بسم اللہ الرحمن الرحیم 

محترم قارئین عظام  
اللہ رب العزت نے اس دنیا میں ہمیں ایک مقصد کے تحت پیدا فرمایا ہے اور وہ مقصد ہے عبادت 
قرآن کریم میں اللہ رب العزت کا فرمان ہے 
 اور ہم نے انسان اور جنات کو اپنی عبادت کیلئے پیدا کیا ہے
عبادت نام ہے روز اول سے تا دمِ آخر رب ذوالجلال کی سر تا پا مکمل فرمانبرداری کی کوشش کرنا۔

نماز محض چند افعال کا مجموعہ نہیں بلکہ نماز ام العبادات،اسلام کا رکن اعظم اور ایسا پسندیدہ عبادت ہے جس سے کسی نبی کی شریعت خالی نہیں ہے  نماز اسلامی شعار میں سے ہے۔
قرآنِ کریم میں اللہ جل شانہ فرماتے ہیں:
 إِنَّ الصَّلَاةَ كَانَتْ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ كِتَابًا مَّوْقُوتًا
(بے شک نماز مومنوں پر انکے مقررہ وقت پر  فرض  کی گئی ہے  
سورۃ النساء۔(۱۰۳)

یعنی نماز ہر عاقل بالغ مسلمان مرد و عورت پر فرض ہے خواہ امیر ہو یا فقیر ،تندرست ہو یا بیمار ،مسافر ہو یا مقیم حتی کہ میدانِ کارزار میں بھی جبکہ مدِ مقابل حملہ آور ہو تب بھی نماز معاف نہیں ہے کیونکہ نماز کے جاتے رہنے سے اسلام کا چلے جانا  بہت ممکن ہو جاتا ہے ۔جیسا کہ اللہ فرماتے ہیں

نماز قائم کرو اور مشرکین میں سے نہ ہو جاؤ 

 حدیث مبارکہ میں ہے الصلوۃ عماد الدين معلوم ہوا کہ نماز ایمان اور کفر کے درمیان حدِ فاصِل ہے اور یہ ایسی عبادت ہے جو اسلام کی بقیہ عبادت کے ارکان کو بھی متضمن اور جامع ہے۔جمیع عبادات مثلا تلاوتِ قرآن، کلمۂ شہادت، ذکرِ الٰہی  اور دعاء تسبیح وغیرہ سب اسمیں پائ جاتی ہے ۔

معاشرے میں بے نمازی کے بڑھتے رجحان کے اسباب 

1️⃣
پہلی اور بنیادی وجہ ایمان کی کمزوری ہے ۔ضعفِ ایمان ہی کے سبب بندہ نماز میں غفلت اور سستی  برتتا ہے نماز کو بوجھ تصور کرتا ہے 
نماز ادا کرنے پر بتاۓ گۓ وعدے اور ترک پر جو وعیدیں وارد ہوئی ہیں اسے خفیف سمجھتا ہے۔ 

۔اگر ہم دور نبوت اور دورِ صحابہ کا جائزہ لیں تو پتہ چلیگا کہ اس دور میں عام منافقین کی بھی باجماعت نماز ترک کرنے کی ہمت نہیں ہوا  کرتی تھی۔ 
2️⃣
دوسری وجہ یہ ہے ہم مقصد اور ضرورت میں فرق 
بھول گۓ 
ضرورت میں اتنے مصروف ہوۓ کہ مقصد کو بالاۓ طاق رکھ دیا اور بھول گۓ کہ آخرت میں اپنے اعمال کا حساب دینا ہے ۔دنیا کی رنگینیوں میں خود کو کھپانے لگے اور 
اسکی بنیادی وجہ دنیا کا بکثرت تذکرہ کرنا ہے ۔
3️⃣
تیسری وجہ ہے مساجد سے نامانوس ہونا
 اسکی بنیادی وجہ مساجد میں کم آمد ورفت کا ہونا ،ائمہ مساجد ،اہل علم ، بالخصوص مساجد کے ذمہ داران کا غیر اخلاقی رویہ
4️⃣
چوتھی وجہ دیندار ،پرہیزگار اور متقی ہونے کا خود ساختہ معیار 
ہماری ذہنیت یہ بن گئ کہ دیندار ہونے کیلئے نماز ادا 
کرنا ضروری نہیں ہے 
5️⃣
پانچویں وجہ ہے نفس پرستی،آسائش پسندی۔ 
نماز ادا کرنا کوئ مشکل امر نہیں ہے بہت سے بندے صرف اسوجہ سے نماز نہیں پڑھتے کہ دل نہیں کرتا نماز پڑھنے کو ۔
6️⃣
چھٹی وجہ قرآن سے دوری 
نہ قرآن کا پتہ نہ رب کے فرمان معلوم جسکی وجہ سے نہ احکام الہی کو سمجھنے کا موقع نہیں ملتا ہے اور نہ اسکی کماحقہ تعمیل کا 

