(30)مضمون
بسم اللہ الرحمن الرحیم
؛؛ ایمان کی روشنی اور ارتداد کا اندھیرا؛؛
_________________
دنیا کی سب سے بڑی نعمت ایمان ہے۔ جس دل میں ایمان کی روشنی اتر جائے، وہ دل خوف و حرص، لالچ و کفر کی تاریکیوں سے نجات پا لیتا ہے۔ لیکن افسوس! تاریخِ انسانیت ایسے لوگوں سے خالی نہیں جو ایمان کے نور سے بہرہ ور ہونے کے باوجود دنیا کی چند روزہ چمک دمک کے لیے ایمان کا دامن چھوڑ بیٹھے۔ ایسے لوگ سمجھتے ہیں کہ وہ دین سے نکل کر آزاد ہوگئے، عزت و ترقی کما لی، مگر حقیقت میں وہ خود اپنی تباہی کے کنویں میں گر گئے۔
ایمان محض ایک عقیدہ نہیں بلکہ زندگی کی بنیاد، روح کی غذا، اور انسانیت کی پہچان ہے۔ جو دل ایمان سے خالی ہو جائے، وہ ویران صحرائے دل میں بھٹکنے لگتا ہے۔
ایمان وہ نور ہے جو تاریکیوں میں راہ دکھاتا ہے، وہ چراغ ہے جو انسان کے باطن کو روشن کرتا ہے۔ مگر جب یہ چراغ بجھ جائے تو انسان کی آنکھیں دیکھتے ہوئے بھی اندھی ہو جاتی ہیں۔
ایمان وہ زنجیرِ محبت ہے جو انسان کو اس کے خالق سے جوڑتی ہے۔ جس کے ہاتھ سے یہ زنجیر چھوٹ جائے، وہ خواہ کتنی ہی دنیا کما لے، دراصل اپنے رب سے، اپنی حقیقت سے، اور اپنی روح سے کٹ جاتا ہے۔
قرآن کہتا ہے:
> "اللَّهُ وَلِيُّ الَّذِينَ آمَنُوا يُخْرِجُهُم مِّنَ الظُّلُمَاتِ إِلَى النُّورِ"
(البقرہ: 257)
"اللہ ایمان والوں کا دوست ہے، وہ انہیں اندھیروں سے نکال کر نور کی طرف لے جاتا ہے۔"
جو شخص ایمان چھوڑتا ہے، وہ گویا روشنی سے اندھیرے میں واپس لوٹنے کا فیصلہ کرتا ہے۔ وہ اس رب سے منہ موڑ لیتا ہے جس نے اسے عزت بخشی، ہدایت دی، اور اسے مٹی سے اشرف المخلوقات بنایا۔
ایمان چھوڑنا دراصل اپنے خالق سے بغاوت ہے، اپنے انجام سے غفلت ہے، اور اپنی روح سے دشمنی ہے۔
دنیا کی چمک دمک، مال و دولت، شہرت و طاقت—یہ سب چیزیں کسی مرتد کے لیے وقتی دل خوش کن سراب بن جاتی ہیں، مگر انجام میں یہی سراب اس کے لیے دوزخ کا دروازہ ثابت ہوتا ہے۔
قرآن کریم نے ایسے لوگوں کی مثال یوں بیان کی:
> "مَثَلُهُمْ كَمَثَلِ الَّذِي اسْتَوْقَدَ نَارًا..."
