📝 عنوان: معاشرے میں بے نمازی کا بڑھتا رجحان — اسباب، اثرات اور عملی حل

اللہ کی طرف سے اپنے بندوں پر سب سے بڑا فریضہ نماز ہے 
یہ عمل بندے کو ربِّ کائنات سے جوڑتا، دل کو سکون عطا کرتا اور کردار کو سنوارتا ہے نماز محض چند حرکات و سکنات کا نام نہیں بلکہ ایمان کی روح، بندگی کا اظہار اور بندہ و معبود کے درمیان سب سے مضبوط رشتہ ہے یہ مسلمان اور کافر کے درمیان وجہ امتیاز ہے مسلمانوں کی صفت ہے کہ مسلمان نماز کا احتمام کرتا ہے یہی وجہ ہے کہ نماز کو دینِ اسلام کا ستون قرار دیا گیا ہے بالغ ہوجانے کے بعد نماز کسی حال میں معاف نہیں اللہ نے اس میں سہولت کی شکل رکھ دی ہے 
آپ سفر میں ہو کچھ بھی نہ پڑھوں 17 رکعات میں سے آپ صرف 5 رکعتیں پڑھ لو 2 فرض کی اور تین وتر کی باقی معاف ظہر کی بارہ میں سے صرف دو پڑھ لو باقی سب معاف بیمار ہے کھڑا نہیں ہوسکتا بیٹھ کر پڑھ لے لیٹ کر پڑھ لے 
اللہ ثواب پورا دے گے نماز انسان کی بے خبری میں چھوٹ گئ تو حکم یہ ہے فورا سب سے پہلے نماز کی قضا ادا کرے یہ ترمیم اور اتنی سہولت کردی ہے رب نے لیکن چونکہ مسلمان ہے نماز تو پڑھنی ہوگی
اللہ نے ہم پر فرض کی ہے سب سے پہلے نماز ہی کا حساب ہوگا 
میرے عزیزو کچھ مسلمان نمازی ہے لیکن نماز کا اہتمام ان کے گھروں میں بھی کوئی نہیں یہ کیسے ہوسکتا ہے نماز کی عظمت ایسی جو اللہ اور اس کے رسول نے بتائی ہے پھر آنکھوں کے نیچے کوئی بے نمازی کو کیسے برداشت کرسکتا ہے ! کبھی نہیں ہوسکتا ! بیٹی یا بیٹا باپ کے سامنے سگریٹ اٹھاکر پیۓ تو بتاؤں اس باپ کو کیسے ناگواری گزرے گی اور گزرنی بھی چاہۓ بیٹی سیگریٹ پی رہی ہے ارے میرے عزیزو قسم خدا کی نماز کا چھوڑنا اس گناہ سے بدترین گناہ ہے لیکن میرے معاشرے نے اسے قبول کر رکھا ہے سگریٹ پینا میرے معاشرے نے قبول نہیں کیا ہے ایک بچی باپ کے سامنے سگریٹ پھونکے ایسی گٹھیاں حرکت کیسے کرے میرے معاشرے نے اس کو قبول نہیں کیا ہے اس لۓ باپ کو ناگواری گزری لیکن میرے معاشرے نے بے نمازی کو قبول کر لیا ہے نماز کا چھوڑنا زنا سے شراب سے بڑا گناہ ہے اللہ کے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم جیسے شفیق مہرباں اور خیرخواہ نبی اتنے سخت لفظ کسی کوتاہی پر نہیں فرماۓ جو نماز کے ترک پر فرماۓ
مَن تَرَكَ الصَّلَاةَ مُتَعَمِّدًا فَقَدْ كَفَرَ
ترجمہ:
“جس شخص نے جان بوجھ کر نماز چھوڑ دی، اس نے کفر کیا

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم جو رحمت اللعالمین ہے ایک موقع پر ناراضگی کا ارشاد فرمایا میرا جی چاہتا ہے لکڑیاں جمع کرو اور ان لوگوں کے گھروں کو جلادو جو گھروں میں نماز پڑھتے ہیں یہ تو ان لوگوں کا حال ہے جو گھروں میں نماز پڑھتے ہیں مسجد نہیں آتے 
ان سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کتنا ناراض ہوگے کتنا غصہ ہوگے جو نماز ہی نہیں پڑھتے جو نماز کی پرواہ ہی نہیں کرتے وہ کس منہ سے حوص کوثر پر جاۓ گے ...
