عنوان :
اسلام پاکیزہ مذہب ہے جس کی بنیاد روحانی اور ایمانی طاقت پر رکھی گئی ہے۔ یہ انسان کے عمل سے مزین ہو کر زندگی میں ایک عظیم تبدیلی کا سبب بنتی ہے۔ جب انسان کے اندر ایمانی حرارت بیدار ہوتی ہے تو وہ دنیا اور آخرت میں کامیابی کی طرف گامزن ہو جاتا ہے اور ترقی کے زینے طے کرتا چلا جاتا ہے۔
راقمہ الحروف کو مسلمانانِ ہند سے درد مندانہ گزارش ہے کہ اب وقت آ گیا ہے کہ ہم دل جمعی کے ساتھ اپنی اصل روحانی اور ایمانی بنیادوں کی طرف لوٹیں اور اسلام کی حقانیت اور رب العزت کی وحدانیت کا برملا اعلان کریں۔جس سے ملت کی علمی و عملی زندگی قانون مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے سایے میں بسر ہو اور خاص طور پر مسلم خواتین کفر سے بچ جائیں یار رکھیں کہ ہر انسان اپنے آپ میں ایک ذمہ دار ہے اور ہر ذمہ دار سے اس کی ذمہ داریوں کے بارے میں عند اللہ سوال ہوگا۔ اس لیے مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ اپنی زندگی کو دو اہم نکات کا حصہ بنائیں:
1. اسلامی روح اور ایمانی طاقت کی بیداری:
انسان کی سب سے بڑی طاقت اور قوت اس کا ایمان ہے جو اسے ہر مشکل سے نکلنے کا راستہ دیتا ہے اللہ رب العزت فرماتا ہے:
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اسْتَعِیْنُوْا بِالصَّبْرِ وَ الصَّلٰوةِؕ-اِنَّ اللّٰهَ مَعَ الصّٰبِرِیْنَ
[البقرۃ : 153]
ترجمۂ کنز الایمان:
اے ایمان والو صبر اور نماز سے مدد چاہو بیشک اللہ صابروں کے ساتھ ہے۔
یہ وہ آیت کریمہ ہے جو تمام انبیاء کرام علیہم السلام نے باری باری اپنے امتیوں کو پیش فرمائی۔ اس کے ذریعے تمام انبیاء علیہم السلام نے قیامت تک آنے والی نسلوں کو یہ پیغام دے دیا کہ ایمان کی مضبوطی صبر میں پوشیدہ ہے۔ یہ مضبوطی اس قدر طاقت ور ہے کہ انسان کو زندگی کے ہر موڑ پر ثابت قدم رہنے کا درس دیتی ہے۔
2. جدوجہد، فراخ دلی اور اولوالعزمی
زندگی کے جس شعبے سے تعلق ہو، سب سے پہلے اس بات کا خیال رکھیں کہ وہ شعبہ حدودِ الٰہی کے مطابق ہو۔ کسی ایسی جگہ قدم نہ رکھیں جہاں حدودِ الٰہی کو پامال کیا جاتا ہو۔ جب آپ کسی جائز شعبے میں قدم رکھیں تو اس کے اصولوں پر پوری جدوجہد کریں، بڑے بڑے مقاصد کو جنم دیں اور قربانیاں پیش کرنے کا حوصلہ پیدا کریں۔
اگر راستے میں خطرات درپیش ہوں تو بھی اپنے ایمان و عقیدے کا سودا نہ کریں۔ یاد رکھیں کہ اگر ان خطرات کے دوران آپ کے دینی امور میں صلاحیت پیدا ہو رہی ہے تو یہ ایک اہم مرحلہ ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
لَهٗ مُعَقِّبٰتٌ مِّنْۢ بَیْنِ یَدَیْهِ وَ مِنْ خَلْفِهٖ یَحْفَظُوْنَهٗ مِنْ اَمْرِ اللّٰهِؕ-اِنَّ اللّٰهَ لَا یُغَیِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتّٰى یُغَیِّرُوْا مَا بِاَنْفُسِهِمْؕ-وَ اِذَاۤ اَرَادَ اللّٰهُ بِقَوْمٍ سُوْٓءًا فَلَا مَرَدَّ لَهٗۚ-وَ مَا لَهُمْ مِّنْ دُوْنِهٖ مِنْ وَّالٍ
[الرعد: 11]
ترجمۂ کنز الایمان:
آدمی کے لیے بدلی والے فرشتے ہیں اس کے آگے اورپیچھے کہ بحکمِ خدا اس کی حفاظت کرتے ہیں بیشک اللہ کسی قوم سے اپنی نعمت نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنی حالت نہ بدل دیں اور جب اللہ کسی قوم سے برائی چاہے تو وہ پھر نہیں سکتی اور اس کے سوا ان کا کوئی حمایتی نہیں۔
اللہ کے رسول صلی اللہ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
طاقت ور مومن کمزور مومن سے بہتر ہے اور اللہ کو زیادہ محبوب ہے۔
[صحیح مسلم:کتاب الایمان، حدیث:2664]
فی زمانہ مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ اپنی ملت کے لیے زیادہ سے زیادہ اقدامات اٹھائیں۔ اگر ملت کسی مسئلے سے پریشان ہیں تو اس کے حل کے لیے انفرادی واجتماعی طور پر کوشش کریں، کیوں کہ یہی حقیقی اسلامی زندگی کا نمونہ ہے جو اخوت، مساوات اور قربانی کی بنیاد پر قائم ہے۔
المختصر، وقت آ گیا ہے کہ ہم اپنے ایمان کی طاقت کو بیدار کریں اور اپنے ذاتی مفادات کو ترک کر کے ملت کے مفادات کو ترجیح دیں۔
اللہ رب العزت سے دعا گو ہوں کہ مولا کریم مسلمانوں کو اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین، یا رب العالمین۔