بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم
معاشرے میں بے نمازی کا بڑھتا ہوا رجحان
اسباب، اثرات اور عملی حل
تمہید
اذان کی صدا اور غافل دل
جب فضا میں اذان کی آواز بلند ہوتی ہے تو گویا
زمین و آسمان کے درمیان ایک پکار گونجتی ہے، جو انسان کو اس کے رب کی طرف بلاتی ہے۔ یہ صدا محض الفاظ کا مجموعہ نہیں بلکہ روح کی بیداری اور دل کی حاضری کی دعوت ہے۔ مگر افسوس کہ آج یہی اذان بہت سے کانوں سے ٹکرا کر لوٹ جاتی ہے اور دلوں پر کوئی اثر نہیں چھوڑتی۔ مسلمان معاشرے میں نماز جیسی بنیادی عبادت سے غفلت ایک عام منظر بن چکی ہے۔ مساجد موجود ہیں مگر صفیں ویران، اذانیں ہوتی ہیں مگر لبیک کہنے والے کم۔ یہ صورتحال محض انفرادی کمزوری نہیں بلکہ ایک اجتماعی اور روحانی بحران کی نشاندہی کرتی ہے۔
بے نمازی کی اصل وجہ: سستی نہیں، شعور کی کمی
اکثر یہ سمجھ لیا جاتا ہے کہ لوگ نماز سستی کی وجہ سے چھوڑتے ہیں، مگر حقیقت اس سے کہیں زیادہ گہری ہے۔ سستی دراصل ایک ظاہری علامت ہے، اصل بیماری دل کی غفلت اور دینی شعور کی کمی ہے۔ جب انسان نماز کو زندگی کی ضرورت کے بجائے ایک اضافی عمل سمجھنے لگے تو وہ آہستہ آہستہ اس سے دور ہو جاتا ہے۔ نماز اس وقت مشکل لگتی ہے جب دل دنیا کی محبت میں اس قدر الجھ جائے کہ آخرت کی یاد مدھم پڑ جائے۔
قرآنِ کریم اسی حقیقت کی طرف یوں اشارہ کرتا ہے:
"فَخَلَفَ مِنۢ بَعْدِهِمْ خَلْفٌ اَضَاعُوا الصَّلٰوةَ وَاتَّبَعُوا الشَّهَوٰتِ فَسَوْفَ يَلْقَوْنَ غَيًّا"
ترجمہ: پھر ان کے بعد ایسے لوگ آئے جنہوں نے نماز کو ضائع کر دیا اور خواہشات کے پیچھے لگ گئے۔
(سورۃ مریم، آیت 59)
یہ آیت واضح کرتی ہے کہ نماز چھوڑنا دراصل خواہشات کی غلامی اختیار کرنا ہے۔
ماحول اور تربیت کا اثر: غفلت بطور وراثت
انسان کی شخصیت کی تشکیل میں ماحول بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔ جس گھر میں نماز کا اہتمام نہ ہو، جہاں والدین خود نماز کے معاملے میں لاپروا ہوں، وہاں اولاد سے پابندی کی توقع محض ایک خواہش بن کر رہ جاتی ہے۔ بچہ نصیحت سے کم اور مشاہدے سے زیادہ سیکھتا ہے۔ اگر اس کی آنکھ نماز پڑھتے ہاتھ نہ دیکھے تو اس کے دل میں نماز کی اہمیت کیسے پیدا ہو؟
اسی طرح معاشرتی فضا بھی بے نمازی کو فروغ دیتی ہے۔ جب عبادت کو ذاتی معاملہ کہہ کر پسِ پشت ڈال دیا جائے اور دنیاوی کامیابی کو سب کچھ سمجھ لیا جائے تو نئی نسل کے دلوں میں نماز کے لیے جگہ باقی نہیں رہتی۔
جدید دور کی مصروفیات اور عبادت سے دوری
موجودہ دور سہولتوں اور مصروفیات کا دور ہے۔ موبائل فون اور سوشل میڈیا نے انسان کو ہر وقت مشغول کر رکھا ہے۔ انسان گھنٹوں اسکرین کے سامنے بیٹھ سکتا ہے، مگر چند لمحے اللہ کے حضور کھڑے ہونا اس پر گراں گزرتا ہے۔ یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ آج نماز کو وقت کی پابندی نہیں بلکہ وقت کی رکاوٹ سمجھا جانے لگا ہے۔
حالانکہ قرآنِ کریم واضح طور پر فرماتا ہے:
