علم کے بغیر عمل: نیکی یا فتنہ؟



نیکی کا جذبہ بظاہر ایک خوبصورت شے ہے، مگر سوال یہ ہے کہ کیا ہر نیکی واقعی نیکی ہی ہوتی ہے؟ یا بعض اوقات نیکی کا جوش، علم کی رہنمائی کے بغیر، خود ایک فتنہ بن جاتا ہے؟ یہی وہ سوال ہے جو آج کے دینی ماحول میں سنجیدہ غور و فکر کا تقاضا کرتا ہے۔

اسلام نے عمل کو بہت بلند مقام دیا ہے، مگر اس سے پہلے علم کو بنیاد بنایا ہے۔ علم وہ چراغ ہے جو عمل کے راستے کو روشن کرتا ہے۔ جب عمل علم سے خالی ہو جائے تو نیت چاہے کتنی ہی اچھی کیوں نہ ہو، نتیجہ درست نہیں نکلتا۔ تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ بہت سے گمراہ فرقے اور بگاڑ اسی وقت پیدا ہوئے جب اخلاص تو تھا، مگر فہم نہیں تھا۔

آج ہم ایک ایسے دور میں جی رہے ہیں جہاں نیکی کرنے کی جلدی تو بہت ہے، مگر سیکھنے کا صبر کم ہو گیا ہے۔ لوگ بغیر سمجھے عمل کرتے ہیں، بغیر تحقیق بات پھیلاتے ہیں، اور بغیر سوچے دوسروں کو نیکی کا معیار سمجھانے لگتے ہیں۔ یہی وہ مقام ہے جہاں عمل عبادت کے بجائے خرابی کا سبب بن جاتا ہے۔


علم کے بغیر عمل کا سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ انسان خود کو حق پر سمجھنے لگتا ہے۔ جب فہم کمزور ہو اور یقین مضبوط، تو اصلاح کے دروازے بند ہو جاتے ہیں۔ ایسے میں نصیحت دشمنی لگتی ہے اور سوال گستاخی محسوس ہوتا ہے۔ حالانکہ دین تو سوال، فہم اور حکمت کا نام ہے۔

یہ بات بھی سمجھنا ضروری ہے کہ علم کا مطلب صرف کتابیں پڑھ لینا نہیں، بلکہ:
مسئلے کی حقیقت جاننا
اس کا دائرہ سمجھنا
اور اس پر عمل کی صحیح صورت اختیار کرنا
یہ سب علم ہی کے دائرے میں آتا ہے۔

اسلام ہمیں یہ توازن سکھاتا ہے کہ نہ صرف جاننا کافی ہے اور نہ ہی صرف کرنا۔ صحیح علم کے ساتھ کیا گیا عمل ہی اصل نیکی ہے۔ ورنہ وہی عمل، جو ثواب کا ذریعہ بن سکتا تھا، فتنہ اور اختلاف کا سبب بن جاتا ہے۔

آخر میں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ:
علم کے بغیر عمل اندھی نیکی ہے،
اور اندھی نیکی اکثر راستہ نہیں،
بلکہ گمراہی دکھاتی ہے۔

دانشمندی اسی میں ہے کہ ہم نیکی کے شوق کو علم کی رہنمائی کے ساتھ جوڑیں، تاکہ ہمارا عمل واقعی اللہ کے قریب کرنے والا بنے، نہ کہ ہمیں خود ہی راستے سے ہٹا دے۔