ہر دور اپنے ساتھ مخصوص مسائل لے کر آتا ہے، مگر بعض مسائل ایسے ہوتے ہیں جو شور و غوغا پیدا نہیں کرتے بلکہ خاموشی کے ساتھ معاشرے کی بنیادوں میں دراڑیں ڈال دیتے ہیں۔ معاشرے میں بے نمازی کا بڑھتا ہوا رجحان بھی انہی خاموش مگر نہایت سنگین مسائل میں شامل ہے۔ آج اذانیں بدستور بلند ہو رہی ہیں، مساجد اپنی جگہ قائم ہیں، مگر ان مساجد کی صفوں میں کھڑے ہونے والے نمازیوں کی تعداد بتدریج کم ہوتی جا رہی ہے۔ یہ تبدیلی کسی ایک لمحے کی پیداوار نہیں بلکہ برسوں کی فکری غفلت، ترجیحات کی خرابی اور عملی کوتاہی کا نتیجہ ہے۔
نماز اسلام کا وہ بنیادی رکن ہے جو انسان کی زندگی میں نظم، توازن اور جواب دہی پیدا کرتا ہے۔ قرآن مجید میں ارشاد ہوتا ہے:
"نماز قائم کرو، بے شک نماز مومنوں پر مقررہ وقت میں فرض کی گئی ہے."
(سورۃ النساء آیت 103)
یہ آیت اس حقیقت کو واضح کرتی ہے کہ نماز محض ایک عبادت نہیں بلکہ ایک ایسا نظام ہے جو انسان کی پوری زندگی کو منظم کرتا ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ آج کا انسان نماز سے کترانے لگا ہے، کیونکہ نماز اسے رکنے، سوچنے اور خود احتسابی پر مجبور کرتی ہے، اور جدید انسان خود احتسابی سے بھاگتا ہے۔
اسباب:
بے نمازی کیوں بڑھ رہی ہے؟
عام طور پر یہ خیال کیا جاتا ہے کہ لوگ نماز اس لیے چھوڑ رہے ہیں کیونکہ وہ دین سے مکمل طور پر دور ہو چکے ہیں، مگر یہ تصور حقیقت کا پورا احاطہ نہیں کرتا۔ اکثر افراد خدا کے وجود کے منکر نہیں ہوتے، بلکہ خدا ان کی ترجیحات میں پیچھے چلا جاتا ہے۔ اصل مسئلہ انکار کا نہیں بلکہ غفلت کا ہے۔ قرآن مجید اس ذہنی کیفیت کو نہایت گہرے انداز میں بیان کرتا ہے:
"پھر ان کے بعد ایسے لوگ آئے جنہوں نے نماز کو ضائع کر دیا اور خواہشات کے پیچھے لگ گئے."
(سورۃ مریم آیت 59)
یہاں خواہشات سے مراد صرف صریح گناہ نہیں بلکہ آرام پسندی، سہولت طلبی اور دنیاوی مصروفیات بھی ہیں جو انسان کو عبادت سے غافل کر دیتی ہیں۔
بے نمازی کے فروغ میں گھریلو ماحول بھی بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ ہماری اولاد نمازی بنے، مگر خود نماز کو ایک ثانوی عمل بنا دیتے ہیں جو وقت بچ جانے پر ادا کیا جاتا ہے۔ حالانکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:
"ہر بچہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے."
(صحیح بخاری)
یہ فطرت عبادت سے نفرت کی نہیں بلکہ بندگی کی طرف میلان رکھتی ہے، مگر والدین کا عملی رویہ اس فطری رجحان کو کمزور کر دیتا ہے۔
اسی طرح باجماعت نماز سے دوری بھی ایک اہم سبب ہے۔ اسلام فرد کو تنہائی کے بجائے اجتماعیت سے جوڑتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"جماعت کے ساتھ پڑھی گئی نماز اکیلے کی نماز سے ستائیس درجے افضل ہے."
(بخاری و مسلم)
یہ فرق صرف اجر کا نہیں بلکہ اجتماعی شعور اور نظم و ضبط کا مظہر ہے، جس سے دوری نے فرد کو دینی ماحول سے کاٹ دیا ہے۔
اثرات:
بے نمازی کے دینی اور معاشرتی نقصانات
نماز چھوڑنے کے نقصانات فوری طور پر ظاہر نہیں ہوتے، اسی لیے انسان خود کو مطمئن محسوس کرتا ہے، مگر اس کے اثرات نہایت گہرے اور دیرپا ہوتے ہیں۔ قرآن مجید میں فرمایا گیا ہے:
"یقیناً نماز بے حیائی اور برائی سے روکتی ہے."