نماز تو منافقوں پر بھاری ہے 
نماز انسان کی بے خبری میں چھوٹ گئ تو حکم یہ ہے فورا سب سے پہلے نماز کی قضا ادا کرے حدیث میں آتا ہے سب سے پہلے نماز کا حساب ہوگا جس طرح شراب پینے والا گناہ گار ہے اسی طرح نماز نہ پڑھنے والا بھی گناہ گار ہے میرا بیٹا شراب پی رہا ہو برداشت نہیں ہے نماز چھوڑ رہا ہو برداشت ہے کیونکہ وہ عام‌ ہوگیا نا اس لۓ اس کی برائی دل سے نکل گئ شراب پینے والے( 10٪ )دس پرسنٹ ہے اور بے نمازی (80٪ )اسی پرسنٹ ہے 
تعداد بڑھ گئ معاشرے میں عام ہوگیا آج ہم اس کو برا ہی نہیں سمجھتے گناہ ہی نہیں سمجھتے اس کی برائی دلوں سے نکل گی اس کی آج ہم نماز کو سر سری چیز سمجھتے ہے دل میں آیا پڑھ لیا نہیں تو چھوڑ دیا
ہونا تو یہ چاہۓ جس طرح جمعہ میں سب نماز کو آتے ہے اس طرح روازانہ آۓ نماز کی اہمیت اسلام میں ہے 
اسلام میں نماز کی حیثیت سر کی طرح ہے جس طرح سر کے بغیر انسان نہیں اس طرح نماز نہیں تو اسلام ہی مکمل نہیں 
ایمان والے کامیاب ہوگۓ ان کی ایک بڑی نشانی کیا ہے فرمایا وہ اپنی نمازوں میں خشوع رکھتے ہیں 
یہ کوئی مشکل نہیں ہے اگر مشکل ہوتی بھائی رحیم اللہ کریم رب مہربان ذات ہم پر یہ بوج ڈالتی ہی نہیں تو یہ آسان سی چیز ہے کہ اعضاء و جوارح نماز میں پرسکون ہو بندہ اللہ سے جڑے غیراللہ کی طرف متوجہ نہ ہو اس میں ہمارے یہاں بڑی زیادتی اور کمی پائی جاتی ہے قوم کو فکر ہی نہیں ہے کہ میں نے اپنی نماز بہترین بنانی ہے 
کپڑے اچھے ہوجائے گھر اور سواری اچھی ہوجائے اور نا جانے کیا کیا 
نماز پڑھنے کی عادت بن جانا بھی اللہ کی بڑی نعمت ہے کچھ لوگ تو ایسے بھی ہے جن کو لگتا ہے اچھی طرح نماز پڑھنا ہمارے اختیار میں ہے ہی نہیں یہ مایوس ہوۓ بیٹھے ہے اور نماز کو جاتے صرف جمعہ کے جمعہ 
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب بچے کی عمر سات سال کی ہو اسے نماز کی عادت ڈال لو کون کہہ رہا ہے اللہ کے نبی کہہ رہے ہے یہ تو آج مسلمانوں کے اندر نظر نہیں آتا ہے ڈھائی سال کا ہو اور ماں باپ اسکول تک پہچھا دیتے ہے یہ منظر تو نظر آتا ہے لیکن اپنے نبی کے ارشاد کا لحاظ کتنا ہے یہ تو ہمارے معاشرے میں نظر نہیں آتا 
سات سال کی عمر ہو بچہ مسجد میں ہو مصلے پر ہو پانچ وقت کی نماز کا پابند ہو میرے عزیرو جب آج ماں باپ اولاد کے حق میں قصوروار ہو رہے ہے تو کل یہ اولاد بھی ماں باپ کے لۓ قصوروار ہوگی پھر ماں باپ تڑپے گے ترسے گے اس لۓ کہ بچے کی ایسی تربیت ہی نہیں ہوئی کتنے گھر ایسے ہے جہاں ماں باپ اولاد کو نماز کا احترام کرنے والا بنا رہے ہے جیسے اسکول پابندی سے بھیج رہے ہے بالغ ہونے سے پہلے کی جو عمر ہے اس عمر میں تو بچہ مکمل ماں باپ کے تابع ہوتا 
یہ اولاد کا ماں باپ پر حق ہے ان کے اندر اچھی عادت لے کر آنا ان کو دینی تعلیم و تربیت دینا نماز کی عادت ڈالنا اگر ماں باپ کمی کرے گے کوتاہی سستی کرے گے اور بچے نماز کو چھوڑے گے تو اللہ کے یہاں دونوں ہی مجرم ہوگا 