(البقرہ: 17)
"ان کی مثال اس شخص کی طرح ہے جس نے آگ جلائی، جب اس نے آس پاس کو روشن کر دیا تو اللہ نے ان کا نور چھین لیا اور انہیں اندھیروں میں چھوڑ دیا کہ اب کچھ نہیں دیکھ سکتے۔"
یہ آیت ہر اس شخص کے لیے آئینہ ہے جو ایمان کی روشنی پا کر پھر اندھیروں کا رخ کرتا ہے۔ ایمان چھوڑنے والا بظاہر زندہ نظر آتا ہے مگر حقیقت میں وہ زندہ لاش بن چکا ہوتا ہے۔ اس کے چہرے سے نور، زبان سے اثر، اور دل سے سکون سب چھن جاتے ہیں۔
دنیا کے عارضی فائدے، وقتی عزتیں، اور جھوٹی آزادی کے خواب—یہ سب شیطان کی خوبصورت دھوکہ بازیاں ہیں۔ وہ انسان کو یہ باور کراتا ہے کہ ایمان کی قید سے نکل کر اسے کامیابی ملے گی، مگر حقیقت میں وہ کامیابی نہیں بلکہ روح کی موت ہوتی ہے۔
ایمان چھوڑنے والا نہ صرف خود گمراہ ہوتا ہے بلکہ دوسروں کے ایمان کے لیے بھی زہر بن جاتا ہے۔ ایسے لوگ ہمیشہ سے فتنے اٹھاتے آئے ہیں—کبھی نظریات کے نام پر، کبھی آزادیِ فکر کے عنوان سے، اور کبھی انسانی حقوق کے پردے میں—مگر حقیقت یہ ہے کہ ان کے دلوں میں ایمان کی دشمنی اور شیطان کی غلامی پل رہی ہوتی ہے۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
> "إِنَّ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ يُنفِقُونَ أَمْوَٰلَهُمْ لِيَصُدُّوا۟ عَن سَبِيلِ ٱللَّهِ..."
(الأنفال: 36)
"بے شک جو کافر ہیں وہ اللہ کے راستے سے روکنے کے لیے اپنے مال خرچ کرتے ہیں، پھر وہ ان پر حسرت بن جائیں گے۔"
یعنی ایمان کے دشمن اپنے فریب میں کامیاب نہیں ہو سکتے۔
اللہ کی سنت یہ ہے کہ باطل وقتی طور پر چمکتا ہے مگر فنا ہو جاتا ہے، اور ایمان کا نور وقتی طور پر دب جاتا ہے مگر کبھی بجھتا نہیں۔
ایمان سے بیزاری — بدترین خسارہ ہے
قرآن کہتا ہے:
> "إِنَّ الَّذِينَ اشْتَرَوُا الْكُفْرَ بِالْإِيمَانِ لَنْ يَضُرُّوا اللَّهَ شَيْئًا..."
(آلِ عمران: 177)
"بے شک جن لوگوں نے ایمان کے بدلے کفر خرید لیا، وہ اللہ کا کچھ نقصان نہیں کر سکتے، بلکہ ان کے لیے دردناک عذاب ہے۔"
یہ آیت اعلان کر رہی ہے کہ اللہ کی عزت و کبریائی میں کوئی کمی نہیں آتی اگر کوئی بندہ ایمان چھوڑ دے۔ اللہ بے نیاز ہے، ایمان ہماری ضرورت ہے، خدا کی نہیں۔ جو ایمان سے پھر جائے، وہ اپنی ابدی رسوائی کا سودا کرتا ہے۔
دنیا کی چمک، دل کی تاریکی
ایمان بیزار لوگ سمجھتے ہیں کہ دنیاوی عزت، شہرت اور آزادی نے انہیں ترقی دے دی۔ مگر قرآن ان کے انجام پر سے پردہ ہٹا کر کہتا ہے:
> "ذَٰلِكَ بِأَنَّهُمُ اسْتَحَبُّوا الْحَيَاةَ الدُّنْيَا عَلَى الْآخِرَةِ"
(النحل: 107)
"یہ اس لیے کہ انہوں نے آخرت کے مقابلے میں دنیا کی زندگی کو پسند کر لیا۔"
دنیا کی چند لمحاتی خوشیاں، ایمان کے نور کے بدلے خرید لینا سب سے بڑی حماقت ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ وہ آزاد ہو گئے، مگر حقیقت میں وہ اپنے نفس، شیطان اور دنیا کے غلام بن گئے۔
اللہ کی شانِ بے نیازی
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
> "إِن تَكْفُرُوا فَإِنَّ اللَّهَ غَنِيٌّ عَنكُمْ..."
