معاشرے میں بے نمازی کا بڑھتا رجحان

نماز اسلام کا ایک اہم رکن ہے مگر افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ ہمارے معاشرے میں بے نمازیوں کا رجحان بڑھتا ہی جا رہا ہے، ترکِ نماز ہمارے لیے سنجیدہ اور جدی معاملہ ہونے کے بجائے بہت ہی عام ہوتا جا رہا ہے۔
قرآن مجید سورۃ مدثر میں دو اور دو چار کی طرح بے نمازیوں کا انجام واضح کر رہا ہے۔
ما سلککم فی سقر
"تمہیں دوزخ میں کس چیز نے ڈالا"
قالو لم نك من المصلین
"وہ جواب دینگے ہم نمازی نہ تھے"

•اسباب:

بے نمازیوں کے بڑھتے رجحان کے اسباب میں سے جو سب سے اہم سبب ہے وہ ہے آخرت کا تصور چھوڑ دینا، نماز ترک کرتے ہوئے یہ احساس ہی نہیں ہونا کہ ہم نے آخرت میں خدا کو جواب دہ بھی ہونا ہے۔
حدیث میں ہے: "قیامت کے دن بندے سے سب سے پہلے اس کی نماز کا حساب لیا جائے گا، اگر نماز درست ہوئی تو وہ کامیاب ہو جائے گا، اور اگر نماز خراب ہوئی تو وہ ناکام ہو جائے گا" (ترمذی: ٤١٣)
یہ حدیث صاف طور پر واضح کر رہی ہیکہ نماز محض ایک عبادت نہیں بلکہ پورے دین کی بنیاد اور کامیابی کا معیار ہے،
ایک بڑی وجہ دنیا کی محبت اور مادہ پرستی بھی ہے،دنیا کی مصروفیات، دینی شعور کی کمی اور نفس کی سستی نے مسجد اور جماعت کی اہمیت کو دلوں سے کمزور کر دیا ہے۔ انسان رزق، دولت، انٹرٹینمنٹ، سیر و تفریح میں دن بہ دن اس قدر مگن ہوتا جا رہا ہے کہ اُس رب کے سامنے سجدہ ریز ہونے کا وقت نہیں جس کے کُن کہنے سے اس کی سانسیں رک سکتی ہیں،
یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ بے نمازی کے اس بڑھتے رجحان میں ایک دوست کا بہت اہم کردار ہے، آج کے دور میں نوجوان اپنے دوستوں پر اندھا اعتبار کرنے لگے ہیں اور انہی کی رائے کو اہمیت دینے لگے ہیں، بعض اوقات یہ دوست نماز پڑھنے والے کا یہ کہہ کر مذاق بناتے ہیں کہ " (معاذ اللہ) یہ تو پرانی سوچ اور قدامت پسند لوگ ہیں" جس سے فرد نماز ترک کرنے کی طرف مائل ہو سکتا ہے۔
"نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا آدمی اپنے دوست کے دین پر ہوتا ہے اسلئے تم میں سے ہر شخص دیکھے کی وہ کس کو دوست بنا رہا ہے"(رواہ ترمذی)
یہ حدیث ہمیں یاد دہانی کرواتی ہے کہ دوست کو چننے میں بہت احتیاط کرنا چاہئے کیونکہ ممکن ہے کہ ایک دوست نماز ترک کرنے کا سبب بن جائے۔
ایک بڑی وجہ یہ بھی ہیکہ آج کل کے اسکول، یونیورسٹی کے نصاب میں دینی اور اخلاقی تعلیم نا دینے کے بجاۓ صرف دنیاوی تعلیم پر ہی توجہ دی جا رہی ہے۔
سوشل میڈیا، موبائل فون اس بڑھتے رجحان میں بہت بڑا کردار ادا کر رہا ہے، ان فضول مصروفیات نے ظاہری طور پر تو لوگوں کو مصروف کر دیا ہے مگر باطنی طور پر کھوکھلا کر دیا ہے، ایسی مصروفیات فراہم کر رہا ہے کہ لوگوں کو نماز کے وقت کا احساس ہی نہیں اور اسی مصروفیت کی تحت آ کر ہم نماز کے وقت کو مؤخر کرتے رہتے ہیں یہاں تک کہ وقت ہی گزر جاتا ہے، سوشل میڈیا کی لت سے انسان رفتہ رفتہ روحانی سکون سے محروم ہوتا جارہا ہے ۔
" دلوں کا سکون اللہ کے ذکر میں ہے"
اور جب دل اللہ کے ذکر سے خالی ہو جاۓ تو پھر نماز بوجھ محسوس ہونے لگتی ہے اور یہی احساس نماز ترک کرنے کی طرف پہلا قدم بنتا ہے۔

