بہت درد دے گی تیری یہ جدائی
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
✍🏻گل رضاراہی ارریاوی
سالانہ جلسۂ دستاربندی جہاں ایک طرف خوشیاں لاتی ہے کہ نورانی قاعدہ جوبچپن میں شروع کیا تھا وہ اب بخاری و تکمیلات کی دہلیز پہ پہونچ گیا ، فضلاء کے زمرے میں آ گیا،لیکن ساتھ ہی یہ بات بھی غمزدہ وافسردہ کردیتی ہے کہ اب ہم اس چمن کے بلبل نہ رہے اس کوچھوڑنے والے ہیں جہاں ہمیں چہچہانے کا موقع ملا،جہاں سے ہمیں شعور زندگی ملا ،جہاں زندگی کےنوک جھوک کو پرکھنے اور گردش ایام و زندگی کےپرخار حالات کا مقابلہ کرنے کا شعور ملا،جس چمن کے ہم پھول تھے آئندہ ہم اس چمن میں نہیں رہ پائیں گے یہ سب باتیں طلبہ کو پریشان کرتی ہے-
اسکول اور مدارس کے طلبہ میں یہی بنیادی فرق ہوتاہے کہ مدارس کے طلبہ اپنے احباب اساتذہ اور ادارے سے دلی محبت رکھتے ہیں ،ان سے متعلق حضرات سے باپ بھائی گھر جیسا سلوک کرتے ہیں ،جب کہ اسکول کے طلبہ میں یہ باتیں عنقا ہوتی ہے،وہ صرف اپنی فکر کرتے ہیں اپنے ٹیچر اور فرینڈ سے مطلب کی حد تک تعلق رکھتے ہیں -
جب ہم طلبۂ مدراس سالانہ چھٹیوں میں گھر چلے جاتے ہیں ،ایک ساتھی دوسرے ساتھی سےجدا ہو جاتے ہیں ،ایسا لگتاہے کہ دنیا اجڑ گئی ،کچھ ساتھی وہ ہوتے ہیں جن سے دوبارہ تعلیمی ملاقات ممکن ہوتاہے ،کیونکہ ان کی تعلیم مکمل ہونے میں وقت باقی ہوتاہے تو دوبارہ درسی رفاقت قائم ہونے کی امید رہتی ہے ؛مگر جو ساتھی اپنی تعلیم مکمل کرچکے ہوتے ہیں، ان کی فراغت ہوچکی ہوتی ہےتو ان کے ساتھ بیتے تلخ و شیریں لمحات بہت درد دیتے ہیں ،وہ منظر بالکل رلادینے اور آنکھوں سے آنسوں جاری کردینے والا ہوتاہے جو ہم نے ان کے ساتھ ہنسی مذاق ،لڑائی جھگڑا ،طنز ومزاح میں گزارے ہیں ، یہ سب باتیں بہت اذیت دیتی ہے، دل یہ چاہتا ہے کہ کاش یہ وقت تھم جاتا، ہم لوگ مزید کچھ شوخیاں کرتے ،مزید ہم ایک دوسرے کے ساتھ اپنے لمحات کو گزارتے -
ہمارے ساتھی چلے گیے
یہ سال کیسے مکمل ہوگیا اس کا احساس بھی نہیں ہوا کہ اتنی جلدی یہ سال مکمل ہوگیا ،ایسا لگتاہے کل کی بات میرا دسویں کا امتحان تھا جس کی وجہ سے راقم جلدی گھر سے مدرسہ آیا، پرانے ساتھی دھیرے دھیرے آنا شروع ہوگئے تھے -
ہم نے داخلہ لیا دیگر ساتھی نےبھی داخلہ لیناشروع کردیا ،فارم لے کر ادھر ادھر بھٹک رہے ہیں ،پھر میرے متعلقات میں مفتی ابوذر ومفتی منت اللہ صاحبان آۓ انہوں نے امتحان کےلیے اجازت نامہ حاصل کیا ،برادرم منت اللہ نے مجھے اجازت نامہ جمع کرنے کا مکلف بنایا اور راقم نے ان کے حکم کی تعمیل کی اور جمع کردیا گرچہ منت اللہ بھائی سے میری شناسائی پرانی تھی پر زیادہ وابستگی نہیں تھی ،کیونکہ دارالعلوم
میں میراتعلق صرف انجمن میں چند لمحوں کےلیےتھا ،کم ملنے جلنے کی وجہ سے گہری وابستگی نہیں ہوسکی تھی
لیکن؛ یہ منت اللہ بھائی کی ذرہ نوازی تھی کہ انہوں نے مجھے نہ صرف پہچانا بلکہ انہوں نے ماضی کی باتیں یاد بھی دلائی-
اس کے لیے ان کا شکر گزار ہوں