نماز ترک کرنے کے دینی و دنیوی اثرات 

نماز جیسے اہم العبادات کو  ترک کرنے کیوجہ سے اعتقادی ،اخلاقی ،معاشراتی اور معاملاتی پستی میں گرتے چلے گئے 

مشکوٰۃ شریف کی حدیث ہے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں جس نے جان بوجھ کر نماز چھوڑ دی تو وہ کافر ہوگیا ۔

 گناہوں پر بے باک اور جَری ہوگۓ ۔
جب بندہ نماز سے تغافل برتےگا تو رفتہ رفتہ وہ دیگر گناہوں کی طرف بھی قدم بڑھانے لگتا ہے۔

دل کا سکون نصیب نہیں 
دنیا بھر کی آسائشوں اور سامان ِ عیش و عشرت کے باوجود دل پریشان  ہے جیسا کہ اللہ رب العزت فرماتے ہیں کہ سنو اللہ کے ذکر ہی سے دلوں کو  اطمینان ملتا ہے۔ 

رزق ،مال اولاد اور صحت سے برکت ختم  ہوگئ

ماحول ہمارا مخالف ہوگیا

 صلاحیت مندمل ہونے لگی
جس مقصد کیلئے ہماری تخلیق ہوئ تھی ہم اس راہ فطرت سے منہ موڑ لۓ جسکے سبب ہماری عقل اور صلاحیت مندمل ہوگئی 

ہمت اور حوصلے پست ہوگئے 
ظاہر ہے جب ایمانی طاقت کمزور پڑ جائے 
اللہ سے بندہ کا جو تعلق استوار ہونا تھا وہ معدوم ہونے لگے تو ہمت اور آسرا کس کا 
 
آپسی اتحاد پارہ پارہ ہوگیا

مسئلہ کا حل

مساجد کے ائمہ کرام تدریس کا سلسلہ شروع 
 فرمائیں تاکہ نسلِ نو آپکے رابطے میں آۓ  اسلام کی علمی عملی روحانی  ماحول سے فیضیاب ہو ۔


محلہ یا صوبائی سطح پر پابندی سے نماز پڑھنے کے انعامات تجویز کۓ جائیں تاکہ نوجوان نسل اسمیں دلچسپی لے
اور اسپر دعوتِ عام چلائی جاۓ تاکہ محلہ شہر کا ہر ہر بچہ نماز کا پابند ہو  ۔


والدین خود بھی نماز کے پابند بنیں اور بچوں پر  غیر ضروری لاڈ پیار کیجگہ اسلامی تعلیمات سے 
آراستہ کریں اور نماز کی ترغیب دلائیں۔
والد /سرپرست کو چاہیے کہ حتی المقدور بچوں کو نماز کے اوقات میں مسجدوں کو لائیں ۔
نماز ترک کرنے پر سزا مقرر ہو اور سزا ایسی ہو جو حدِ شریعت سے تجاوز نہ ہونے پاۓ۔
بچوں کو بطور خاص غیر نمازی ماحول سے دور رکھا جاۓ اور نماز ترک کرنے کی نحوست سے بچوں کو آگاہ کیا جاۓ۔

اساتذہ خود بھی نمازوں کا اہتمام کریں اور اسکول ،مدرسہ ،کالجز،یونیورسٹییز جہاں کہیں بھی ہوں طلباء کو نماز کے وقت نماز کے علاوہ کوئی کام کرنے کی اجازت نہ ہو۔


نماز عظیم الشان عبادت ہے جو مخلوق کو خالق سے مملوک کو مالک سے براہِ راست جوڑے رکھتی ہے 
اللہ رب العزت سے دعا ہے کہ ربِِ کریم ہم تمام امت مسلمہ کو اور نسلِ نو کو بھی نماز قائم کرنے والا اور احکام الٰہی کا پاسدار بناۓ ۔آمین یا رب العالمین