🔴ایپسٹین نے غلافِ کعبہ کیوں منگوایا؟🔴
یہ بات بظاہر سمجھ سے بالاتر ہے کہ جیفری ایپسٹین جیسے شیطان کو غلاف کعبہ کی کیا ضرورت تھی اور 2017ء میں اس نے کیوں اسے حاصل کرنے کی درخواست کی؟
محمود علام کہتے ہیں کہ ایپسٹین کی 3 ملین دستاویزات میں کچھ چیزیں نہایت پراسرار اور حیران کن ہیں۔ تو آئیے، ان چونکا دینے والے حقائق پر بات کرتے ہیں، جن پر شاید آپ نے ابھی تک پوری توجہ نہیں دی یا جن کی اہمیت اور موجودہ عالمی واقعات سے وابستگی آپ ابھی پوری طرح سمجھ نہیں پائے۔ 
خوفناک ای میلز سیریز:
یہ دستاویز ای میلز کی ایک طویل سلسلہ وار خط و کتابت ہے، جس کا ذکر پڑھتے ہی دل پر عجیب سی گھبراہٹ طاری ہو جاتی ہے۔ یہ ای میلز 2017 کی ہیں اور ان میں ایک غیر معمولی شپمنٹ کا ذکر ہے جو سعودی عرب سے امریکہ بھیجی جا رہی تھی۔ سرکاری کاغذات میں اس شپمنٹ کو فریم شدہ آرٹ کے نمونے (Framed Art Pieces) قرار دیا گیا، لیکن ای میلز کے مطابق، اس کا اصل مواد کچھ اور ہی تھا…
یہ شپمنٹ دراصل غلافِ کعبہ (کسوة الكعبة) کے تین ٹکڑوں پر مشتمل تھی! پہلی ای میل بدھ، یکم فروری 2017 کو New Shipment کے عنوان سے بھیجی گئی، بھیجنے والے کا نام عبداللہ المعری اور موصول کنندہ: ڈیفنی والاس (Daphne Wallace) اور کاپی میں شامل: کارینا شولیاک (Karina Shuliak)
اور اگر آپ نہیں جانتے تو بتا دوں کہ کارینا شولیاک، جیفری ایپسٹین کی قریبی دوست تھی، جس سے وہ شادی کا ارادہ رکھتا تھا اور بزنس انسائیڈر (Business Insider) کی رپورٹ کے مطابق، ایپسٹین نے اپنی دولت، محلات اور دنیا بھر کی جائیدادوں کا بڑا حصہ اس کے نام کرنے کا منصوبہ بنایا تھا۔
🟣 ای میل میں کیا لکھا تھا؟
ای میل کے مطابق، یہ شپمنٹ براہِ راست جیفری ایپسٹین کے جزیرے پر بھیجی جا رہی تھی اور یہ سب عزیزة (Aziza) نامی ایک خاتون کی ہدایات پر ہو رہا تھا۔ ای میل کے ساتھ ایک فائل منسلک تھی، جس میں ہر ٹکڑے کی تفصیل درج تھی:
🔹 پہلا ٹکڑا: کعبہ کے اندرونی حصے سے لیا گیا
🔹 دوسرا ٹکڑا: بیرونی غلاف کا وہ حصہ جو استعمال میں رہا، جسے حجاج و زائرین عملاً چھوتے ہیں
🔹 تیسرا ٹکڑا: اسی خام مال سے تیار کردہ، مگر استعمال میں نہ آیا ہوا
❓ اب سوال یہ ہے:
یہ عزیزة کون ہے، جس نے غلافِ کعبہ جیسی مقدس چیز ایپسٹین جیسے شیطان کو بھیجنے کی ہدایت دی؟
🔵 اور اب اصل حیرت…
یہ خاتون ہے عزیزة الاحمدی، سعودی شہریت رکھنے والی اور متحدہ عرب امارات میں مقیم۔ دبئی میں ایک ویڈیو گیمز کمپنی Boss Bunny Games کی مالک۔ آپ پوچھیں گے کہ مجھے یہ کیسے معلوم ہوا؟ تو اس لیے کہ اسی عورت نے خود ایپسٹین کو ای میل لکھی، جس میں وہ اس “عظیم تحفے” پر فخر کا اظہار کر رہی تھی!
🟡 اس ای میل میں اس نے لفظ بہ لفظ لکھا:
“ویسے، اس سیاہ کپڑے کے ٹکڑے کو کم از کم ایک کروڑ (10 Million) مسلمان چھو چکے ہیں، مختلف مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے، سنی، شیعہ اور دیگر۔ وہ کعبہ کے گرد سات چکر لگاتے ہیں اور ہر ایک پوری کوشش کرتا ہے کہ اس ٹکڑے کو چھو سکے۔ لوگوں نے اپنی دعائیں، امیدیں، آنسو اور تمنائیں اس پر رکھیں،
اس یقین کے ساتھ کہ ان کی دعائیں قبول ہوں گی۔”
کچھ ہی عرصے بعد، اسی عورت کا نام دیگر ای میلز میں سامنے آتا ہے، جہاں بھاری مقدار میں DNA (ڈی این اے) سیمپلز دبئی منتقل کرنے کی بات ہو رہی ہے۔
🟠 اب سوال آپ سے:
ایپسٹین کو غلافِ کعبہ کے وہ ٹکڑے کیوں درکار تھے جنہیں لاکھوں نہیں بلکہ کروڑوں مسلمان چھوتے ہیں؟ اور اس نے ان کا کیا استعمال کیا؟
میں جواب آپ پر چھوڑتا ہوں… بس اتنا یاد دلا دوں کہ ایپسٹین اور اس کے جزیرے پر آنے والے افراد پر بچوں سے متعلق شیطانی رسومات (Satanic Rituals) اور انسانی قربانیوں جیسے الزامات لگتے رہے ہیں، جن کا ذکر میں پچھلے حصے میں کر چکا ہوں۔
🔹 یعنی یہ شخص غیر معمولی اور پراسرار رسومات سے بالکل بھی دور نہیں تھا۔ میں جادو کا لفظ استعمال نہیں کروں گا، مگر ذہن میں ایسے خیالات آنا فطری ہیں۔
اس کے علاوہ وہ جینیاتی ترمیم (Genetic Modification) اور انسانی تجربات میں بھی دلچسپی رکھتا تھا۔ کچھ فائلز کے مطابق، وہ اپنے DNA کو انسانوں میں پھیلانے کا خواب دیکھتا تھا تاکہ ایک “برتر نسل” (Superior Race) تخلیق کی جا سکے۔
یہ خیالات اس نے سائنسدانوں اور ارب پتی افراد کے ساتھ بھی شیئر کیے اور نیو میکسیکو میں موجود اپنے ایک فارم کو ان تجربات کا مرکز بنایا۔
یہ سب کچھ نیویارک ٹائمز (New York Times) نے 2019 میں شائع ہونے والی رپورٹس میں بھی ذکر کیا تھا۔
(نوٹ: یہاں جو بھی موضوعات ہیں ان کی کوئی حتمی تصدیق نہیں ہے، یہ صرف دستاویزات کے تجزیے پر مبنی ہیں، آپ کی صوابدید پر ہے کہ مانیں یا نہ مانیں)۔
(جاری ہے)