،نماز دین اسلام کا بنیادی ستون اور ایمان کی علامت ہے یہ وہ عبادت ہے جو انسان کو اللہ تعالی سے جوڑتی ہے، اس کے اخلاق کو سوارتی ہے اور معاشرے میں نظم و ضبط پیدا کرتی ہے ۔ قرآن مجید میں نماز کی بار بار تاکید کی گئی ہے اللہ تعالی کا ارشاد ہے۔ 
إن الصلوة كانت على المؤمنين كتابا موقوتًا  (سورةالنساء١٠٣) 
( سورة البقرة ٤٣)و أقسموا الصلاة
( سورة المؤمنون ١_٢)قد الله المؤمنون الذين هم في صلاتهم خاشعون 
نماز تمام مومن پر فرض ہے، بالغ و عاقل مرد عورت ہر ایک پر نماز کسی بھی حالت میں معاف نہیں ہے۔  کفر اور اسلام کے درمیان نماز سے ہی فرق پیدا ہوتا ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے، بين الرجل وبين الشرك والكفر ترك الصلاة( صحيح مسلم كتاب الإيمان٢٤٣ )
نماز کوئی عام عبادت نہیں ہے یہ وہ خاص تحفہ ہے جس کو اللہ رب العالمین نے اپنےآخری نبی سید الانبیاء جناب محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کو شب معراج ساتویں آسمان پر بلا کر دیا ، اور باقی عبادتوں کا حکم تو بذریعہ وحی جبرئیل ہمیں ملا ہے، نماز ہی وہ واحد عبادت ہے جس میں انسان دل، زبان اور جسم تینوں کے مجموعے کے ساتھ اللہ کے حضور اپنے سر کو جھکاتا ہے۔ نماز ایک ایسی عبادت ہے جس میں سب برابر ہے امیر و فقیر ، غلام و بادشاہ، مرد و عورت، بوڑھے جوان سب پر یکتا اور ایک جیسا حکم ہے۔
 کسی شاعر نے کیا خوب اس کا نقشہ کھینچا ہے
 ایک ہی صف میں کھڑے ہو گئے محمود و ایاز"
"نہ کوئی بندہ رہا نہ کوئی بندہ نواز
بے نمازی کا بڑھتا ہوا رجحان موجودہ دور کا ایک سنگین سماجی ، قومی اور دینی مسئلہ بن چکا ہے۔سب سے بڑا سبب دینی تعلیم سے دوری ہے ۔ جب دین سیکھا ہی نہیں گیا تو عمل کہاں سے آئے گا؟ آج معاشرے میں نماز کی فرضیت، فضیلت اور ترک کے انجام سے ناواقف نسل تیار ہو رہی ہے۔ دنیاوی مصروفیات اور غفلت، والدین کی تربیتی کوتاہی ،سوشل میڈیا اور نفس کی خواہشات کے پیچھے بھاگنا بھی نماز سے بے رغبتی کے اسباب ہیں۔
قرآن میں صدیوں پہلے بیان کر دیا گیا ہے۔ 
فخلف من بعدهم خلف اضاعواالصلاةواتبعواالشهوات
دنیا کی محبت، ملازمت، کاروبار، موبائل، سوشل میڈیا ہر چیز کے لیے وقت ہے مگر نماز کے لیے وقت نہیں ہے۔ 
 اللہ تعالی فرماتے ہیں
ذرهم يأكلوا ويتمعواويلههم الأمل (سورة الحجر٣ )

  والدین کی غفلت و کوتاہی کے متعلق نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا "اپنی اولاد کو سات سال کی عمر میں نماز کا حکم دو" ( سنن ابی داؤد)
مگر آج والدین خود نمازی نہیں تو اولاد کہاں سے سیکھے؟ 
اولاد کی دینی تربیت میں والدین کا کردار بنیادی ہوتا ہے جب بچپن میں نماز کی عادت نہ ڈالی جائے تو بڑے ہو کر نماز سے دوری عام ہو جاتی ہے۔ 