سورۃ العنکبوت آیت 45:
جب نماز کی یہ اخلاقی تاثیر ختم ہو جاتی ہے تو انسان کے لیے خیر و شر کے درمیان فرق دھندلا جاتا ہے۔
حضرت حسن بصری رحمہ اللہ فرمایا کرتے تھے کہ" جس کی نماز اسے برائی سے نہ روکے، وہ نماز کے مقصد سے محروم رہ جاتا ہے۔"
نماز انسان کے اندر احساس جواب دہی کو زندہ رکھتی ہے۔ جب انسان دن میں پانچ مرتبہ اللہ کے سامنے کھڑا ہونا چھوڑ دیتا ہے تو وہ رفتہ رفتہ اپنے ضمیر کے سامنے کھڑا ہونا بھی چھوڑ دیتا ہے۔
حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا قول ہے کہ "جس نے نماز کو ضائع کیا، وہ دین کے دیگر احکام کو بھی ضائع کر دے گا۔"
معاشرتی سطح پر اس کا نتیجہ ذہنی بے سکونی، اضطراب، عدم برداشت اور اخلاقی بے حسی کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے۔ نماز فرد کو اندر سے منظم کرتی ہے، اور جب افراد غیر منظم ہو جائیں تو پورا معاشرہ انتشار کا شکار ہو جاتا ہے۔
بے نمازی کے مسئلے کا حل اس وقت تک ممکن نہیں جب تک ہم اسے محض اخلاقی خرابی سمجھ کر خطاب کرتے رہیں۔ یہ دراصل نظام، عادت اور ماحول کا مسئلہ ہے، اور ان تینوں کو بدلے بغیر اصلاح ممکن نہیں۔ اس لیے درج ذیل حل وعظ پر نہیں بلکہ عملی نفاذ پر مبنی ہیں۔
1) نرمی اور قبولیت کا رویہ:
قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو خطاب کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
"پس اللہ کی رحمت ہی کے سبب آپ ان کے لیے نرم دل ہو گئے، اور اگر آپ سخت مزاج اور تند خو ہوتے تو لوگ آپ کے گرد سے منتشر ہو جاتے."
(سورۃ آل عمران آیت 159)
یہ آیت اس اصول کو واضح کرتی ہے کہ اصلاح کے لیے سختی نہیں بلکہ نرمی شرط ہے۔ اگر مسجد کا ماحول تنقید، گھورنے یا حقارت پر مبنی ہوگا تو نوجوان خود کو وہاں غیر محفوظ محسوس کرے گا۔ لہٰذا مسجد کو ایسا مقام بنایا جائے جہاں انسان اپنی کمزوریوں کے باوجود قبول کیا جائے
آج بہت سے نوجوان مسجد سے دور اس لیے ہیں کہ وہاں خود کو اجنبی محسوس کرتے ہیں۔
امام اور منتظمین نوجوانوں کو دیکھ کر ڈانٹنے کے بجائے مسکرا کر سلام کریں.
لباس، بال یا شکل پر پہلی نظر میں تنقید نہ ہو.
پہلی کامیابی یہ ہے کہ نوجوان مسجد آئے، مکمل نمازی بعد میں بنے.
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ یہی تھا۔ آپ اصلاح سے پہلے قربت پیدا کرتے تھے۔
2)نماز کو سزا نہیں، سہارا بنا کر پیش کرو:
قرآن مجید نماز کو سکون اور مدد کا ذریعہ قرار دیتا ہے:
"صبر اور نماز کے ذریعے مدد طلب کرو"
(سورۃ البقرہ آیت 45)
اس آیت کی روشنی میں نوجوانوں کو یہ باور کرانا ضروری ہے کہ نماز ان پر کوئی اضافی بوجھ نہیں بلکہ زندگی کے دباؤ، ذہنی اضطراب اور بے سکونی سے نکلنے کا راستہ ہے۔ جب نماز کو سہارا بنا کر پیش کیا جائے گا تو دل اس کی طرف مائل ہوگا۔
اکثر گھروں میں نماز کو ڈانٹ کے ساتھ جوڑا جاتا ہے: "نماز نہیں پڑھی؟"
یہ انداز نوجوان کو دور بھگا دیتا ہے۔
نماز کو ذہنی سکون اور زندگی کے مسائل سے نکلنے کا ذریعہ بنا کر سمجھایا جائے
نوجوان کو بتایا جائے کہ نماز تمہیں کامل نہیں، بہتر بناتی ہے
انہیں یہ محسوس کروایا جائے کہ مسجد مسئلہ حل کرنے کی جگہ ہے، جج کرنے کی نہیں.
3)جماعت کو آسان بنانا، مشکل نہیں:
بہت سے لوگ اس لیے جماعت چھوڑتے ہیں کہ,
امام بہت لمبی نماز پڑھاتے ہیں,
غلطی پر سب کے سامنے ٹوک دیا جاتا ہے,
امام متوسط قراءت اختیار کریں.
غلطی پر نجی طور پر اصلاح ہو.
صفوں میں جگہ بنانے میں تعاون کیا جائے.