• اثرات:

معاشرے میں بے نمازیوں کے بڑھتے رجحان کے اثرات محض فرد کیلۓ ہی نہیں بلکہ پورے معاشرے کیلۓ نقصان دہ ثابت ہو رہا ہے۔عملی زندگی پر اثر انداز ثابت ہونے کے ساتھ ساتھ معاشری سطح پر اجتماعی نظام کو بھی تباہ و برباد کر رہا ہے۔
جہاں مسجدوں کی رونقیں کم ہو رہی ہیں وہیں لوگوں کے مسجدوں میں نا آنے سے باہمی ربط اور خیر خواہی گھٹ رہی ہےجس سے لوگوں کے خود غرض و بے حس ہونے کا خدشہ رہتا ہے ، ایسے معاشرے میں پھر امن و سکون باقی نہیں رہتا اور لوگ ایک دوسرے کے حقوق اور سکون کا خیال رکھنے کے بجاۓ ذاتی مفاد کو ترجیح دینے لگتے ہیں۔
نماز چونکہ صبر، شکرگزاری، عاجزی اور خود احتسابی کی تعلیم دیتی ہے اسئے نماز سے دوری فرد کو بد اخلاق اور چڑچڑا بنا دیتی ہے۔
نماز نہ صرف اللہ سے تعلق مضبوط کرواتی ہے بلکہ انسان کو برائیوں اور بے حیائیوں سے بچا کر ایک صالح اور با اخلاق فرد بنانے میں ایک بنیادی کردار ادا کرتی ہے۔ جیسا کہ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔
ان الصلوة تنھی عن الفحشاء والمنکر
"بیشک نماز برائی اور بے حیائی سے روکتی ہے" (العنکبوت ۴۵ )
اور بے نمازی ہونے سے جب یہ روک ختم ہو جاۓ تو جھوٹ،بے حیائی، حسد، تکبر اور دھوکہ جیسے اخلاقی امراض جنم لینے لگتے ہیں یوں انسان آہستہ آہستہ اللہ کے قرب کی لذت سے محروم ہو جاتا ہے اور کرتے کرتے اس نتیجے تک پہنچ جاتا ہے کہ اپنے ہی ہاتھوں اپنی آخرت برباد کر لیتا ہے "اور جو مصیبت تم پر آتی ہے وہ تمھارے اپنے ہاتھوں کی کمائی ہے" سورةالشوریٰ (۳۰)
ایسے لوگوں پر پھر اللہ کی مدد اور حفاظت نہیں ہوتی جسکی وجہ سے ان کو دنیاوی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور رزق و دولت میں برکت نہیں ہوتی جس کے باعث وہ اپنی محنت کے مطابق فائدہ نہیں اٹھا پاتے۔
اس کے علاوہ بے نمازی نئی نسل پر بھی منفی اثرات ڈالتے ہیں،جب بچے اپنے بڑوں کو نماز سے غافل ہوتا دیکھتے ہیں تو ان میں بھی دینی اقدار کی اہمیت کم ہو جاتی ہے اس طرح دین سے دوری ایک نسل سے دوسری نسل تک منتقل ہو جاتی ہے، جو مستقبل کیلئے نہایت ہی خطرناک رجحان ثابت ہو سکتاہے ۔

•عملی حل:

اصلاح کی ابتدا پہلے خود سے کرنا چاہئے کیونکہ لوگ باتوں سے زیادہ عمل سے متاثر ہوتے ہیں۔ اگر ہم خود نماز کے پابند، شوقین اور خشوع و خضوع والے ہونگے تو کوشش سے زیادہ ہمارا عمل دعوت بن جائیگا۔
" ہمیں خود نماز کا نمونہ بننا ہے"
آج ضرورت ہے نماز کو محض رسم اور اختیاری عمل نہیں بلکہ دین کی بنیاد اور زندگی کی ضرورت سمجھنے کی۔
اس سلسلے میں اساتذہ اکرام اور دینی رہنماؤں کو اپنا مؤثر کردار ادا کرنا ہوگا نماز ترک کرنے والوں کو یہ بتایا جاۓ کہ مسجد صرف ایک عمارت نہیں بلکہ عبادت اور تربیت کا مرکز ہے، اپنی تقریروں اور خطبات میں نماز کی اہمیت پر زور دے کر لوگوں کو نماز کی اہمیت سے آگاہ کرنا چاہئے۔
اس بڑھتے رجحان کو ختم کرنے کے لئے محض تنقید کافی نہیں بلکہ اجتماعی طور پر بہت مضبوط دلائل اور حوالہ پیش کرنا چاہئے۔
طریقہ کار ڈانٹ، طنز، سختی اور زبردستی والا نہ ہو کر بلکہ محبت، حکمت اور عملی مثالوں کے ذریعے سمجھانے والا ہونا چاہئے۔
ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیشہ نرمی اور محبت سے لوگوں کا دل جیتا ہے، ہمیں اسی سنت طریقہ اپنا کر محبت اور اعتماد کے ساتھ گفتگو کرنی ہے۔
گفتگو کی شروعات اچھے انداز سے کریں،
فوراً سے ہی نماز کا ذکر نا چھیڑیں اس سے نوجوان اور دور بھاگتے ہیں۔
ان کا حال احوال پوچھ کر ان کو اپنے اعتماد میں لیں ، ان سے پوچھیں کہ نماز نا پڑھنے کی وجہ کیا ہے، ایسی کون سی مصروفیات ہے جو نماز کے آڑے آتی ہے۔
اور صرف اپنی ہی باتوں کو ان پر مسلط نا کریں بلکہ تحمل اور صبر کے ساتھ ان کو سننا بھی مقصد ہو نا کہ بحث کرنا۔
بے نمازی ہونے کے انجام میں دوزخ کی چوڑائی اور لمبائی بتانے کے ساتھ ساتھ ان کو یہ بھی بتایا جاۓ کہ ابھی دیر نہیں ہوئی رجوع اور توبہ کا دروازہ ابھی بھی کھلا ہے۔
والدین کو بھی اس سلسلے میں بخوبی اپنا کردار ادا کرنا ہے اپنے بچوں کو بچپن سے ہی نماز کی اہمیت سکھائیں، ان کو بتائیں کہ نماز نا پڑھنے سے اللہ ناراض ہوتا ہے قرآن کہتا ہے:
وامر اھلك الصلوة واصطبر علیھا
" نماز کا حکم دو اپنے اہل و عیال کو اور اس پر ثابت قدم رہو" (سورہ طٰهٰ ١٣٢)
نماز کو ایک بوجھ نہیں بلکہ روحانی سکون، قوت، سہارا اور کامیابی کے راستے کے طور پر پیش کرنا ہے۔
بے نمازی کا بڑھتا رجحان انسان کو آخرت کے سخت عذاب کی طرف دھکیل رہا ہے۔
اس صورتحال سے بچنے کیلئے ضروری ہیکہ ہمیں لوگوں کو نماز کی دعوت دینے کا کام جاری رکھنا ہے نماز کی اہمیت نہ صرف زبانی اور جزباتی بلکہ عملی طور پر اجاگر کرنا ہے۔
اپنے گھروں، تعلیمی اداروں اور مسجدوں میں نماز کی پابندی کو فروغ دیا جاۓ تاکہ ایک صالح اور پرامن معاشرہ تشکیل دیا جا سکے۔

آخر میں بس اتنا کہوں گی دلوں کی ہدایت اللہ کے ہاتھ میں ہے ہمیں بس مسلسل دعا، صبر اور یقین کے ساتھ دعوت دینے کا عمل جاری رکھنا ہے اگر صبر اور یقین کے ساتھ دعوت دی جاۓ تو اس بڑھتے رجحان پر قابو پایا جا سکتا ہے۔
(ان شاء اللہ تعالیٰ)
جزاکم اللہ خیرا کثیرا ✨