جدید طرز زندگی اور موبائل فون ، انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا نے خاص طور پر نوجوان نسل کو عبادات سے غافل کر دیا ہے ۔جس کا نتیجہ ہم خود دیکھتے ہیں مسجد کے میناروں سے اذان کی اواز گونجتی رہتی ہے اور ہمارے نوجوان نسل وہیں مسجد کے ارد گرد کہیں گلی کے نقڑ پر تو کہیں کسی ہوٹل پر بیٹھے موبائل اور انٹرنیٹ سے پرلطف ہوتے رہتے ہیں، ان کے کانوں پر اذان کی آواز سن کر جو تک نہیں رینگتا ، اسی طرح اس موبائل اور انٹرنیٹ میں ملوث ہو کر پوری پوری رات برباد کر دیتے ہیں اور جب فجر کی اذان ہوتی ہے تو سوتے ہیں اور ظہر کے اختتام پر اٹھتے ہیں ۔ جبکہ اللہ تعالی نے دنیا کی لذت کے بارے میں فرمایا
"ولا تتبع الهوى فيلم عن سبيل الله "
دنیا کی محبت کا نقشہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ اس طرح بیان کیا ہے۔ 
"حب الدنيا رأس كل خطيئة"
آج کے پرآشوب دور میں ہر ایک شخص صرف اور صرف دنیاوی خواہشات کو پورا کرنے کی جدوجہد میں لگا ہے, جبکہ اللہ سبحانہ و تعالی کا فرمان ہے۔ 
"و ما الحياة الدنيا إلا متاع الغرور "
بے نمازی کی اثر سے روحانی اور اخلاقی زوال پیدا ہوتا ہے اللہ تعالی کا فرمان ہے۔ 
( سورة العنكبوت ٤٥)إن الصلاة تنهى عن الفحشآءوالمنكر
،جب انسان نماز نہیں پڑھتا تو جھوٹ ، فریب ، بددیانتی بداخلاقی، بدزبانی، دھوکہ دہی، ظلم وجبراور بے حیائی جیسے قبیح افعال میں ملوث ہو جاتا ہے، اور کوئی قباحت بھی محسوس نہیں کرتا ،  نماز نہ پڑھنے سے اللہ سے تعلق کمزور پڑ جاتا ہے، نا انصافی اور جرائم میں اضافہ ہو جاتا ہے، کیونکہ نماز انسان کو نظم و ضبط اور ذمہ داری کا شعور دیتی ہے، نماز چھوڑنے سے دل سخت ہو جاتا ہے، اور اللہ سے تعلق کمزور ہو جاتا ہے جو ایمان کے لیے نہایت خطرناک ہے ۔اللہ سبحانہ و تعالی کا ارشاد
" واقم الصلاة لذكرى"
نماز سے بے رغبت کا اثر صرف دنیا تک ہی موقوف نہیں بلکہ اس کا خسارہ آخرت میں بھی اٹھانا پڑے گا اور سخت عذاب کا سامنا کرنا پڑے گا قران کی سورہ مدثر میں جہنم میں سے پوچھا جائے گا ۔
"ما سلك كم في سقر؟ قالوا لم نك من المصلين "
افسوس کا مقام یہ ہے کہ آج کے دور میں بے نمازیوں کا رجحان تیزی سے بڑھ رہا ہے ، مساجد موجود ہیں، اذان گونجتی ہیں ، مگر صف خال دکھائی دیتی ہیں۔ یہ مسئلہ صرف فرد کی کوتاہی نہیں بلکہ پورے معاشرے کے اخلاقی، روحانی اور سماجی زوال کی علامت ہے۔  نماز باجماعت مسلمانوں کو ایک صف میں کھڑا کرتی ہے اور اتحاد پیدا کرتی ہے جب نماز ترک ہو جائے تو اتحاد کمزور اور انتشار بڑھ جاتا ہے۔ 
ہر فرد کو یہ سمجھنا ہوگا کہ نماز اس کی ذاتی ذمہ داری ہے اور کسی بھی حال میں اسے ترک نہیں کیا جا سکتا اللہ تعالی قرآن میں فرماتے ہیں۔ 
وأمر أهلك بالصلاة و اصطبرعليها (سورة طه ١٣٢)
اپنا جائزہ لیں کہ کون سی نماز یں آپ پر مشکل پڑتی ہیں اور ان کے کیا اسباب ہیں مثال کے طور پر فجر اور عشاء کی نماز چھوڑنے کا سبب بالعموم نیند ، تھکاوٹ، سستی و کاہلی ، مصروفیت و قوت ارادی کی کمزوری اور نماز میں دل نہ لگنا ہوتا ہے، اور اسی طرح ظہر و عصر ترک کرنے کا سبب کاروباری و دنیاوی مشاغل کا غلبہ بالعموم انسان اس وقت آفس یا بازار میں مشغول ہوتا ہے اور بعض افراد ایسے ہیں جو بالکل ھی نماز سے غافل ہے جبکہ اس کی وعید فرمائی گئی ہے قرآن کی سورہ ماعون میں اللہ رب العالمین نے فرمایا ہے۔ 