(الزمر: 7)
"اگر تم کفر کرو تو اللہ تم سے بے نیاز ہے، وہ اپنے بندوں کے لیے کفر کو پسند نہیں کرتا۔"
یہ آیت اعلان کر رہی ہے کہ اللہ کی عزت، قدرت، اور سلطنت ارتداد سے متاثر نہیں ہوتی۔ نہ اس کی بادشاہی کم ہوتی ہے، نہ دین کا چراغ بجھتا ہے۔ دینِ حق قائم ہے اور قائم رہے گا۔
ارتداد — امت کے ایمان کے خلاف جرم ہے
نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
> "من بدل دينه فاقتلوه"
(صحیح بخاری)
"جو شخص اپنا دین بدل دے، اسے (اسلامی عدالت کے تحت) قتل کیا جائے۔"
یہ حدیث اس حقیقت کو واضح کرتی ہے کہ ایمان سے پھرنا صرف ذاتی جرم نہیں بلکہ امت کے اجتماعی ایمان کے لیے خطرہ ہے۔
تاہم اس حکم کا اطلاق صرف ایسے ملک میں ہوتا ہے جہاں مکمل اسلامی نظامِ حکومت قائم ہو، شریعتِ محمدیؐ کے اصولوں کے مطابق عدالتیں موجود ہوں، اور فیصلے قاضی یا حاکمِ وقت کی نگرانی میں ہوں۔
یہ حکم کسی فرد یا گروہ کو از خود نافذ کرنے کا اختیار نہیں دیتا، بلکہ اسلامی حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ مرتد کے معاملے کی تحقیق کرے، اس کے سامنے دلائل رکھے، توبہ کی مہلت دے، اور اگر وہ ضد و عناد پر قائم رہے تو شرعی قانون کے مطابق فیصلہ صادر کرے۔
اسلام میں یہ سزا محض عقیدے کی تبدیلی پر نہیں بلکہ اجتماعی فتنہ، دین کے خلاف بغاوت، اور امت کے نظامِ ایمان کو نقصان پہنچانے کے جرم پر دی جاتی ہے۔
ایمان سے پھرنے والے ہمیشہ ناکام اور رسوا ہوئے۔
> "وَأُحِيطَتْ بِهِمْ سَيِّئَاتُ مَا عَمِلُوا"
(النحل: 34)
"ان کے اپنے اعمال کی برائیاں ان کو گھیر لیں گی۔"
جو لوگ اسلام کی دشمنی میں فتنے اٹھاتے ہیں، اللہ ان کے مکر و فریب کو انہی پر پلٹا دیتا ہے۔ ایمان والوں پر اللہ کی نصرت اور حفاظت ہمیشہ رہی ہے، اور قیامت تک رہے گی۔
ایمان چھوڑنے والا خود اپنی قبر کھودتا ہے۔
> "وَمَن يُهِنِ اللَّهُ فَمَا لَهُ مِن مُّكْرِمٍ" (الحج: 18)
جسے اللہ ذلیل کر دے، اسے کوئی عزت نہیں دے سکتا۔"
جو ایمان سے پھر کر خدا کی اطاعت چھوڑ دیتا ہے، اللہ اسے ذلت میں ڈال دیتا ہے، پھر کوئی دنیاوی طاقت اسے عزت نہیں دے سکتی۔
جب انسان حق سے پھر جائے تو دل کا نور چھن جاتا ہے۔
> "فَلَمَّا زَاغُوا أَزَاغَ اللَّهُ قُلُوبَهُمْ" (الصف: 5)
جب وہ ٹیڑھے ہو گئے تو اللہ نے ان کے دل بھی ٹیڑھے کر دیے۔"
جو حق کو جان کر اس سے روگردانی کرتا ہے، اللہ اس کے دل سے ہدایت کا نور سلب کر لیتا ہے۔
اس لیئے ایمان بیزار لوگ فتنہ کے بیج بوتے ہیں۔
