گزشتہ روز ایک دوست نے ایپسٹین جیفری کے کیسز میں ملوث ملزمان کے نام کی ایک لسٹ بھیجی ۔
میںرے موبائل فون سے وہ لسٹ کہیں کھو گئی میں نے ایک سرسری سی نظر ڈالی تھی ۔
ان میں متحدہ عرب امارات کے کئی امیروں کے نام اور مکمل معلومات درج تھیں کاش وہ گم نہ ہوتی ۔
کاش تم ہوتے
تو یہ سب کچھ نہ ہوتا
یہ لسٹ اگر مل جاتی تو اس پر لکھنے کا مزہ ہی کچھ اور تھا مگر خیر ۔
میں یہ سوچ رہا تھا کہ غزہ پیس کی حمایت میں کئی سنجیدہ شخصیات کیوں انوالوہورہی ہیں ۔
آخر ٹرمپ ہی کیوں ہر کسی کا منظور نظر ہے ۔
معلوم ہوا کہ جناب کے گہرے مراسم تھے ایپسٹین جیفری کے ساتھ ۔
اور انہوں نے ملکر بلیک میل کیا ہوا تھا۔ایپسٹن جیفری کے پیچھے کی طاقت کوئ اور ہی ہے۔
دنیا میں امن پرستی کا درس دینے والا بھترین آلو نیتن یاہو ۔ مودی ڈرامے باز کا پارٹنر اور یہ دونوں جنہوں نے مل کر اس عالم کو بے وقوف بنانے کی قسم کھائی ہے ان سب کے تانے بانے ایک ہی سرے سے ملتے ہیں ۔
چاہے وہ اسلامی حکمران ہوں یا دوسرے ۔
غرض یہ کہ آپ جب ان کو ایک دوسرے کا احترام کرتے ہوئے پائیں ۔تو آپ دال میں کچھ کالا نہ بلکے دال مکمل طور پر ہی کالی سمجھیں
آخر قطر کیوں بھترین جہاز تحفے میں دے رہا ہے ؟
سعودی بادشاہ کیوں مسلم بچیوں کو کھلے بالوں کے ساتھ ٹرمپ کے استقبال کے لئیے لیے کھڑا ہے ؟
ٹرمپ نے پاکستان سے صرف اتنا ہی کہا کہ غزہ پیس میں شامل ہو جاؤ تو وہ اچھے بچوں کی طرح لبیک کہتے ہوئے جا ملا
یہ ہوس کے پجاری کیا فاتح قدس بنے گے ؟
اے امت مسلمہ آپ ہی کچھ سوچو اور ان درندوں سے بغاوت کرو ۔اس سے پہلے کے تمہاری نسل کی نسل تباہ ہو ۔
آج ہی سے عزم کرو ٫ پکا عزم
٫