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "لوگوں کو آسانی دو، تنگی نہ کرو"
اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ائمہ کو ہدایت فرمائی کہ نماز میں تخفیف کریں، کیونکہ جماعت میں کمزور، بوڑھے اور ضرورت مند لوگ بھی ہوتے ہیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جماعت کا مقصد لوگوں کو جوڑنا ہے، نہ کہ ان کے لیے دشواری پیدا کرنا۔
4)نوجوانوں کو ذمہ داری دو، صرف نصیحت نہیں:
نوجوان اس جگہ جڑتا ہے جہاں اسے اہم سمجھا جائے۔
مسجد کی صفائی، لائبریری، نظم یا اعلان کی ذمہ داری نوجوانوں کو دی جائے.
اذان، اقامت اور انتظامی کاموں میں شامل کیا جائے
انہیں محسوس ہو کہ مسجد ان کی بھی ہے ۔
حضرت عمر رضی اللہ عنہ نوجوانوں کو اہم ذمہ داریاں دیتے تھے، اسی سے قیادت پیدا ہوئی۔
5)تدریج یعنی آہستہ آہستہ اصلاح:
اسلام اصلاح میں تدریج کا قائل ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"اللہ کو وہ عمل زیادہ محبوب ہے جو تھوڑا ہو مگر مستقل ہو."
(صحیح بخاری و مسلم)
اس حدیث کی روشنی میں نوجوانوں سے یہ تقاضا نہیں کرنا چاہیے کہ وہ یکدم پانچ وقت کے پابند ہو جائیں، بلکہ انہیں ایک نماز سے آغاز کرنے کی ترغیب دی جائے۔ مستقل مزاجی خود بخود آگے کا راستہ ہموار کر دیتی ہے۔
6) ماں بطور پہلی معلمہ:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"ہر بچہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے، پھر اس کے والدین اسے بدل دیتے ہیں"
(صحیح بخاری)
یہ حدیث اس حقیقت کو واضح کرتی ہے کہ بچے کی شخصیت کی پہلی اور گہری تشکیل گھر میں ہوتی ہے، اور اس میں ماں کا کردار مرکزی ہوتا ہے۔ اگر ماں خود نماز کی پابند ہو، وقت کا خیال رکھے اور نماز کو زندگی کا لازمی حصہ سمجھے تو یہ رویہ بغیر کسی زبانی نصیحت کے بچے کے دل میں منتقل ہو جاتا ہے۔
7) گھر کا ماحول اور عملی نمونہ:
قرآن مجید میں حضرت اسماعیل علیہ السلام کے بارے میں فرمایا گیا:
"وہ اپنے گھر والوں کو نماز اور زکوٰۃ کا حکم دیتے تھے"
(سورۃ مریم آیت 55)
یہ آیت بتاتی ہے کہ صالح فرد اپنی اصلاح پر اکتفا نہیں کرتا بلکہ اپنے گھر والوں کی دینی تربیت کو بھی اپنی ذمہ داری سمجھتا ہے۔ گھر میں نماز کے اوقات کا اہتمام، اذان کی آواز پرگھریلو مشغولیات روک دینا اور بچوں کو نرمی سے نماز کی طرف متوجہ کرنا نہایت مؤثر عملی اقدامات ہیں ۔
اگر گھروں میں نماز کو ثانوی حیثیت دی جائے تو نئی نسل سے نماز کی پابندی کی توقع رکھنا محض خوش فہمی ہے۔
8) نماز کو شناخت بنایا جائے، شرط نہیں:
نوجوانوں کو یہ احساس دلایا جائے کہ نماز کسی خاص طبقے یا کامل لوگوں کی شناخت نہیں بلکہ ہر اس انسان کی ضرورت ہے جو اپنی اصلاح چاہتا ہے۔ جب نماز کو شرط کے بجائے سہارا بنا کر پیش کیا جائے گا تو لوگ خود کو مسجد کے قابل سمجھنے لگیں گے۔
آخر میں یہ حقیقت واضح ہو جاتی ہے کہ بے نمازی کا مسئلہ محض عبادت کی کمی نہیں بلکہ ترجیحات کی بگاڑ، تربیتی غفلت اور فکری دوری کا نتیجہ ہے، اور جب گھر، مسجد اور معاشرہ نرمی، حکمت اور عملی نمونے کے ساتھ مل کر کردار ادا کریں تو نماز دوبارہ فرد کی زندگی کا مرکز بن سکتی ہے اور ایک صالح فرد کے ذریعے ایک صالح معاشرہ وجود میں آ سکتا ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں اپنی اور اپنی نسلوں کی اصلاح کی توفیق عطا فرمائے، نماز کو ہماری زندگی کا مرکز بنائے اور ہمارے گھروں اور معاشرے کو اس کی برکتوں سے آباد فرما دے۔ آمین۔