جب ارادہ فولاد بن جائے تو منزل خود سر جھکاتی ہے

✒️ مفتی محمد تسلیم الدین المحمودی 

حرکت ہی حیات کی روح ہے، اور جمود دراصل زوال کا دوسرا نام۔

انسان جب تک تگ و دو کی راہوں میں متحرک رہتا ہے، تب تک اس کی رگوں میں زندگی کی حرارت رواں رہتی ہے۔

لیکن جب وہ سستی و بے عملی کے زہر میں مبتلا ہو جائے تو وقت کی گرد اسے تاریخ کے حاشیوں میں دفن کر دیتی ہے۔

عمل کے میدان میں اترنے والا شخص اگر نتائج کی فوری نمود کا متمنی ہو تو وہ دراصل فطرت کے اصولوں سے نا آشنا ہے۔

یہ کائنات کسی کے جوشِ ابتدائی سے نہیں، بلکہ ثباتِ قدم، تسلسلِ عمل اور صبرِ عمیق سے نتائج کو جنم دیتی ہے۔

چند دنوں یا ہفتوں کی سعی کو کامیابی کا ضامن سمجھنا ایسے ہی ہے جیسے بیج بونے کے فوراً بعد ثمر کی آرزو کی جائے۔

دنیا کا دستور ازل سے یہی رہا ہے کہ ہر عمل کو استقامت کی ترازو میں تولا جاتا ہے۔

دیکھا جاتا ہے کہ آیا یہ جذبہ محض وقتی ابال ہے یا اس کے پیچھے دوام کی قوتِ محرکہ بھی موجود ہے۔

جب انسان کا شوق آزمائش کے طوفانوں سے گزر کر بھی قائم رہتا ہے،

تب ہی دنیا خود اس کے قدموں کی آہٹ سننے لگتی ہے اور اس کے عزم کے سامنے تسلیم کا سر جھکاتی ہے۔

لہٰذا جو بھی قدم بڑھانا ہو، عقلِ سلیم اور مشیروں کے ارشادات سے تقویت پائیے،

لیکن فیصلہ ہمیشہ اپنے یقین کی بنیاد پر کیجیے۔

کیونکہ جو شخص دوسروں کے سہارے منزل چاہتا ہے،

وہ خود اپنی قوت کے چراغ کو بجھا دیتا ہے۔

یاد رکھیے! یہ راہ قربانی مانگتی ہے۔

یہ سفر کانٹوں سے مرصع ہے؛ کہیں تھکن کی گرد ہے، کہیں طعن و تشنیع کے تیر ہیں،

کہیں ناقدین کی کج نگاہی، تو کہیں مخلصین کی دلجوئی۔

یہی زندگی کا حسن ہے کہ راہِ عزم میں کبھی شمشیر کی دھار ہے تو کبھی پھولوں کی خوشبو۔

مگر مردِ ثابت قدم نہ مداحوں کی واہ واہ سے مسرور ہوتا ہے،

نہ معترضین کے نشتر سے مایوس۔

اس کے قدم صخرہ کی مانند مضبوط، اور اس کا دل یقینِ محکم کی کائنات میں آباد ہوتا ہے۔

وہ جانتا ہے کہ قبولیت و اثر کی بادِ صبا تبھی چلتی ہے جب ارادہ پہاڑ کی طرح قائم ہو۔

پس، اے راہِ جستجو کے مسافر!

اپنے ارادے کو فولاد بنا، اپنے عزم کو مشعل کر،

اور چلتا رہ!

کہ بسا اوقات منزل انہی کو نصیب ہوتی ہے

جنہیں خود علم نہیں ہوتا کہ وہ کب عظمت کی چوٹی پر جا پہنچے۔