> "يُرِيدُونَ لِيُطْفِـُٔوا۟ نُورَ ٱللَّهِ بِأَفْوَٰهِهِمْ" (التوبۃ: 32)
یہ لوگ چاہتے ہیں کہ اللہ کے نور کو اپنے منہ سے بجھا دیں۔"
ایمان کے دشمن باطل پروپیگنڈے سے دین مٹانے کی کوشش کرتے ہیں، مگر اللہ اپنے نور کو مکمل کر کے رہتا ہے۔
ایمان کی دشمنی کا انجام ذلت ہے صرف ذلت۔
> "إِنَّ ٱلَّذِينَ يُحَآدُّونَ ٱللَّهَ وَرَسُولَهُ أُو۟لَـٰٓئِكَ فِى ٱلْأَذَلِّينَ" (المجادلہ: 20)
جو لوگ اللہ اور اس کے رسول کے مقابلے پر آتے ہیں، وہی سب سے زیادہ ذلیل ہیں۔"
دین کے مخالفین وقتی طاقت رکھتے ہیں مگر انجام میں ذلت اور رسوائی ان کا مقدر بنتی ہے۔
ایمان پر ڈٹے رہنا سب سے بڑی بہادری ہے۔
> "إِنَّ ٱلَّذِينَ قَالُوا۟ رَبُّنَا ٱللَّهُ ثُمَّ ٱسْتَقَـٰمُوا۟..." (حم السجدہ: 30)
جو کہتے ہیں ہمارا رب اللہ ہے، پھر اسی پر جمے رہتے ہیں۔"
ایمان صرف اقرار نہیں، بلکہ مصیبت و آزمائش میں بھی ڈٹے رہنا حقیقی استقامت اور بہادری ہے۔
> "عبادة في الهرج كهجرة إليّ" (صحیح مسلم)
"فتنوں کے دور میں عبادت کرنا، میری طرف ہجرت کرنے کے برابر ہے۔"
جب گمراہی عام ہو، اُس وقت ایمان پر قائم رہنا سب سے بڑی قربانی ہے. ا
ایمان چھوڑنے والا اپنے نامہ اعمال سے روشنی چھین لیتا ہے۔
> (الحدید: 12-13)
اس دن ایمان والوں کا نور ان کے آگے دوڑ رہا ہوگا، اور منافق کہیں گے: ہمیں بھی کچھ روشنی دے دو!"
قیامت کے دن ایمان کا نور اہلِ ایمان کی رہنمائی کرے گا، جبکہ ایمان چھوڑنے والے اندھیروں میں بھٹکتے رہ جائیں گے۔
اللہ کی غیرت ایمان والوں کے لیے کافی ہے۔
> "إِنَّا لَنَنصُرُ رُسُلَنَا وَٱلَّذِينَ آمَنُوا۟..." (المؤمن: 51)
"یقیناً ہم اپنے رسولوں اور ایمان والوں کی مدد ضرور کرتے ہیں۔"
اللہ ایمان والوں کا مددگار ہے؛ دنیا میں بھی وہ ان کی عزت محفوظ رکھتا ہے، اور آخرت میں ان کے لیے فتح و نصرت مقدر ہے۔
ایمان سے محرومی سب سے بڑی محرومی ہے۔
جو شخص ایمان پر جم گیا، وہ کامیاب ہوا، چاہے دنیا میں غربت یا آزمائش میں ہو۔
اور جو ایمان سے ہٹ گیا، وہ خائب و خاسر ہوا، چاہے دنیا اسے سجدہ کرے۔
ایمان وہ امانت ہے جو اللہ نے دلوں میں رکھی ہے۔ اسے سنبھالنا ہی اصل امتحان ہے۔
دنیا کی چمک ماند پڑ جائے گی، طاقت و شہرت ختم ہو جائے گی، مگر ایمان کا چراغ اگر جلتا رہے، تو یہی چراغ قبر کی تاریکیوں میں روشنی بنے گا، اور یہی چراغ روزِ قیامت نجات کا سبب ہو گا۔
اللہ تعالیٰ ہم سب کو ایمان پر ثابت قدم رکھے اور موت ایمان ہی پر نصیب فرمائے۔ آمین۔یا رب العالمین
بقلم محمودالباری
mahmoodulbari342@gmail.com