ کا نام اور دین کو بچانے کی تڑپ۔ مولانا محمد قاسم نانوتویؒ، جو اس فکر کے بانی تھے، انہوں نے اس ادارے کی بنیاد ایسی "فقیرانہ شان" اور "قلندرانہ ادا" پر رکھی کہ دنیا دنگ رہ گئی۔ انہوں نے اصول طے کیا کہ یہ ادارہ حکومت کے چندے کا محتاج نہیں ہوگا بلکہ غریب مسلمانوں کی مٹھی بھر امداد اور اللہ کے توکل پر چلے گا۔
دیوبند: ایک فکر، ایک تحریک
دیوبند صرف فقہ اور حدیث پڑھنے کی جگہ نہیں بنی، بلکہ یہ ۱۸۵۷ء کے مجاہدین کی وہ چھاؤنی ثابت ہوئی جہاں قلم اور کردار کے ہتھیار تیار کیے گئے۔ یہاں سے نکلنے والوں نے جہاں مساجد کے ممبروں کو آباد کیا، وہیں انگریز کے خلاف میدانِ جنگ میں بھی صفِ اول میں کھڑے نظر آئے۔
اردو ادب کے حوالے سے دیکھیں تو دیوبند کی نثر اور نظم میں ایک خاص "متانت" اور "شستگی" ہے۔ ان کی تحریروں میں اگرچہ عربی و فارسی کی گہری چھاپ ہے، لیکن بیان اتنا سلیس اور پُر اثر ہے کہ سیدھا دل میں اتر جاتا ہے۔ مولانا اشرف علی تھانویؒ کی اصلاحی تحریریں ہوں یا مولانا حسین احمد مدنیؒ کے سیاسی خطبات، ہر جگہ زبان کا ایک الگ حسن نظر آتا ہے جو ادب برائے زندگی کا بہترین نمونہ ہے۔
حاصلِ کلام
دیوبند کی یہ بستی، جسے آج دنیا "ازہر الہند" کے نام سے جانتی ہے، دراصل مسلمانوں کی "اجتماعی خودی" کی بازیافت کا نام ہے۔ یہ وہ چراغ ہے جو آندھیوں میں جلایا گیا اور جس کی روشنی نے ایشیا سے لے کر افریقہ اور یورپ تک علم کے اجالے پھیلائے۔
جیسا کہ کسی شاعر نے کہا ہے:
ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے
بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مفتیہ نمرہ قریشی ✍️