آپ دیکھے میدان جنگ میں بھی نماز معاف نہیں ہے نماز پڑھنی ہے
نماز پڑھنے کا اصل اجر تو مرنے کے بعد ملے گا مگر اس کا اثر دنیاں کی زندگی پر بھی پڑھتا ہے
 إِنَّ الصَّلَاةَ تَنْهَىٰ عن الْفَحْشَاءِ والمنكر
اللہ کرے ایسی نماز میری ہوجائے 
 نماز کا اثر ہے نمازی کے زندگی میں گناہ نہیں ہوتے بے حیائی اور برے کاموں سے رکتا ہے انسان اگر ہم نماز اس نیت سے پڑے کہ اس کے ذریعے سے گناہ میری زندگی سے نکل جاۓ گے پھر دیکھے اس کے اثر کیسے ہوتے ہے
نماز کی تاثیر میں ذرہ برابر شک نہیں ہے اس لۓ کے کائنات کا رب بتارہا ہے
 عمل کرنے کے وقت نیت بھی کرے جس طرح بچے کے رونے کا اثر سارے گھر والوں پر پڑھتا ہے اس طرح نماز کا اثر سارے جہاں پر پڑھتا ہے 
چاند گرہن کی نماز ہے قحط پڑھ گیا نماز ہے 
بارش نہیں ہورہی نماز ہے پریشانیاں آگئ نماز ہے کسی کام میں اللہ سے مشورہ لینا ہو استخارہ کی نماز ہے 
نماز پڑھنے سے گناہوں سے حفاظت ہوجائے گی اللہ کے نبی نے نماز کو اپنی آنکھوں کی ٹھنڈک بتائی ہے 
 حضرت عمر اپنے تمام حکام کو خط لکھتے ہے اور فرماتے ہے میرے نزدیک سب سے اہم پسندیدہ عمل نماز ہے جو اس کا احتمام کرے گا وہ باقی ساری چیزوں کا احتمام کرے گا 
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب نماز کا تحفہ لے کر آۓ راستے میں موسی علیہ السلام ملے پوچھا کتنی نماز ملی پچاس وقت کی کہاں کم کرا کر لاؤ میری امت دو وقت کی نہیں پڑھ پائی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کم کرائی آخر میں کم کرتے کرتے پا‌نچ رہے گئ پھر کہاں اور کم کرا لو اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اب مجھے شرم آتی ہے
اللہ کے نبی کو اپنی امت پر بھروسہ تھا میری امت کرلے گی اللہ نے کہا ثواب پورا ملے گا اللہ کو پہلے سے پتہ تھا اللہ بڑا رحیم ہے کریم ہے وہ حکیم ہے اگر دنیاں کا حکیم وقت دوائی دے وقت مقرر کرے مریض چون چرا نہیں کرتا یہاں پر جس رب نے نماز دی اس کا وقت مقرر کیا بندہ کو چاہۓ خدا کی مانے 
وہ تو سارے حکیموں سے بڑا حکیم ہے اور ہمارا تو ایمان ہے جب میں بیمار پڑھتا ہوں تو وہی مجھے شفا دیتا ہے تو میرے عزیرو اپنے محتہدوں کو اپنے گھر والوں کو اس فریضہ پر لے کر آئیں اس کو بہتر کیجۓ
ایک بات یاد رکھیں نماز پڑھنے سے کاروبار کا نقصان نہیں ہوتا آپ غور کرے ظہر کی نماز کا وقت دو پہر میں ہوتا ہے ایک بجے دو بجے عام طور سے یہ ہمارے کھانے پینے کا وقت ہوتا ہے اس میں ظہر کی نماز ادا کرنی ہے عصر کے وقت زیادہ تر لوگوں کا کام ختم ہوجاتا ہے یا پھر جسم تھوڑا آرام مانگتا ہے ہم اس وقت عام طور پر چاۓ پیتے ہے کچھ دیر رک جاتے ہے اسی میں عصر کی نماز پڑھنے ہے 
مغرب عشاء اور فجر اس وقت تو انسان فارغ ہوتا ہے 
اللہ نے دین کو آسان رکھا ہے ہم اس کو سمجھ کر نہیں کر رہے ہے صحیح طریقے سے نہیں کر رہے ہے اس لۓ مشکل ہورہی ہے 
