عشق کیا چاہتا ہے؟
عشق کُچھ مانگتا نہیں ہے ------------ عشق تو خود کو مانگتا ہے
عشق یہ چاہتا ہے کہ
بندہ اپنی انا کو چھوڑ دے
اپنی خواہشات کو پورا کرنا بھول جائے
اپنے محبوب کو راضی کرنے کے لیے خود کو مٹا دے
محبوب کی رضا میں راضی ہو جائے
شکایت کے بجائے صبر اختیار کرے
ہر دین پر قناعت اختیار کرے
دعوؤں کے بجائے عمل دکھائے
لفظوں کے بجائے وفا نبھائے
سچا عشق قربانی چاہتا ہے،،صبر چاہتا ہے ،،خاموشی میں بھی وفاداری چاہتا ہے عشق کو دولت نہیں چاہئے شہرت نہیں چاہئے
صرف دل کی سچائی اور اخلاص چاہیے
عشق حقیقی ہو تو پھر یہی چاہیئے
اور محبوب چاہتا ہے بندہ ہے چیز کو چھوڑ کر
اللہ کی طرف لوٹ ائے
اپنی خواہشات کو قربان کرے
اور اپنے رب کے حکم میں جینا سیکھ لیں
یاد رکھیں عشق میں کوئی تیسرا نہیں ہوتا
بس میں اور میرا رب درمیان میں کوئی حائل نہیں
مختصر یہ کہ
عشق خود سپردگی چاہتا ہے مکمل،،بے شرط،،،بے غرض
بنت محمد رافع