باسمہ تعالیٰ                                                            

             مَا سَلَكَكُمْ فِي سَقَرَ ۝   قَالُوالَمْ نَكُ مِنَ الْمُصَلِّين َ ۝    سورۃ المدثر (پارہ ۲۹) 

 اسلام کی بنیادوں میں ایک اہم رکن نماز ہے۔   جس کے متعلق قران مجید میں بارہا ارشاد ایا ہے (  أَقِيمُوا الصَّلَوٰة َ)نماز قائم کرو  

قران میں مختلف مواقع پر نماز کی تاکید اور نماز کی اہمیت کا تذکرہ ہےجیسے وَأْمُرْ أَهْلَكَ بِالصَّلَوٰةِ وَاصْطَبِرْ عَلَيْه ۝ (سورہ طہ: ۱۳۲) اور (وَاسْتَعِينُوا بِالصَّبْرِ وَالصَّلَوٰةِ)

(سورہ بقرہ ۴۵) 

حدیث مبارکہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی  آنکھوں کی ٹھنڈک نماز کو ارشاد فرمایا ہے (وَجُعِلَتْ قُرَّةُ عَيْنِي فِي الصَّلَوٰة)ِ (مُسْنَدُ أَحْمَدَ وَالنَّسَائِيُّ)۔

ایک جگہ ارشاد فرمایا اسلام اور کفر کے درمیان فرق کرنے والی چیز صرف نماز ہے ۔ 

 اور ایک مقام پر فرمایا روز قیامت سب سے پہلے نماز سے متعلق سوال ہوگا ۔ 

لہذا یہ معلوم ہوا کہ دین میں ایمان کے بعد سب سے اہم اور مہتم بالشان عمل نماز ہے۔

آج کا دور ایک مادی دور ہے ، ہر سو مادیت کی دوڑ ہے ، صبح  آنکھ کھلنے سے رات آنکھ بند ہونے تک بس ایک ہی دھن سوار ہے۔ مال کیسے کمایا جائے اور کیسے بڑھایا جائے تاکہ ہماری دنیاوی عیش و آرام مکمل ہو سکے۔  

حالانکہ دنیا میں انسان کی تخلیق صرف اس لیے نہیں ہوئی ہے کہ چوپائیوں کی طرح کھائے پیے اور ختم ہو جائیں ۔ بلکہ تخلیق انسانیت کا مقصد رب کائنات نے خود ارشاد فرمایا۔

ومَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ۝ (سُورَةُ الذَّارِيَاتِ: ٥٦) 

افسوس صد افسوس! آج ہم نے اس مقصد کو فراموش کر دیا اور مشاغلِ دنیاوی میں اس قدر منہمک ہو گئے کہ روزہ، زکوٰۃ، و حج تو درکنار، جو کہ ایک مخصوص مقام اور وقت میں ادا کی جانے والی عبادت ہے ۔

 لیکن نماز جو یومیہ پانچ وقت ” حَیَّ عَلَی الصَّلَوٰةِ، حَیَّ عَلَی الْفَلَاحِ “ کے ذریعہ دعوتِ آگاہی دیتی ہے، اس کے لیے ہمارے پاس وقت نہیں ہے۔ 

یہ بات ذہن نشین ہونا ضروری ہے کہ ہر وہ شخص جس نے شہادتین کا اقرار کیا ہے اس پر پنج وقتہ نماز فرضِ عین ہے؛ پھر وہ چاہے شہر میں ہو، یا بیابان میں، بَر میں ہو، یا بَحْر میں،

 تندرست ہو، یا بیمار ہو۔ ہم کہنے کو تو مسلمان ہیں، مسلمان کا لیبل لگائے زندگی گزار رہے ہیں، سرکاری کاغذات میں ہمارا نام مسلمان ہے ۔

 لیکن روزِ محشر جب جہنم کی آگ میں جل رہے ہوں گے تو لوگ پوچھیں گے: "تم مسلمان تھے پھر جہنم میں کیسے؟" تو بڑے حسرت کے ساتھ کہنا ہوگا: "ہم دنیا میں نماز پڑھنے والوں میں نہیں تھے"۔

قرآن نے اس کا نقشہ یوں کھینچا ہے:             مَا سَلَكَكُمْ فِي سَقَرَ ۝  قَالُوالَمْ نَكُ مِنَ الْمُصَلِّين َ ۝    سورۃ المدثر (پارہ ۲۹)

