امتِ مسلمہ کے عقائد ہمیشہ باطل فرقوں کی زد پر رہے ہیں۔ ان میں سب سے بڑا فتنہ وہ ہے جو اصحابِ رسول ﷺ کی عظمت و حرمت کو پامال کرتا ہے، اور اہلِ بیت کی محبت کے نام پر صحابہ کرام پر سب و شتم اور لعنت طرازی کو عبادت سمجھتا ہے۔ ایسے ہی گروہ کو رافضی یا تبرائی شیعہ کہا جاتا ہے، جو اپنے گمراہ کن عقائد کی وجہ سے دائرۂ اسلام سے خارج ہیں۔ اہل سنت والجماعت کے اکابرین نے ہمیشہ اس فتنہ کا شدت سے رد کیا، اور عقائدِ اہل سنت کی حفاظت کے لیے بے شمار قربانیاں دیں۔ ان عظیم ہستیوں میں سرفہرست امام اہل سنت، مجددِ اعظم، امام احمد رضا خان بریلوی رحمہ اللہ کا نام آتا ہے، جنہوں نے اپنی مشہورِ زمانہ تصنیف فتاویٰ رضویہ میں رافضیوں کے متعلق قطعی شرعی فتویٰ صادر فرمایا۔


اعلیٰ حضرت امام احمد رضا رحمہ اللہ لکھتے ہیں:

رافضیوں تبرائیوں کے باب میں حکم یقینی، قطعی، اجماعی یہ ہے کہ وہ بالعموم کفار مرتدین ہیں، ان کے ہاتھ کا ذبیحہ مردار ہے، ان کے ساتھ مناکحت نہ صرف حرام بلکہ خالص زنا ہے؛ معاذ اللہ مرد رافضی اور عورت مسلمان ہو تو یہ سخت قہرِ الٰہی ہے؛ اگر مرد سنی اور عورت ان خبیثوں میں کی ہو، جب بھی ہرگز نکاح نہ ہوگا، محض زنا ہوگا، اولاد ولد الزنا ہوگی، باپ کا ترکہ نہ پائے گی اگرچہ اولاد بھی سنی ہی ہو کہ شرعاً ولد الزنا کا باپ کوئی نہیں؛ عورت نہ ترکہ کی مستحق ہوگی، نہ مہر کی کہ زانیہ کے لیے مہر نہیں۔ رافضی اپنے کسی قریبی حتیٰ کہ باپ، بیٹے، ماں، بیٹی کا بھی ترکہ نہیں پا سکتا؛ سنی تو سنی، کسی مسلمان، بلکہ کسی کافر کے بھی، یہاں تک کہ خود اپنے ہم مذہب رافضی میں بھی اس کا کچھ حصہ نہیں۔ ان کے مرد و عورت، عالم و جاہل، کسی سے میل جول، سلام کلام سب سخت کبیرہ، اشد حرام۔ جو ان کے ان ملعون عقائد پر آگاہ ہو کر پھر بھی انہیں مسلمان جانے یا ان کے کافر ہونے میں شک کرے، باجماع تمام ائمہ دین خود کافر بے دین ہے، اور اس کے لیے بھی وہی سب احکام ہیں جو ان کے لیے مذکور ہوئے۔ مسلمانوں پر فرض ہے کہ اس فتوے کو بغور سنیں اور اس پر عمل کر کے سچے پکے مسلمان سنی بنیں۔


(حوالہ: فتاویٰ رضویہ، جلد 14، صفحہ 268)


یہ فتویٰ فقہی روایات اور اجماعِ امت کی بنیاد پر قائم ہے، نہ کہ کسی وقتی تعصب یا فرقہ وارانہ نفرت پر۔ امام احمد رضا رحمہ اللہ کا موقف دراصل سلف صالحین کی تعبیرات کی ترجمانی ہے۔ آپ سے قبل بھی ائمہ کرام نے رافضیوں کو کافر و مرتد قرار دیا ہے:


امام مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں: جو حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کو گالی دے، وہ مرتد ہے۔

 (شرح معتقد الامام مالك، ص 42)


امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ نے فرمایا: جو صحابہ پر سبّ کرے، ان پر لعنت کرے، وہ کافر ہے۔

 (السنہ للخلال، ج 3، ص 493، رقم: 1480)


امام ابو زرعہ رازی رحمہ اللہ کا قول ہے: جب تم کسی کو صحابہ کی توہین کرتے دیکھو تو جان لو وہ زندیق ہے۔

 (الکفایہ فی علم الروایہ، امام خطیب بغدادی، ص 49)


لہٰذا، یہ بات اہلِ سنت کے ہاں اجماعی ہے کہ صحابۂ کرام کی توہین کفر ہے، اور جو لوگ ان کا کھلم کھلا انکار، سبّ و شتم یا لعنت طرازی کریں، وہ دائرۂ اسلام سے خارج ہیں۔


یہ بات بھی سمجھنی چاہیے یہ مخصوص فرقہ یعنی رافضی تبرائی مراد ہے جو امہات المومنین، خلفائے راشدین، اور دیگر صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم پر سبّ و شتم کو اپنا مذہب سمجھتے ہیں۔ ایسے عقائد رکھنے والے افراد کا تعلق چاہے کسی ملک یا زبان سے ہو، وہ شرعاً مرتد ہیں۔


امام احمد رضا رحمہ اللہ نے اس مسئلہ پر نہایت غیرتِ ایمانی کے ساتھ قلم اٹھایا، تاکہ اہلِ سنت کے نوجوانوں کو گمراہی سے بچایا جا سکے۔ آپ کا یہ فتویٰ ہمیں جھنجھوڑتا ہے، جگاتا ہے اور ایمان کی حرارت کو زندہ کرتا ہے۔ آج کے دور میں جبکہ وحدتِ امت کے نام پر باطل کو گلے لگایا جا رہا ہے، اور عقیدۂ صحابہ و اہلِ بیت کو مسخ کیا جا رہا ہے، یہ فتویٰ چراغِ راہ ہے۔ یہ فتویٰ محض تحریر نہیں، ایک تحریکِ غیرتِ ایمان ہے، جو ہمیں خبردار کرتی ہے کہ ہم دشمنانِ صحابہ و اہل بیت کو کبھی اسلام کی چھتری تلے تسلیم نہ کریں۔


اہل سنت والجماعت کے لیے یہ فرض ہے کہ وہ ایسے باطل فرقوں سے مکمل براءت اختیار کریں، ان کے ساتھ میل جول سے بچیں، ان کے کفر میں شک نہ کریں، اور اپنی نسلوں کو اس گمراہی سے محفوظ رکھیں۔ یہی امام احمد رضا رحمہ اللہ کا پیغام ہے، یہی سلف کا راستہ ہے، اور یہی ہماری نجات کا ذریعہ ہے۔


 اللہ تعالیٰ ہمیں غیرتِ ایمانی عطا فرمائے، صحابہ و اہل بیت کی محبت پر قائم رکھے، اور ہر باطل عقیدہ و فرقے سے ہمیشہ کے لیے محفوظ فرمائے۔مسلک رضا کا پابند بناۓ۔

آمین یا رب العالمین۔



✍️مفتیہ ہانیہ فاطمہ قادری

قادریہ اکیڈمی للبنات احمدآباد گجرات