کوئی کام جو آسان ہو مگر اس کام کو صحیح طریقے سے نہیں کیا جاۓ وہ مشکل لگتا ہے 
ہمھیں چاہۓ ہم خود نماز کی پابندی کرے سنت نوافل گھر میں ہی ادا کرے نماز کی عظمت دل میں بیٹھاۓ عورتوں کو بتاۓ تمھارا گھر میں نماز پڑھنا بڑی عبادت ہے 
حضرت عائشہ کہنے لگی میرا جی چاہتا ہے میں بیت اللہ کے اندر جاکر نماز پڑھوں آپ صلی اللہ علیہ نے حضرت عائشہ فرماتی ہے میرا ہاتھ پکڑا اور حجرہ میں لے گۓ اور پھر کہاں جو یہ چاہتی ہے وہ بیت اللہ کے اندر نماز پڑھے اس عورت کو چاہۓ کے وہ اپنے حجرہ میں گھر میں نماز پڑھے
 آدمی کا فرض نماز گھر میں پڑھنا عیب سمجھا جاتا ہے مگر عورت کا گھر میں نماز کا اہتمام کرنا افضل عبادت ہے
مسلمان معاشرہ میں مسلمان کا تعلق مسجد سے ہو یہ ان کے ایمان کا تقاضہ ہے
 علماء اکرام اور اللہ والوں سے تعلق ہو کسی سے بیعت ہوجائے جو نماز کی تاکید کرتا ہو شریعت کے مطابق آپ کو لے کر چلتا ہو 
سنت نوافل اور فرض کی پابندی ہو نماز کے متعلق اپنا محاسبہ کرے
کوئی نماز چھوڑ تو نہیں دی چاہے وہ نفل نماز ہی کیوں نا ہو 
کچھ دیر تنہائی میں اپنا اس دنیاں سے جانا سوچا کرو موت کو کثرت سے یاد کیا کرو اس سے دل کی صفائی ہوتی ہے 
میرے عزیزو یہ دل محبت کرتا ہے نا تو تھوڑی دیر خلوت میں خالق حقیقی کا نام محبت سے لیا کرو  
جس سے روزآنہ باتیں ہوتی ہے وہی دل میں جگہ بنا لیتا ہے 
اللہ کا ذکر کیا کرو یوں بیٹھ کر تلاوت کیا کرو جیسے اپنے رب سے باتیں کر رہے ہو نماز ادا کیا کرو جیسے اللہ تمھیں دیکھ رہا ہے اور تم اس کے سامنے ہو
أَلَا بِذِكْرِ اللَّهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوبُ 
اس دل کو وہ مل گیا جو اس کی ضرورت تھی 
ذکر اور عبادت دل کی غزا ہے جب اس دل کو اس کی غزا مل جاتی ہے یہ مطمئن ہوجاتا ہے نماز کو سکون سے پڑھا کرو اذان سن کر فوراً نماز کی طرف جایا کرو 
گھر میں تعلیم دینی تعلیم ہو نماز کی پابندی ہو بچہ وہ سیکھتا ہے جو وہ اپنے والدین کو کرتا دیکھتا ہے ہم نمازی ہوگے ہمارے بچے نمازی ہوگے 
دعائیں کرو اللہ مجھے اور میری اولاد کو نماز کا پابند بنا جیسے ابراہیم علیہ السلام نے کی تھی 
تعلیم کے حلقوں میں بیٹھ کر نماز کی اہمیت و فضیلت کو خوب سننے امت میں چل پھر کر اس کی خوب دعوت دے جو نماز چھوڑ دی اس پر شرمندگی ہو افسوس ہو بندہ سوچے مجھ سے ایسا کونسا بڑا گناہ ہوگیا جو اللہ نے مجھے اپنے سامنے کھڑے رہنا پسند نہیں کیا اس کی قضا کرے اللہ سے معافی مانگے آئندہ نماز پابندی سے پڑھنے کا عزم کرے کام کی مشغولیت کی وجہ سے نماز نہ چھوڑے جس اللہ نے صحت دے ماں باپ دیۓ اس کے لۓ نماز ادا کرنا ہے یہ دل کو سمجھاۓ نماز کو فرض سمجھے یہ اللہ کا حکم ہے مجھے ہر حال میں کرنا ہے روزآنہ اللہ سے نماز کی توفیق خشوع والی نماز اور نماز کی حقیقت و اہمیت کو خوب مانگے
  نماز کی توفیق کا مل جانا اللہ کی طرف سے بڑا انعام ہے سنت و نوافل کی بھی پابندی کرے 
اللہ ہمھیں دین کی صحیح سمجھ عطا

آمین یا اللہ