آج موقع ہے رب کو راضی کر لیں، اپنے اعمال کا جائزہ لے لیں، اور نمازوں کو اپنے اوقات پر ادا کرنے کا اہتمام کریں۔

خواتین کے لیے بہترین جگہ ان کا اپنا گھر ہے جہاں وہ رہتی ہیں۔

البتہ مرد حضرات کے لیے مساجد متعین ہیں۔

 قرآن میں اللہ فرماتے ہیں:

﴿إِنَّمَا يَعْمُرُ مَسَاجِدَ اللَّهِ مَنْ آمَنَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ وَأَقَامَ الصَّلَوٰةَ وَآتَى الزَّكَوٰةَ وَلَمْ يَخْشَ إِلَّا اللَّهَ فَعَسَىٰ أُولَٰئِكَ أَن يَكُونُوا مِنَ الْمُهْتَدِينَ ۝  (سُورَةُ التَّوْبَةِ: ١٨)

نیز حدیثِ نبوی ﷺ ہے: عَنْ أَبِي سَعِيدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: "إِذَا رَأَيْتُمُ الرَّجُلَ يَعْتَادُ الْمَسْجِدَ فَاشْهَدُوا لَهُ بِالْإِيمَانِ" (التِّرْمِذِيُّ)۔

کہ جو شخص بار بار مسجد کو جاتا ہے وہ ایماندار ہوتا ہے۔

 نمازوں کو اپنے اوقات پر مساجد میں جماعت سے ادا کرنا ضروری ہے؛ اس سے مسجد میں جانے کا ثواب، اعتکاف کا ثواب، نماز کا ثواب اور جماعت کا ثواب ملتا ہے۔ نبی علیہ السلام نے اپنی پوری حیاتِ طیبہ میں نماز باجماعت کا اہتمام کیا ہے، حتیٰ کہ آخرِ عمر میں جب کہ آپ ﷺ کے قدمِ مبارک زمین پر ٹکتے بھی نہ تھے، تب بھی آپ ﷺ نے صحابہ رضی اللہ عنہم کے سہارے سے چل کر جماعت کی نماز میں شرکت فرمائی ہے۔

اور ایک حدیثِ پاک میں آپ ﷺ نے یہ وعید ارشاد فرمائی ہے: "میرا جی چاہتا ہے کہ میں نوجوانوں کو حکم دوں کہ وہ بہت سارا ایندھن (لکڑیاں) اکٹھا کریں، پھر میں ان گھروں کو آگ لگا دوں جن کے لوگ بلا عذر کے گھروں میں نماز پڑھ لیتے ہیں (یعنی مسجد میں باجماعت نماز کے لیے نہیں آتے)"۔

تو یہ بات از حد ضروری ہے کہ نمازوں کو باجماعت مساجد میں ادا کیا جائے۔

اللہ کا منادی پانچ وقت اذان دیتا ہے، نماز کی دعوت دیتا ہے اور اذان کو تو " دعوتِ ِ تامہ " بتایا گیا ہے۔

اب محرومی اور بدنصیبی ہے ان نفوس کے لیے جو باوجود اذان سننے کے مساجد کو نہ جائیں۔ گھر والوں کی ضروریات پوری کرنے میں وقت لگانا ، 

یا کاروباری مصروفیت میں لگے رہنا، نماز چھوڑ کر، یا اس میں کوتاہی کر کے، یہ دین نہیں بلکہ دینِ اسلام کے منافی عمل ہے۔

کیونکہ ارشاد باری ہے، تمہارے مال اور تمہاری اولاد تمہیں اللہ کے ذکر سے غافل نہ کر دے ۔( سورہ منافقون )

آخری بات!   یہ کہ نماز سے کوتاہی اور مسجد سے غیر حاضری کے بہت سارے اسباب میں سے من جملہ اسباب یہ ہیں: دین سے دوری، دنیاوی مصروفیات کو ترجیح دینا، دینی معمولات میں سستی اور ایمان کی کمزوری۔

ان کا حل باقاعدہ دینی تعلیم، نیک لوگوں کی صحبت، موت کی یاد اور نماز کی فضیلت اور وعیدوں کا جاننا ہے۔

                            وَاللہُ اَعلم