"اِنَّ الصَّلٰوةَ كَانَتْ عَلَى الْمُؤْمِنِيْنَ كِتٰبًا مَّوْقُوْتًا"
ترجمہ: بے شک نماز مومنوں پر وقت مقررہ میں فرض کی گئی ہے۔
(سورۃ النساء، آیت 103)
بے نمازی کے دینی اثرات:
ایمان کی کمزوری
نماز ایمان کو زندہ رکھتی ہے اور اللہ تعالیٰ سے تعلق کو مضبوط بناتی ہے۔ جب یہ تعلق کمزور پڑ جائے تو ایمان بھی کمزور ہونے لگتا ہے۔
نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
"الْعَهْدُ الَّذِي بَيْنَنَا وَبَيْنَهُمُ الصَّلَاةُ، فَمَنْ تَرَكَهَا فَقَدْ كَفَرَ"
ترجمہ: ہمارے اور ان کے درمیان فرق نماز ہے، جس نے نماز چھوڑ دی اس نے کفر کیا۔
(سنن ترمذی، حدیث 2621)
یہ حدیث اس بات کو واضح کرتی ہے کہ نماز ایمان کی حفاظت کا مضبوط ترین ذریعہ ہے۔
دنیاوی اور اخلاقی اثرات: بگاڑ کی ابتدا
نماز انسان کو نظم، ضبط اور اخلاقی توازن عطا کرتی ہے
جب یہ روک ختم ہو جائے تو معاشرے میں بے سکونی، بددیانتی اور اخلاقی زوال عام ہو جاتا ہے۔ یہ محض دعویٰ نہیں بلکہ آج کے معاشرتی
حالات کا تلخ مشاہدہ ہے۔
نوجوان نسل اور مسجد سے دوری
نوجوان کسی بھی قوم کا مستقبل ہوتے ہیں۔ مگر آج یہی طبقہ مسجد سے دور ہوتا جا رہا ہے۔ اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ نوجوان مسجد میں خود کو اجنبی محسوس کرتے ہیں۔ سخت رویہ، عدم توجہ اور غیر ضروری تنقید انہیں مزید دور کر دیتی ہے، حالانکہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیشہ نوجوانوں کے ساتھ محبت اور حکمت کا
معاملہ فرمایا۔
عملی حل
: محبت اور حکمت کا راستہ
بے نمازی کے مسئلے کا حل محض تنقید یا ڈانٹ میں نہیں بلکہ عملی تربیت میں ہے۔ مساجد کو ایسا مرکز بنانا ہوگا جہاں نوجوان خود کو قابلِ قدر محسوس کریں۔ نرم لہجہ، مختصر مگر مؤثر گفتگو اور مثبت سرگرمیاں نوجوانوں کو مسجد سے جوڑ سکتی ہیں۔
والدین اور اساتذہ کا کردار
والدین بچے کی پہلی درسگاہ ہوتے ہیں۔ اگر وہ خود نماز کے پابند ہوں اور بچوں کو محبت کے ساتھ نماز کی عادت ڈالیں تو یہ عمل نسلوں تک منتقل ہو سکتا ہے۔ اساتذہ بھی عملی نمونہ بن کر طلبہ کے دلوں میں نماز کی اہمیت پیدا کر سکتے ہیں۔
بزرگانِ دین کی رہنمائی
حضرت عمر فاروقؓ کا یہ قول دلوں کو جھنجھوڑ دیتا ہے:
"لَا حَظَّ فِي الْإِسْلَامِ لِمَنْ تَرَكَ الصَّلَاةَ"
ترجمہ: جس نے نماز چھوڑ دی، اس کا اسلام میں کوئی حصہ نہیں۔
(مصنف ابن ابی شیبہ)
اختتامیہ:
سجدے کی طرف واپسی
آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ بے نمازی کا بڑھتا ہوا رجحان محض ایک مذہبی مسئلہ نہیں بلکہ ایک ہمہ گیر روحانی اور معاشرتی بحران ہے۔ اس کا حل بھی وہیں سے شروع ہوتا ہے جہاں سے بگاڑ نے جنم لیا تھا، یعنی دل سے۔ جب دل بیدار ہوں گے تو قدم خود بخود مسجد کی طرف اٹھیں گے۔ نماز کی واپسی دراصل ایمان،
سکون اور معاشرتی اصلاح کی واپسی ہے۔
یقیناً نماز وہ چراغ ہے جو اندھیروں میں راستہ دکھاتا اور قوموں کی تقدیر بدل دیتا ہے