الحمد للہ رب العالمین حمد الشاکرین والصلوۃ والسلام علی خیر البریّۃ محمد صلی اللہ علیہ و سلّم و آلہ الطیبین الطاھرین امّا بعد. فاعوذ باللہ من الشیطان الرجیم بسم اللہ الرحمٰن الرحیم : لَقَدۡ كَانَ لَكُمۡ فِىۡ رَسُوۡلِ اللّٰهِ اُسۡوَةٌ حَسَنَةٌ (سورۃالأحزاب)
اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے محبوب آقائے نامدار مدنیئے تاجدار کونین کے سرور اللہ کے دلبر محمد مصطفیٰ احمد مجتبٰی پربہت سارےاحکام نازل کیےاور آپ صلی اللہ علیہ و سلم پر اتارے. اگر آپ تمام احکام کو غوروفکر سے دیکھوگے تو آپ کو اس بات کا ثبوت اور علم ہو جائے گا کہ تمام احکام کو اللہ تعالیٰ نے روئے زمین پر نازل کیا اور اتارا ,لیکن جب نماز کی باری آئی تو خالق ارض و سماوات نے اپنے عبدِمحبوب و رسولِ مختار اور نبیِ مرسل کو آسمانوں کی سیر کروائی بذریعہ اسراء.اور اپنے محبوب کو تحفہ میں پانچ نمازیں عطا کی چنانچہ تمام احکامات میں نماز کا درجہ بلند بالا ہے کیونکہ یہ تحفہ اور حکم ربِ کائنات نے اپنے پاس بُلواکر عطا کیا تھا اور ایسی جگہ عطا کیا جہاں خود جبرئیل علیہ السلام کی رسائی نہیں ہو سکتی جو جگہ خود انکے (جبرئیل ) کے لیے منتھی ہےاور اس طرح عطا کرنے میں یہ بھی حکمت ملحوظ ہے کہ اس نماز کے مقام و مرتبہ اور اسکی عظمت و جلالت اور اسکی فضیلت و رفعت کو بتایا جایے لہاذا ہمیں اس کا خوب پابندی سے اہتمام کرنا چاہیےاور اس پر مداومت اختیار کرنی چاہیے اور اسی مداومت پر جمے رہنے کی اللہ سے توفیق مانگنی چاہیے اب جبکہ اللہ نے ہمیں اس کا حکم دیا ہے تو ہمیں اس کو سکون و اطمینان کے ساتھ ادا کرنا چاہیے وجہ اس کی یہ ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم ہمارے لیےاسوہ اور نمونہ ہیں تو آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے جس طرح نماز کو ادا کیا اور امّت و عوام کو جس طرح تعلیم دی اسی طرح ادا کی جائے.. اور ہمیں نماز کو پر سکون ہو کر حاضرِقلب و دماغ کے ساتھ اسکے فرائض و واجبات اور سنن و مستحبات اور آداب کی رعایت کرتے ہوئے اور منھیات اور مکروہات سے اجتناب کرتے ہوئے پڑھنی چاہیے
لہاذا بہت سے ارکان وعیرہ ہے اس میں سے ہم اکثر کو اطمنان کے ساتھ ادا کرنے کا اہتمام کرتے ہے لیکن دو(۲) رکن ایسے ہے جس میں بہت حضرات کوتاہی کرتے ہوئے نظر آتے ہیں اور وہ دو (۲) رکن رکوع و سجود ہیں ہم اکثر کا مشاہدہ کرتے ہیں کہ وہ لوگ اس میں طمانینت کا خیال نہیں رکھتے اور اس طرح رکوع و سجود ادا کرتے ہیں کہ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ انکو کوئی چیز جلدی سے آواز لگا رہی ہے جسکی طرف وہ لپک رہے ہو.. تو اب میں آپ حضرات کو رکوع و سجود میں طمانینت کا آسان اور سہل طریقہ بتاتا ہوں ( سب سے پہلے آپ طمانینت کا مطلب اور مفہوم سمجھئے.طمانینت کا مطلب یہ ہے کہ ہر رکن کو اس طرح ادا کرنا کہ کہ ہر جوڑ اور عضو اپنی جگہ پر آجائے . اور یہ کوتاہی زیادہ تر رکوع سے اٹھنے اور سجدہ کے درمیان اور دو سجدوں کے درمیان واقع ہوتی ہیں مذکورہ بات اس طرح بھی کہ سکتے ہے کہ یہ کوتاہی قومہ اور جلسہ میں ہوتی ہے ) تو آپ قومہ اور جلسہ میں اُن دعاؤں کا اہتمام کریں جو جامع ہیں اور احادیث مبارکہ میں مذکور و وارد ہیں چنانچہ رکوع سے اٹھتے کے وقت جب یہ کہ لو (ربنا ولك الحمد) تو اس کے بعد (حمداً کثیراً طیّباً مبارکاً فيه)اور اگر نمازی فرض نماز کی جماعت میں، یا رمضان المبارک کی تراویح یا وتر کی جماعت میں اگر مقتدی کو "ربنا لك الحمد" کہنے کے بعد "حمدًا کثیرًا طیبًا مباركًا فیه"کہنے کا موقع مل جائے اور امام سے پیچھے نہ رہ جاتا ہو تو پڑھ سکتا ہے ورنہ نہیں پڑھنا چاہیے.. اور انفرادی نماز ادا کرتے ہوئے ہر نماز میں قومے کے دوران مذکورہ کلمات پڑھے جاسکتے ہیں، اس میں حرج نہیں ہے.. اورامام جماعت کی نماز میں یہ الفاظ ادا نہ کرے؛ تا کہ نماز زیادہ لمبی نہ ہو جائے..اب رہی بات سجدہ کی تو دونوں سجدوں کی درمیان یہ دعا پڑھنی چاہیے (اللّٰہُمَّ اغْفِرْ لِيْ وَارْحَمْنِيْ وَعَافِنِيْ وَاہْدِنِيْ وارْزُقْنِيْ)اور یہ دعا بہت ہی جامع ہے.. لیکن یہ نوافل پر محمول ہے..ہاں اگر کوئی تنہا فرض واجب وغیرہ پڑھ رہا ہے تو اس میں بھی پڑھ سکتا ہے، اسی طرح جماعت کی نماز میں اگر مقتدیوں کو گرانی نہ ہو تو امام مقتدی دونوں پڑھ سکتے ہیں۔ الغرض ہمیں مذکورہ باتوں پر عمل پیرا ہونے کی اشد ضرورت ہے کیونکہ میرے استاذ نےکہا تھا ہمارے پاس اب اس پُر فِتَن دور میں صرف نماز اور قرآن ہی رہ گیا ہے کیونکہ ما بقیہ چیزیں ہم سے فوت ہی ہو چکی ہیں اور اللہ کا فضل ہے کہ جب سب سے پہلے میرے سامنے یہ بات ( مذکورہ تسبیحات ) آئی اسی وقت سے الحمد للہ اس پر عمل ہے