اور مفتی ابوذر تو تادم حیات میری نظروں میں رہیں گے چونکہ ان سے میری رشتہ دارہے،
پرانے ساتھیوں میں مولانا ریحان قاسمی و مولانا عبد القادر قاسمی مولانا مختار قاسمی ہیں -
مولانا ریحان قاسمی کے ساتھ میرا تعلیمی تعلق جامع مسجد امروہہ میں ایک ساتھ قائم ہوا تھا وہ بھی نئے تھے ،میں بھی نیاتھا وہ یہاں پنجم میں داخل ہوۓ اور میں چہارم
اس لیے ان سے دیرینہ تعلق تھا ان کے یادیں زیادہ مضبوط و مستحکم ہیں-
مولانا عبد القادر قاسمی، مولانا مختار قاسمی، مولوی قمر انضمام اور مولوی ریاض نے یہاں سال گزشتہ تعلیمی رشتہ قائم کیا تھا
ان کے علاوہ دیگر احباب بالکل نئے تھے
ان فضلاۓ کرام میں خصوصا میرا زیادہ تعلق مفتی منت اللہ صاحب اور مولوی مختار سے زیادہ تھا کیونکہ ہم علاقہ ہونے کی بنیاد پر بھی دلی رشتے قائم ہو جاتے ہیں -
یہ سال میرے لیے زیادہ یادگار ہے کیونکہ دیگر سالوں کے بالمقابل امسال مستیاں اور شوخیاں سیر و سیاحت اور زیادہ ہوئی ہے-
دیگر ساتھیوں سےمیرا سخت اختلاف بھی ہوا ہے مگر مفتی منت اللہ صاحب دیگر مفتیان کرام کے ساتھ میرا اختلاف عدم کے درجے میں ہے -
مفتی منت اللہ صاحب سے دیگر احباب کو اختلاف ہوا مگرمیرے ساتھ شاید وباید ہی ہوا کیونکہ میرا مزاج ان سے مل گیا تھا کسی طرح بدمزگی پیدا نہیں ہوئی ،جو بھی بات ہوتی میں منت اللہ بھائی سےکھل کر کہہ دیتا-
یہ بات میں بصدق دل لکھ رہاہوں جس وقت پہلا امتحان مکمل ہوا جن میں دورۂ حدیث اور تکمیلات والے کا امتحان مکمل ہوا تو احباب خوشی سے جھوم رہے تھے پر میں یہ سوچ رہا تھا کاش کہ یہ گھڑی رک جاتی کیونکہ ساتھیوں سے الگ اور جدا ہونے کا وقت شروع ہونے والا تھا آنکھوں کے سامنے وداعی کا وقت دکھ رہاتھا،
اور یہی ہوا بھی ، ادھر دستاربندی ہوئی احباب نکلنےشروع ہوگیے-
جس وقت مفتی منت اللہ اور مولانا مختار صاحبان گاڑی پر بیٹھے اور جانے لگے میں خود کو بہت ہی مشکل سے سنبھال پایا اور بعد میں یکے بعد دیگرے ساتھی جانے لگے،
ساتھیوں کےجاتے وقت اکثروں سے ملاقات نہیں ہوپائی جب کہ کچھ ساتھی راقم سے ملنے کمرے میں بھی تشریف لاۓمگر میری کوتاہی کہ میں کمرہ سے باہر تھا-
یہ گھڑیاں میرے لیے بہت ہی پُرتکلف تھی چونکہ یہ وہ احباب ہیں جن سے تعلیمی رفاقت دوبارہ قائم ہو بہت مشکل ہیں ،ان کی یادیں رہ سکتی ہے -
شروع سال سے اخیر سال تک کے مناظر بالکل میرے نظروں کے سامنے گردش پہ ہےایسا لگتا ہے پورے سال یہ کہنے میں گزرگیا کہ مفتی صاحب کیا بنانا ہے کیا بنائیں گیے کھانا کیا کھاناہے ،مختار بھائی کیا بنارہے ہیں اور عبد اللہ بھائی کیابناؤگے ،میں بھی آؤں کیا
اے عبداللہ! جھاڑو لگادو ،یہی سب کہنے اور مذاق کرنے میں گزر گیےیہ پرکیف لمحہ ہمیشہ یاد رہیں گے -
آپ چلے گیے پر آپ کی یادوں کے نقوش ہمیشہ کےلیے دل میں مرتسم ہوگیے-
بہت خوب تھے سارے ساتھی ہمارے
تھے سب جامعہ کے فلک کے ستارے
وہ آپس میں رہتے تھے سب بھائی بھائی
بہت درد دے گی یہ تیری جدائی
اللہ تعالیٰ آپ تمام احباب کو ہمشیہ سلامت رکھے