"فويل للمصلين الذين هم عن صلاتهم ساهون"
عملی حل یہ ہے کہ 24 گھنٹے میں کم از کم ایک وقت کی نماز اس کے وقت پر پڑھنے کی کوشش کریں، اور رات کو سونے سے قبل دن کی تمام قضا ہو جانے والی فرض نماز رات میں ادا کریں، کم از کم ایک مہینے تک آپ اس عمل کو جاری رکھیں ہر قضا ہو جانے والی نماز پر اللہ سے توبہ کریں، اور اپنی ندامت کا اظہار کریں ، اس کے ساتھ ساتھ ہر قضا نماز پر اپنے اوپر جرمانہ مقرر کریں جو مالی، بدنی یا کسی بھی قسم کی مشقت کا ملغوبہ ہو سکتا ہے۔ مثلاً ہر قضا نماز کی صورت میں چند روپے کو مقرر کر لیں اللہ کی راہ میں صدقہ وہ خیرات کریں، یا پھر ہر قضا نماز کے عوض کسی مجبور کو کھانا کھلائیں، یا ہر قضا نماز کے ساتھ چار نوافل اضافی پڑھیں، یا پھر اپنی پسندیدہ شئ سے نماز کی قضا تک دوری اختیار کریں، یا پھر کھانا ترک کریں ۔ مثلاً یہ معمول بنا لیں کہ جب تک فجر کی نماز ادا نہیں کی جائے گی اس وقت تک ناشتہ نہیں ملے گا۔
یاد رکھیں یہ جرمانہ نہ تو اتنا آسان ہو کہ آپ کی طبیعت پر کوئی اثر نہ ہو اور نہ اتنا مشکل کہ ناقابل عمل ہو۔ اور اس عمل کے دوران اللہ سے کامیابی کی دعا کرتے رہیں اور کسی بھی ناکامی کی صورت میں ہمت نہ ہاریں۔مثلاً اگر کوشش کے باوجود کسی دن نماز نہ پڑھی تو یہ نہیں کہ اب خود کو بالکل ہی لعنت زدہ سمجھ کر آئندہ کی نمازوں سے بری الزمہ ہو گئے۔ یہ شیطانی وسوسہ ہے۔ کسی بھی ناکامی کی صورت میں سابقہ عمل پر استقامت اور جرمانے کا ارادہ ہی نفس کو نکیل ڈالنے کا سبب بن سکتا ہے ۔ قضا نماز کو رات میں پڑھنے کے عمل کو تقریباً ایک سے دو ماہ تک جاری رکھیں، ماہ دو ماہ بعد آپ نے اتنی استقامت انشاءاللہ آجائے گی کہ آپ نماز اس کے وقت پر پڑھنے کے قابل ہو جائیں گے، مساجد کو صرف عبادت گاہ نہیں بلکہ اصلاح و تربیت کے مراکز بنایا جائےجہاں نماز کی اہمیت و فضیلت بیان کی جائے ، اسکولوں اور مدارس میں نماز کی پابندی کو فروغ دیا جائے تاکہ بچپن سے ہی نماز کی عادت پختہ ہوجاۓ، نرمی و حکمت اور محبت کے ساتھ لوگوں کو نماز کی طرف بلایا جائے، زبردستی کی بجائے ترغیب اور عملی نمونہ پیش کیا جائے ۔
بے نمازی کا بڑھتا ہوا رجحان دراصل ہمارے دینی کمزوری کی علامت ہے اگر ہم ایک صالح و پرامن اور باخلاق معاشرہ چاہتے ہیں تو ہمیں نماز کو اپنی زندگی کا لازمی حصہ بنانا ہوگا فرد کی اصلاح سے ہی معاشرے کی اصلاح ممکن ہے اور اس اصلاح کی بنیاد نماز ہے اللہ تعالی ہمیں خود بھی نماز قائم کرنے اور دوسروں کو اس کی دعوت دینے کی توفیق عطا فرمائے ۔ 
رب اجعلني مقيم الصلاة
آمین یارب العالمین 
ربنا تقبل منا انک انت السمیع العلیم
وتب علینا انک انت التواب الرحیم